خبر اور تجزیہ

امریکہ اور مغرب کیلئے کشمیر اور فلسطین کا حامی ترکی قابل ِ قبول نہیں ہے

امریکہ نے ترکی کے اس اقدام کو " منصوبہ بند اشتعال انگیزی" قرار دیا ہے۔ ترکی کے اقدام کو غنڈہ گردی قرار دینے والے یونان ، فرانس اور جرمنی کا غم و غصہ ترکی کی صورت میں ابھرنے والی نئی مسلم پاور سے خائف ہے

ناگورنوکاراباخ پرغاصبانہ قابض آرمینیا کو آذربائیجان کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست سے بچانے کیلئے امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ پر جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ابھی تک شدید جنگ جاری ہے۔ آرمینیا کی آذری شہری آبادیوں پر گولہ باری کے جواب میں آذربائیجان کے جنگی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیاروں سے چلنے والے میزائیل آرمینائی ٹینکوں ، ڈیفنس سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کی تباہی کا سبب بنے ہیں۔ 
 
عالمی اجارہ داری کیخلاف مضبوط مسلم طاقت ترکی سے خائف یورپ نے دباؤ ڈالنے کیلئے یہ رٹ لگا رکھی ہے کہ صرف ترکی کے مؤقف میں تبدیلی ہی تنازعہ کے تصفیہ کی راہ کھول سکتی ہے۔ جبکہ امریکہ اسرائیل اور یورپ کا کٹھ پتلی آرمینیا بھی اپنے آقاؤں کی تقلید میں کہہ رہا تھا کہ ترکی ہی آذربائیجان کو جنگ سے روک سکتا ہے۔ آرمینیائی وزیراعظم کے مطابق انہیں یقین ہے کہ جب تک ترکی کی حمایت جاری رہے گی آذربائیجان کی طرف سے جنگ جاری رہے گی
 
دوسری طرف بحیرہ روم میں امریکہ اور مغربی ممالک کے بھرپور دباؤ کے باوجود ترکی اپنی خود داری کے تحفظ کیلئے میدان میں اتر آیا ہے۔ ترکی نے امریکہ اور یورپی ممالک کی شدید مخالفت کے باوجود یونان کے قریبی متنازعہ سمندری علاقے میں تیل کی تلاش کیلئے اپنا بحری جہاز روانہ کر دیا ہے۔ جس کے بعد یورپی اتحاد اور سرپرست امریکہ نے ترکی سے اپنا تیل تلاش کرنے والا جہاز واپس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
۔
امریکہ نے ترکی کے اس اقدام کو ” منصوبہ بند اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے۔ ترکی کے اقدام کو غنڈہ گردی قرار دینے والے یونان ، فرانس اور جرمنی کا شدید غم و غصہ بتا رہا ہے کہ امریکہ اور مغرب کو ترکی کی صورت میں ایک ابھرتی ہوئی مسلم طاقت برداشت نہیں ۔ جبکہ ترکی نے سب اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اپنا بحری جہاز واپس بلانے سے انکار کر دیا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ تیل اور قدرتی وسائل کی تلاش کیلئے ہمارا بحری جہاز اورک ریس اگلے 10 دن تک سمندری سروے کرے گا۔ وزیر توانائی فاتح ڈانمیز کے مطابق اورک ریس وسائل کی تلاش کیلئے بحیرہ روم میں گیا ہے۔ اور اپنے سمندروں میں قدرتی وسائل کی تلاش کرنا ترکی کا قانونی حق ہے۔
 
تیسری طرف امریکہ اور یورپی اتحاد کی طرف سے ترکی کیخلاف اس اجتمائی دھونس کے ماحول میں ترکی کی طرف سے بحیرہ اسود میں روس سے خریدے گئے ایس – 400 اینٹی ایئرکرافٹ ڈیفنس سسٹم کا ٹیسٹگ پروگرام امریکہ کو شدید ناگوار گزرا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے ترکی کی روسی ایس – 400 ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی شدید مخالفت کی تھی۔ جس سے ترکی کے امریکہ ، نیٹو اتحادیوں اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں شدید تناؤ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ جبکہ عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق بھی یہ تنازعہ کسی بڑے جنگی تنازعہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایس – 400 ائر ڈیفنس سسٹم کیا ہے؟

زمین سے فضا میں میزائیل داغنے والے ایس – 400 ائر ڈیفنس سسٹم کا راڈار سسٹم طیاروں یا میزائیلوں کو بروقت دیکھ اور ٹریک کرسکتا ہے۔ اس کے ملٹی پل میزائل 400 کلومیٹر تک ملٹی پل اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ امریکی پیٹریاٹ سسٹم ایک وقت میں ایک میزائل فائر اور 100 کلومیٹر تک ایک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایس – 400 نیچی یا انتہائی بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ ان تیز رفتار میزائیلوں کو بھی تباہ کرسکتا ہے جو چکمہ دیکر چلتے ہیں۔ اس کے میزائیل ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے آواز کی رفتار سے 14 گنا رفتار میں تیزی سے مڑنے کی صلاحیت کے ساتھ تباہ کر سکتے ہیں۔
 
ترکی کا امریکہ اور نیٹو اتحاد کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا دنیا کیلئے کسی بڑے جنگی تنازعہ کا باعث ہو سکتا ہے۔ ترکی کو امریکہ اور نیٹو ممالک کا اہم حلیف اور امریکی ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ترکی یہ جدید امریکی طیارے حاصل کرنے والوں میں پہلے نمبر پر شامل کیا گیا تھا۔ جبکہ اس وقت ترکی عالمی منڈی میں ایک جدید ڈیفنس سسٹم کی تلاش میں بھی تھا۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم بیچنے میں تذبذب نے اسے بالآخر روس سے ایس – 400 خریدنے پر مجبور کر دیا۔
 
ترکی سے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم ڈیل میں حیل و حجت کرنے والے امریکہ کی طرف سے ترکی کے روسی دفاعی نظام خریدنے پر شدید مذمت حیرت انگیز ہے۔ روسی ڈیفنس سسٹم خریدنے کے جرم میں امریکہ نے ترکی کو گذشتہ سال جولائی میں اپنے ایف 35 سٹیلٹھ فائٹر پروگرام ڈیل سے باہر نکال دیا تھا۔ امریکہ کو تشویش ہے کہ امریکی اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کا حصہ بننے والے ترکی نے ان امریکی سٹیلتھ طیاروں کو تباہ کرنے کیلئے ڈیزائن کردہ ایس – 4000 ڈیفنس سسٹم کیوں خریدا ہے۔
۔
امریکہ کو یہ بھی خدشات ہیں کہ امریکی اور مغربی غلامی سے آزاد فضا کی طرف جاتا ہوا ترکی مستقبل میں اس کے ایف – 35 سٹیلتھ طیاروں کی ٹیکنالوجی روس یا چین کو فراہم کر سکتا ہے۔ یا ترکی اور پاکستان کے درمیان اتحادی معاہدے کی صورت میں یہ طیارے امریکہ کے نئے اتحادی بھارت کیخلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ جبکہ غیر جانبدار مبصرین امریکہ اور مغربی ممالک کے ترکی سے اختلافات کا ذمہ دار خود اس امریکہ کو قرار دیتے ہیں ، جس نے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم ڈیل میں تذبذب غالباً ترکی سے تنازعہ شروع کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیا تھا۔
۔
  امریکہ اور مغربی اتحادیوں کا ترکی کا بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں گرجنا قبول نہیں ہے۔ اور مستقبل میں چین ، روس، ترکی اور پاکستان کا ممکنہ اتحادی بلاک امریکی تاجداری اور مغربی اجارہ داری کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ کورونا بحران میں عالمی چوہدراہٹ پر گرفت کھوتے ہوئے امریکہ اور اس کے معاشی بدحالی کا شکار مغربی اتحادیوں کیلئے ایک مسلمان ملک ترکی کا مونہ زور جنگی قوت بن کر ابھرنا ناقابل برداشت امر ہے۔
۔
آذربائیجان سے بحیرہ روم تک کی دم بدم بدلتی ہوئی صورت حال میں نوسٹراڈیمس اور نعمت شاہ ولی کی یہ یکساں نوعیت کی پیشین گوئیاں چشم کشا ہیں کہ دنیا کی تباہی کیلئے شروع ہونے والی آخری عالمی جنگ ایک سمندری تنازعہ سے شروع ہو گی۔ اور وہ ممکنہ تنازعہ بحیرہ جنوبی چین میں چین امریکہ اور بھارت کے مابین حالیہ جنگی تناؤ یا بحیرہ روم میں ترکی اور یونان کے مابین سمندری حدود کا تنازعہ بھی ہو سکتا ہے۔
تحریر : فاروق درویش
ALSO READ THIS  چین کے ساتھ اب ترکی بھی پاکستان کا ہم خیال اور حلیف بن رہا ہے
ALSO READ THIS  جرمن بحریہ کی طرف سے ترکی کے بحری جہاز کی تلاشی اشتعال انگیز ہے

تازہ ترین کالم

احتجاج کا گورکھ دہندہ ! کیا جمہوری نظام میں پاکستان کی بقا ہے ؟

احتجاج ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ جمہوریت کی ناجائز اولاد...

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ...

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق ایک اہم سنگِ میل...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

چین نیوز

چین نے ہندوستان کیخلاف ڈیموں کے واٹر بم کی دھمکی دے دی

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین...

چین نے ہندوستان کیخلاف ہولناک مائیکرو ویو ہتھیار استعمال کیے

چین کی رینمن یونیورسٹی کے انٹرنشنل ریلیشن کے وائس...

ترکی نیوز