آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

یومِ آزادی کی قید میں ۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

ادھرعوام اچھل کود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ادھر مرد و زن کا ایک خاص طبقہ جس کی باآسانی سٹیریو ٹائپنگ کی جاسکتی ہے متحرک ہوجاتا ہے- اکّا د کّا انگریزی اخبارات اور سماجی ابلاغ کے ذرائع سے قوم کی سوچ منتشر کرنے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے

- Advertisement -
اہلِ پاکستان نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم اپنا یومِ آزادی ہر سال ۱۴ ؍ اگست کو منائیں گے- بس فیصلہ کرلیا سو کرلیا -۱۹۴۹ ء سے یہی سلسلہ چلا آرہا ہے- کسی بھی قوم کو یہ اختیار ہے کہ وہ کثرتِ رائے سے ایک فیصلہ کرلے کہ وہ کس تاریخ کو اپنا قومی دن مناتی ہے اور اس پر قائم رہے-
 
نصف صدی تک تو کوئی سوال نہیں اٹھا- لیکن اللہ غارت کرے جنگ و جدل کی اس پانچویں نسل کو کہ پچھلے کچھ برسوں میں ہمارے قومی حقائق اور تاریخوں کے بارے میں ایک منظم انداز سے سوالات اٹھائے جانے لگے اور من حیث القوم ہم بجائے ان سوالات کو وہیں کے وہیں رد کردیتے آسانی سے اس جال میں پھنس کر اور بحث مباحثہ میں مبتلا ہوکر لاعلمی میںان مذموم سازشوں کی ترویج کا ذریعہ بننے لگے-
 
ترویج ان سوالات کی ہونے لگی کہ پاکستان ۱۴؍ اگست کو آزاد ہوا یا ۱۵ٖ کو؟ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی پیدائش کراچی میں ہوئی یا نہیں؟ قائدِ اعظم کی تنخواہ کتنی تھی؟ پاکستان کا یہی پہلا قومی ترانہ تھا یا کوئی اور؟ پھر ایک اور بدقسمتی یہ ہوئی کہ ایسے قومی رہنما جنہیں محض گردشِ حالات نے رہنما بنادیاکے چیلوں نے ان طالع آزماؤں کا موازنہ قائداعظم سے کرنا شروع کردیا
یہ ایک ایسی مذموم کوشش ہے کہ خود ان رہنماؤں کو اس موازنے کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیے لیکن کم ظرفی کا عروج ہے کہ وہ بھی اس میں خوش ہیں کیونکہ اپنی تو کوئی اوقات ہے نہیں-مسئلہ یہ ہے کہ ہم سارا سال اخلاق ، قانون ، نظم و ضبط سے آزاد رہتے ہیں اور کسی ٹی وی چینل کی میزبان کے مضحکہ خیز الفاظ میں’’ ۱۴؍ اگست کی چاند رات‘‘ آتے ہی اچھل کود میں مصروف ہوجاتے ہیں-

ادھرعوام اچھل کود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ادھر مرد و زن کا ایک خاص طبقہ جس کی باآسانی سٹیریو ٹائپنگ کی جاسکتی ہے متحرک ہوجاتا ہے- اکّا د کّا انگریزی اخبارات اور سماجی ابلاغ کے ذرائع سے قوم کی سوچ منتشر کرنے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے-

مندرجہ بالا سوالات کے مبتدا کے بارے ذرا سی تحقیق کی جائے تو بڑی دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے-پیدا دیسی ماں باپ کے ہاں ہوئے، پرورش بدیسی انداز میں ہوئی، برطانوی راج کے خاتمے کے تہتر سال بعد بھی اسی دنیا میں غرق خواہ اپنی آنکھوں سے وہ دور ہی نہ دیکھا ہو لیکن مصر اس بات پر کہ اس دور کی تاریخ دوبارہ اپنی خواہش کے مطابق اپنی دانست میں درست کرکے دوبارہ لکھیں گے-
 
لکھیں گے کیا؟ ذہن تو اس بات کا عادی ہے کہ نظم و ضبط اور مہرووفا کوجبر اور قید سمجھتا ہے اورطاقت اور دولت کے سامنے سر ٹیکنے کو تیار-اس صورتحال میں ایک فرد اس قدر ضرر پذیر ہوجاتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے وقتی مفاد کی خاطر بلا سوچے سمجھے کسی بھی کام کا انجام جانیں بغیر آلۂ کار بننے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے-اب درا سوچیے کہ اس بحث کا کیا حاصل ہے کہابوالاثر حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے قومی ترانے سے پہلے پاکستان کا ایک قومی ترانہ تھا جسے جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا؟یہ شوشہ چھوڑا کس نے ؟ ۲۰۰۹ء میں ایک بھارتی انگریزی روزنامے ’’ھندو‘‘ نے مطالبہ چھاپا کہ’’جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا پاکستان کا ترانہ‘‘ واپس لاؤ-

ترانہ واپس لانے کے لیے پاکستان کے انگریزی میڈیا کے چند دہری شہریت رکھنے والے مردوزن یکدم مستعد ہوکر جت گئے- اور پاکستان کے قومی ترانے کی تاریخ ستر برس بعد اور آنجہانی جگن ناتھ آزاد کے گزرجانے کے بعد انتہائی ناقص حوالوں کی بنیاد پر دوبارہ لکھی جانے لگی-کسی عقل کے اندھے نے یہ تک نہیں سوچاکہ’’قومی ترانہ‘‘ کہتے کسے ہیں؟

 
قومی ترانہ وہی ہوتا ہے جسے حکومت قومی ترانہ قرار دے-حکومتِ پاکستان نے ابوالاثر حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے ترانے کے علاوہ کسی ترانے کو قومی ترانہ قرار نہیں دیا- بھارت کے صحافی لوپوری جن کا دعوی ہے کہ انہوں نے جگن ناتھ آزاد کے مرنے سے پہلے ان کا انٹرویو کیا تھا یا پاکستانی نژاد برطانوی کالم نگار، صحافی ،دانشوراور’’ امن کی آشا‘‘ نامی مہم کی پاکستان میں محرک بینا حسن سنی سنائی جو ان کے علاوہ کسی نے نہ سنی کا حوالہ دے کر یہ داستان کھڑی کرنا چاہتے رہے اور بری طرح ناکام ہوئے-
 
لیکن ناکام نہیں ہوتے ہمارے سماجی ابلاغ کے ذرائع پر چھائے ہوئے دانشور-اپنی تحریر پر درجنوں کی تعداد میں آراء وصول کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیںاس لیے باربار ایسے گھسے پٹے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں-لیکن ان سے زیادہ غیر ذمہ دار وہ ہیں جو اس تخریب کو نہیں روک سکے کہ جب راتوں رات اسلام آباد میں ہندوستان کے نقشے کے بینرز بجلی کے کھمبوں پر لگ جاتے ہیں، حفیظ جالندھری کی جگہ جگن ناتھ آزاد کی تصویر غلطی سے لگ جاتی ہے۔
اسلام آباد میں ایک مخبوط الحواس سابق مولوی اسرائیل کا جھنڈا لگا کر بیٹھ جاتا ہے، اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے اعلان کے بات یہ عقدہ کھلتا ہے کہ یہ مودی کے انتخابات کی مہم کا حصّہ تھاجس پر بھارت میں ترانے بجتے رہے ہیں کہ ’’بنے گا مودی راج میں مندر اسلام آباد میں ‘‘ اور ہمارے وزیرِ اعظم مودی کی انتخابات میں کامیابی کو پاکستان کے لیے خیر تصّور کرتے رہے-

راتوں رات پاکستان کے قومی میوزیم میں الیمیناٹی کا مجسمہ نصب ہوا اور احتجاج کے بعد غائب کردیا گیا – شاہی قلعے میں ان گنت مسلمانوں کے قاتل اور اسلامی شعائر کی بے حرمتی کرنے والے رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب ہوگیا-

 
کچھ بھی نصب ہوجائے اور کچھ بھی اکھڑ جائے، جس نے ایک بار کلمۂ شہادت پڑھ لیا وہ کتنا ہی بھٹکتا رہے ایک خلش ہوتی رہے گی اور جس نے سر زمینِ پاکستان پر جنم لیا خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم کتنا ہی باغی ہوجائے ایک کھٹک تو دل میں رہے گی-ایک گھٹن کا احساس رہے گا-ایک قید سی محسوس ہوگی-اس لیے ’’پاکستان زندہ باد‘‘کا نعرہ لگاؤ اور آزاد ہوجاؤ-
 

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

شرف  جامی

کالم نگار کا یہ مضمون بھی پڑھیے

ہماری مدافعت اور برداشت – ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین