آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

یورپ کی آخری سزائے موت کا انتظار کرتے میرے بھائی

ماں کہتی ہے، " خدا نہ کرے اگر میں نے انہیں کھو دیا تو میں زندہ نہیں رہوں گی۔ میں ان کے بعد زندہ رہنا ہی نہیں چاہتی"۔

- Advertisement -
بہت ممکن ہے کہ اب کسی بھی دن سزائے موت پر عمل کرنے والے واحد یورپی ملک میں دو مجرموں کو یہ سزا دے دی جائے، لیکن ان کے خاندان کو یہ کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ انہیں گولی کب ماری گئی اور انہیں کہاں دفن کیا گیا ہے۔
 
پانچ ماہ قبل ہانا کوسٹسیوا اس وقت عدالت میں تھیں جب ان کے دو بھائیوں سٹانسلا اور الیا کو، جن کی عمر انیس اور اکیس سال ہے، قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔
 
جب جج نے ’سزائے موت کی صورت میں غیر معمولی سزا کے اطلاق‘ کا فیصلہ سنایا تو عدالت میں موجود لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔’پہلے ایک پھر ایک اور پھر ایک اور جب تک پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ مجھے اس وقت ایسا لگا جیسے میری اپنی زندگی کو ختم کیا جا رہا ہو۔‘
 
ہانا کہتی ہیں کہ وہ اس کے بعد اس پنجرے کی طرف بڑھیں جس میں ان کے دونوں بھائی تھے۔ دونوں نے ہانا کے ایک ہمسائے کو قتل کرنے کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے سلاخوں کے باوجود انہیں گلے لگانے کی کوشش کی اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔
 
اس سب سے ایک ماہ پہلے بیلاروس کے صدر الیکزینڈر لوکاشینکو نے ایک روسی ریڈیو سٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کیس ان کے ذاتی کنٹرول میں ہے۔
 
’یہ گندگی کی طرح ہیں۔ ان کے لیے اور کوئی لفظ نہیں۔ انہوں نے ایک ٹیچر کا قتل کیا۔ صرف اس لیے کہ وہ ان کی بہن کے دو بچوں کو بچانا چاہتی تھی۔ ان کی بہن کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک غیر سماجی عنصر۔ وہ ٹیچر صرف ان بچوں کی حفاظت کرنا چاہتی تھی، ان کو اس خاندان سے دور کر کے۔ ان دونوں نے رات بھر اس پر چھریاں چلائیں۔‘
 
انہیں ملنے والی سزا کے خلاف دونوں بھائیوں کی اپیل کو بائیس مئی کو خارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے پاس صرف ایک راستہ بچا تھا، صدر سے رحم کی اپیل، بہت ممکن ہے کہ صدر دو جون کو اپنا فیصلہ کر چکے ہیں اور اگر فیصلہ انہیں معاف کرنے کا ہوتا تو اب تک خبروں میں شامل ہو گیا ہوتا۔
 
پچیس سال پہلے بیلاروس کی پہلی اور اب تک کے واحد صدر بننے والی لوکاشینکو نے اپنے دور میں صرف ایک بار رحم کی اپیل قبول کی ہے۔ جب دونوں بھائیوں کو سزا سنائی گئی تو ان کی والدہ ناٹالیا کوٹسیوا عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ اس کے پیچھے جو وجہ ہے باہر کے لوگوں کے لیے شاید اسے سمجھنا مشکل ہو۔
 
یہ کہانی انیس سال پہلے تب شروع ہوتی ہے جب ناٹالیا کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا سٹینسلا اس وقت پانچ ماہ کا تھا اور الیا دو سال کا۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ناٹالیا نے ایک ڈیئری فارم پر کام شروع کر دیا۔ اس کے بعد انہیں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام مل گیا جہاں انہیں گھر آنے میں دیر ہو جایا کرتی تھی۔ اکثر سٹینسلا، الیا اور ان کے بڑے بھائی کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ہانا کو نبھانی پڑتی، جو بھائی بہنوں میں سب سے بڑی تھیں۔
 
ناٹالیا کہتی ہیں کہ وہ جانتی ہیں کہ وہ ایک مثالی ماں نہیں تھیں۔ بچوں پر نظر رکھنے والے سوشل ورکرز جب ان کے گھر آتے تو گھر کے بنے کھانے کی تعریف بھی کرتے لیکن ساتھ ہے اپنے رپورٹ میں یہ بھی لکھتے کہ ناٹالیا نے شراب پی رکھی تھی۔
 
تیرہ سال اسی طرح گزرے۔ آخر کار جب سٹانسلا چودہ اور الیا سولہ سال کے تھے تو انہیں سکول نہ جانے اور جھگڑوں میں ملوث ہونے کے سبب گھر سے الگ کرکے بچوں کے ایک سرکاری ہوم میں داخل کر دیا گیا۔
 
بیلاروس میں جب سرکار بچوں کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے تو ان کے والدین، جو اس کیس میں ناٹالیا تھیں، اس کا خرچہ اٹھانا ہوتا ہے۔ ان پر اب بھی تقریبا چار ہزار ڈالر کا قرضہ ہے، جو ہر ماہ ان کی تنخواہ میں سے کاٹا جاتا ہے، اور یہ ابھی اگلی آٹھ سال تک چلے گا۔ یعنی وہ یہ قرضہ اپنے بیٹون کی موت کے بعد بھی چکاتی رہیں گی۔
 
یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے ناٹالیا مشرقی شہر موگیلیو میں مقیم اس جیل میں اپنے بیٹوں سے ملاقات کے لیے بھی نہیں جا سکیں جہاں وہ قید ہیں اور نہ ہی عدالت میں سنوائی کے دن موجود تھیں۔
 
ناٹالیا اور ہانا اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ دونوں لڑکے خونی ہیں اور انہیں سزا ملنی چاہیے۔ ان کی بہن ہانا کہتی ہیں، ’میں یہ ہرگز نہیں کہتی کہ جو انھوں نے کیا اس کا کوئی جواز تھا۔ وہ مجرم ہیں۔ کسی کی جان لینے کا حق کسی کو بھی نہیں۔ اس ایک لمحے میں انھوں نے کسی اور، خود اپنی اور ہماری زندگیاں بھی ختم کر دیں۔‘
 
یہ سب سٹینسلا کے اٹھارہویں جنم دن کی بعد ہی ہوا جب اسے سرکاری ادارے سے نکلنے کی اجازت ملی اور وہ ہانا کے ساتھ اسی گھر میں رہنے کے لیے گیا جہاں وہ سب بڑے ہوئے تھے، روسی سرحد کے قریب چیریکاو کے شہر میں۔
 
اتنے عرصے تک الگ رہنے کے بعد ملنے کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہی۔ کچھ ہی دن بعد دونوں بھائی پڑوس میں رہنے والی ایک ٹیچر سے بدلہ لینے چلے گئے۔ اس ٹیچر نے سوشل سروسز سے ہانا کے بچوں کے بارے میں شکایت کی تھی اور کہا تھا کہ انہیں بھی سرکاری ادارے میں داخل کر دیا جانا چاہیے۔
 

سٹینسلا اور الیا نے ٹیچر کو چھریاں مار کر ہلاک کر دیا اور پھر گھر کو آگ لگا دی۔ دونوں کو جلد ہی گرفتار کر لیا گیا۔

 
عدالت میں گونجنے والی تالیوں کی بعد ہانا کہتی ہیں کہ انہیں لوگوں کے رویے کی وجہ سے شہر چھوڑنا پڑا اور وہ نوے میل دور ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہنے لگیں۔ وہاں سے وہ کبھی کبھی وہ سات گھنٹے ٹرینوں اور بسوں پر سفر کر کے اپنے بھائیوں کے لیے کھانے پینے کا سامان جیل تک پہنچاتیں۔
 
وہ ان دونوں سے الگ الگ ملتیں، کیونکہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے یہاں تک کہ ایک دوسرے کو خط لکھنے کی اجازت تک نہیں ہے۔۔ فیصلہ آنے کے بعد ہانا کو پتہ چلا کہ یورپ کے دیگر ملکوں بشمول ہمسایہ روس اور یوکرین میں موت کی سزا کو ختم کر دیا گیا ہے۔
 
وہ کہتی ہیں کہ قاتلوں کو عمر قید ہونی چاہیے۔ ’قید سے سب لوگ زندہ بچ کر نہیں نکلتے، لیکن آپ کو قید کاٹنی پڑتی ہے، بہت کچھ سہنا پڑتا ہے اور پھر آپ پچھتاوے اور ندامت کے ساتھ باہر نکلتے ہیں۔ سزائے موت آپ سے نادم ہونے کا حق چھیں لیتی ہے۔‘
 
ایک اندزے کے مطابق انیس سو اکانوے میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے اب تک بیلاروس میں چار سو سے زیادہ افراد کی سزائے موت پر عمل درامد کیا گیا ہے، حالانکہ حالیہ عرصہ میں ہر سال ہونے والی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔
عدالت میں دونوں بھائیوں نے ٹیچر کے خاندان سے معافی کی بھیک مانگی اور ہانا کہتی ہیں کہ دونوں نے پادری سے ملاقات کی درخواست بھی کی ہے۔۔ انہیں اب وسطی منسک میں گورکی ڈرامہ تھئیٹر، بیلاروسی سینیما کی تاریخ کے میوزیم، ایک میکڈونلڈز اور ٹی جی آئی فرائیڈے کے قریب واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جا چکا ہے۔
 
انسانی حقوق کے کارکن اینڈرے پولودا کہتے ہیں، ’سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا سوویت دور میں تھا۔ کچھ نہیں بدلا۔ لواحقین کو قیدیوں کی لاشیں تک نہیں دی جاتیں، سزا پر عمل کا وقت نہیں بتایا جاتا، یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ انہیں دفن کہاں کیا گیا ہے۔‘
 

بیلارس کے اس حراستی مرکز کے ایک سابق ڈائریکٹر اولیگ الکاییو، جو اب مغرب میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ سزائے موت کیلئے ایک اکیلا جلاد پستول کا استعمال کرتا ہے۔

 
ناٹالیا اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ان کے بیٹوں کی سزا پر عمل ہونے والا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’خدا نہ کرے اگر میں نے انہیں کھو دیا تو میں زندہ نہیں رہوں گی۔ میں ان کے بعد زندہ رہنا ہی نہیں چاہتی۔‘
 
سزا پر عمل ہونے کے کچھ عرصے بعد ماں ناٹالیا کو ایک پیکیج ملے گا جس میں ان کی بیٹوں کی چیزیں ہوں گی اور ایک سرکاری خط جس میں صرف یہ لکھا ہو گا کہ ان کی بیٹوں کو دی جانے والی سزا پر عمل کیا جا چکا ہے، اور کچھ نہیں۔
 

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین