خبر اور تجزیہ

شامی فوج اور ایرانی اتحادی ملیشیا نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کا مزار نذر آتش کر دیا

جہاں یہ افسوس ناک واقعہ خطے کی کشیدہ صورت حال میں خونریزی کی آگ بھڑکائے گا وہاں فرقہ ورانہ اور مسلکی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گا

- Advertisement -
منگل کے روز شامی فوج اور ان کی اتحادی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے ادلیب کے جنوب مشرق میں واقع دیر الشرقی گاؤں پر قبضہ کرنے کے بعد آٹھویں اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کے مزارات کو نذر آتش کردیا۔ 
 
ادلیب میں موجود غیر ملکی پریس کے مطابق شام کی حکومتی افواج اور اس کی اتحادی ملیشیا نے عمارت کا وہی حصہ جلایا جہاں یہ دونوں مزارات موجود تھے۔ مزار کا سامان لوٹنے کے بعد اس مقبرہ سے ملحقہ بستیوں کے متعدد مکانات بھی نذر آتش کر دئے گئے۔ 
 
اخباری نمائیندوں کے مطابق شامی حکومت کی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے آزاد شامی فورسز کے ان مرنے والوں کی قبروں کی بھی پامالی کی جو ادلب کے مختلف محاذوں پر شامی حکومت کی افواج کے ساتھ جاری خونریز لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔
 
حکومتی نیوز ایجنسی نے مزار کے اندر کے حصوں کی تصاویر شائع کیں ہیں۔ جن میں نذر آتش قبروں اور دھوئیں کے واضع نشانات دیکھے جاسکتے ہیں ۔ جبکہ مزار کے اندر چاروں اطراف میں جلا ہوا سامان اور گندگی پھیلی دکھائی دیتی ہے۔
 
ادلیب کے تاریخی شہر کے جنوب میں میرات النعمان کا علاقہ ہے ۔ اس شہر میں عربی زبان کے شاعر اور فلسفی ابو العاالماری کے مزار کے علاوہ اور بھی درجنوں تاریخی مقامات ہیں۔ اس علاقے کو ثقافتی لحاظ سے بڑا اہم سمجھا جاتا ہے۔ مشرق کی طرف چند کلومیٹر دیار شرقی گاؤں میں، امیہ کے ان خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا مزار ہے، جنہیں ان کے عدل و انصاف کی شہرت کی وجہ سے کچھ مورخین پانچواں خلیفہ راشد بھی قرار دیتے ہیں۔
 
باغی گروہوں کے ساتھ لڑائی سے کچھ دن پہلے ہی ادلیب کے جنوب میں واقع میرات النعمان کے علاقوں میں شامی فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا تھا، شام اور اس کی اتحادی ایرانی ملیشیا کی فورسز نے ان شدید جھڑپوں میں مختلف قسم کے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کا استعمال بھی کیا تھا۔
۔
اس افسوس ناک خبر کے حوالے سے آج امریکہ نے شامی حکومت کو وارننگ جاری کی پے۔ جبکہ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے علاقے میں جاری کشیدگی اور خونریزی میں مذید اضافہ ہو گا۔ جہاں یہ واقعہ علاقائی صورت حال کومذید کشیدگی کی طرف دھکیلے گا وہاں اس سے فرقہ ورانہ اور مسلکی تناؤ بھی اضافہ ہو گا۔ جبکہ موجودہ حالات میں کورونا کی ہولناک وبا کیخلاف جدوجہد میں شدید مشکلات میں گھری ہوئی دنیا کو امن اور عالم اسلام کو باہمی اتحاد و اخوت کے رشتوں کی شدید ضرورت ہے۔
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین