آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

ہم ہیں پاکستان’ ہم کشمیر ہیں – محمد زبیر ہنجوی

میرا ارض ِ وطن پاکستان وہ قلعہ ہے جس کی فصیل لاکھوں مقدس نفوس کی قربانی پر ایستادہ ہے

- Advertisement -
گھر کا تصور ہی کیا جائے تو راحت و امن اور تحفظ و سلامتی کا احساس رگ و پے میں دوڑنے لگتا ہے ۔ طمانیت و سکوں کی لہریں روح میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
 
امن،آزادی اور عزت سے زندگی گزارنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ایک فرد یا خاندان کے لیے محفوظ و مستحکم گھر اس حق کی ضمانت ہوتا ہے۔ اگر اس بنیادی حق کا اطلاق فرد یا خاندان کی بجائے قوم پر کیا جائے تو گھر ” وطن“ کا روپ دھار لیتا ہے۔ جی ہاں ” محفوظ و مامون وطن”۔ 
 
پاکستان ہمارا گھر ، ہمار وطن ہے۔ ہماری عزت و آن کا پاسبان اور ہماری حمیت و آبرو کا نگہبان! ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا پاسدار اور ہماری آٸندہ نسلوں کے ولولوں اور حوصلوں کا محور و مرکز!!
 
ہمارا وطن پاکستان حضرت اقبالؒ کی فکر کا ثمر اور قائد رحمۃ اللہ علیہ کی محنت کا حاصل تو ہے ہی تاہم یہ وہ چمن بھی ہے جو خونِ شہیداں کی خوشبو سے مہک رہا ہے، یہ وہ قلعہ ہے جس کی فصیل لاکھوں مقدس نفوس کی قربانی پر ایستادہ ہے۔ اس قلعہ کے گنبدوں میں ہماری ہزاروں عفت مآب ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی کئی دہائیوں سے گونجتی درد انگیز اور اندوہ ناک آہیں اور سسکیاں آج بھی بھارتی درندوں کے انسانیت سوز اور شرمناک مظالم کی داستانیں سنا کر ہماری روحوں کو چھید کر رہی ہیں۔
قارئینِ کرام! آج بھی ہمارے ازلی دشمن بھارت کی جارحیت کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم اور بے سکون کرنے کے اس کے غلیظ ارادے تبدیل نہیں ہوئے۔ مگر اسے خبر ہو کہ ہم اس کے ناپاک عزاٸم سے کبھی بے خبر نہیں رہے۔ ہم اپنے گھر کی حفاظت سے غافل نہیں ہیں۔ مکّار اور غلیظ دشمن ہماری مقدس سرزمین کو بھلا کیونکر پامال کرسکے گا۔ عیار مودی کیا بھول گیا ہے ابنِ قاسم کے ہاتھوں اپنے ظالم پتا داہر کی درگت! کیا اسے محمود غزنوی کی تلوار کی کاٹ یاد نہیں کہ جس نے سومنات کو پیوندِ خاک کردیا اور تاریخ میں بت شکن کے نام سے شہرت پائی۔
 
مودی اور اس کے چیلوں کو خبر ہو کہ ہم محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے جانشین ہردم تیار اور مستعد ہیں۔ ہماری تلواریں تیز اور گھوڑے لپکنے کے لیے بے قرار! ہماری مسلح افواج جذبہ ِٕ ایمانی سے سرشار ہیں۔ اللہ کی نصرت پر کامل یقین سے دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے مکمل صلاحیت و مہارت سے لیس چوکس کھڑی ہیں۔ اپنے وطن کے دفاع اور دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے کمر بستہ ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔
جب بات ہو رہی ہو دفاعِ وطن کی، ناموسِ وطن پر کٹ مرنےکی اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے قربان ہو جانے کی تو اپنے کشمیری بہن بھاٸیوں کو ہم کیونکر بھول سکتے ہیں جو درحقیقت ہماری بقا ٕ و سلامتی کے لیے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ لہٰذا ہماری بقا ٕ و حیات کشمیر کی مکمل آزادی سے وابستہ ہے۔ ہم اہلِ کشمیر اور ان کی جدوجہدِ آزادی سے کسی طور غافل نہیں رہ سکتے۔
 
اگرچہ بھارتی درندے کشمیر کے نہتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے نت نئے انداز آزما رہے ہیں۔ دہائیوں سے وحشت و بربریت کا کھیل ان سے کھیلا جارہا ہے تاہم اب یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ معصوم کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کی لازوال قربانیاں ضرور رنگ لاٸیں گی۔ اپنی آزادی کے لیے لہو سے جلائے گئے چراغوں کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔ غاصب و جابر دشمن سے آزادی کے حصول کے لیے دی جانے والی لاکھوں جانوں کی قربانیاں اب صلہ پانے کو ہیں۔ وادی کشمیر میں اب خزاں رتوں کا راج ختم ہونے کو ہے۔ اب یہاں بہار چھانے کو ہے۔
 
اہلِ کشمیر کو مژدہء بہار پہنچا دیا جائے کہ ان کی صعوبتوں کے ایام راحتوں میں ڈھلنے کو ہیں۔ اب ان کی شامیں اور راتیں آہوں اور سسکیوں میں نہیں گزریں گی بلکہ مسرت و انبساط ان کے ہاں خیمہ زن ہو گی۔ ان کو ان کی حقیقی منزلِ مراد یعنی آزادی جلد مل کے رہے گی۔ بس ابھی عزم و استقامت اور امید و یقین کے ساتھ آخری قدم اٹھانا ہوں گے۔ آزادی کی منزل کی جانب ہم ان کے ہم قدم ہیں کہ ان کی منزل ہماری منزل ہے۔ ہم یک جان و یک نفس ہیں ۔ جی ہاں! پاکستان کشمیر ہے اور کشمیر پاکستان ہے۔ ہم ہیں پاکستان ،ہم کشمیر ہیں۔
 
محمد زبیر ہنجوی گجرات

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین