آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

شہروز سبزواری کی دوسری شادی اور ہماری پہلی ذمہ داری – ملک جہانگیر اقبال

آپ کی ضرورت محض آپکے گھر والوں کو ہے لہٰذا اُنکی فکر کریں ، قدر کریں اور انکے چہرے پہ ہنسی لانے کا موجب بنیں

- Advertisement -
بات تھوڑی زیادہ حساس ہے اور شاید پہلی بار اتنی ذاتی نوعیت کی بات کر رہا ہوں ۔
 
گزشتہ روز شہروز سبزواری نے ماڈل و اداکارہ صدف سے دوسری شادی کرلی ہے۔ اس سے قبل شہروز کی بیوی سارہ نے اپنے شوہر کے ماڈل صدف کیساتھ تعلقات کیوجہ سے علیحدگی اختیار کر چکی تھی ۔
 
یعنی ایک شخص کو کسی دوسری عورت سے محبت ہوئی جس کی بناء پہ اُسکی خودمختار بیوی نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اپنی طرف سے بہترین طرز عمل اپناتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی ۔ دوسری جانب اُسکے سابقہ شوہر نے اپنی پسند کی عورت سے شادی کرلی بات ختم ۔
 
بس بات ختم !
 
یہ ایک خاندان کا مسئلہ تھا جسے جیسا بہتر لگا اُس نے ویسا کیا ۔ آپ کون ہوتے ہیں اِس پہ بات کرنے یا کسی کو ذلیل کرنے والے؟ کسی کو بدصورت اور شیطان قرار دینے والے آپ ہوتے کون ہیں؟ سارہ جس کا گھر ٹوٹا اُس نے اسے بہترین طریقے سے ہینڈل کیا اور اپنی ذات سے کسی کو برا نا کہا ۔
 
جبکہ آپ لوگ ۔۔۔ کیا آپ کے اپنے خاندانی مسائل حل ہو چکے جو اس طرح بی جمالو بنے دوسروں کی ذاتی زندگی میں ناک گھسائے بیٹھے ہوئے ہیں؟
کچھ روز قبل ایک تحریر لکھی جس پہ ہلکے پھلکے انداز میں اپنے ابو کی دوسری شادی کا ذکر کیا تھا۔ جس پہ لوگوں کا کمنٹ سیکشن اور پھر انباکس میں طرز عمل انتہائی بچکانہ تھا۔ لوگ حیرت سے سوال پوچھ رہے تھے کہ آپکے ابو نے واقعی دو شادیاں کی؟ اور سچ کہوں تو حیرت سے زیادہ مجھے اس میں میری زات کےلئے افسوس و ترس دکھائی دیا ۔
 
یہ رویہ آج کل سے نہیں بلکہ پچھلے بیس سالوں سے برداشت کرتا آرہا ہوں ۔
 
سنہ 2000 کی بات ہے جب ہمیں ایک روز اچانک پتا چلا کہ ابو نے دوسری شادی کر رکھی ہے۔ امو پہ یہ خبر انتہائی بری افتاد کیطرح پڑی ۔ ہم بہن بھائی چونکہ بچے تھے اسلئے ہمیں تو معلوم ہی نہ تھا کہ دوسری شادی کیا ہوتی ہے ۔
 
امو اور میرے ننھیال کا ردِ عمل انتہائی شدید تھا ، میرے دادا ابو بھی سخت ناراض تھے ۔ لیکن ابو کا ہمارے ساتھ رویہ ویسے ہی محبت والا تھا۔ امو ناراض ہوئیں پر پھر ہمارے لیے گھر واپس آگئیں۔ بظاہر سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا لیکن پھر بھی پہلے جیسا نہ تھا ۔ باہر گلی محلے میں لوگ ہمیں چِڑانے لگے تھے کہ دیکھو اِن کے باپ نے دوسری شادی کرلی ، اور ہم اب اس پہ چِڑنے بھی لگے تھے ۔
 
اس طرح دس سال گزر گئے ، اب ہمارے دو چھوٹے سوتیلے بھائی بھی تھے جو ہمارے ساتھ ہی گھر کے دوسرے پورشن میں رہتے تھے پر ہم دیگر بہن بھائیوں نے کبھی اُنہیں پیار کرنا تو دور اُنکی طرف دیکھنا تک گنوارہ نہ کیا تھا ۔ وہ ہماری طرف دیکھتے رہتے اور ہم پاس سے گزر جاتے ۔ ہماری سوتیلی والدہ ہوں یا سوتیلے بھائی ، وہ اپنی طرف سے ہمارے لیے بہت کچھ کرتے پر ہمارا رویہ سرد سے سرد ترین ہوتا گیا ۔
 
اسکی وجہ ہمارے بچپن میں رشتے داروں اور گلی محلے و اسکول والوں کا وہ رویہ تھا جو اُنہوں نے کبھی ہمیں تنگ کرنے اور کبھی ترس کھاتے ہوۓ ہمارے ساتھ رکھا تھا ۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ابو سے ہم نے کبھی کسی خواہش کا اظہار کیا ہو اور وہ اس خواہش سے دس گنا بہتر شے ہمارے لیے نہ لائے ہوں ۔ ایک سادہ مثال یہ دیکھ لیں کہ میرے اور خرم بھائی کے میٹرک سے لیکر کالج تک کے بورڈ امتحانات میں ابو صبح سے لیکر پرچہ ختم ہونے تک سب کام کاج چھوڑ کر ہمارے سینٹر کے باہر کھڑے رہتے تھے ۔
 
آج بھی سڑک پار کرتے ہوئے ہمارا ہاتھ تھام کر رکھتے ہیں ۔ لیکن ہمارے لیے ابو ایک وِلن بن چکے تھے ۔ کیونکہ سب کہتے تھے کہ شاید ان کا ابو اِن سے پیار نہیں کرتا اسلئے اُنہوں نے دوسری شادی کرلی ۔ جبکہ ہمیں معلوم تھا کہ ابو جی کی جان ہم میں پھنسی ہے ، ہمارے بنا وہ ایک لمحہ نہیں رہ سکتے لیکن ابو ہمارے ولن تھے کہ یہی ہمیں زمانے نے سمجھا دیا تھا ۔ اس دوران ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ ابو ہمارے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ بعض معاملات میں زیادتی کرجاتے ہیں ۔ جتنا ہمیں محبت ملی شاید اتنی اُنہیں توجہ و محبت نہیں مِل پائی ۔ شاید ابو کا احساسِ گناہ تھا جو اُنہیں ہمارے سامنے شرمندہ رکھتا تھا۔

ایک روز ویسے ہی ابو کے پاس بیٹھا تھا جب ابو نے انتہائی غمگین لہجے میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ ” بیٹا اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے اورمیں دنیا میں نہیں رہتا تو کیا تم اپنے دوسرے بھائیوں کا خیال رکھو گے؟ “
 
ابو کے لہجے میں پہلی بار اتنی بیچارگی دیکھ کر میرا دل کٹ سا گیا ۔ اُس وقت ابو کو تو کوئی جواب نہ دیا پر میں نے لوگوں کی باتوں کو پسِ پشت رکھتے ہوئے اپنے سوتیلے بھائیوں اور والدہ سے بات چیت کرنا ضرور شروع کردی ، امو تو ہیں ہی نرم دل لہٰذا اُنہیں بھی بات کرنے میں کوئی جھجک نہ ہوئی البتہ میرے دیگر بھائی اور بہن بہت وقت تک جھجک کا شکار رہے اور بعض اوقات مجھے بھی بری نظروں سے دیکھتے اور امو سے شکایت کرتے کہ آخر جہانگیر کیوں اُن سے بات کرتا ہے ؟
 
اللہ نے کچھ عرصہ بعد باقی دونوں بھائیوں اور بہن کا دل بھی نرم کیا اور اب چھ سات سال سے ہم تمام بہن بھائی ایک خاندان کیطرح رہتے ہیں ۔ ہمارے چھوٹے دونوں بھائیوں کیساتھ ہمارا کوئی ” سوتیلا” رشتہ نہیں ہے ۔
 
ہم بھائی کھانے سے لیکر پہننے تک کی بھی کوئی شے اپنے لیے لیکر آئیں تو اُن دونوں چھوٹے بھائیوں کےلئے بھی ضرور لاتے ہیں ۔ کچھ دِن قبل ابو سے مار کھانے کے بعد آفاق گھر سے بھاگ گیا تھا تو اُسکی سگی ماں سے زیادہ امو پریشان تھیں کہ پتا نہیں میرا بچہ کہاں ہوگا ۔
 
ہم سب ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔ اور میں دعوے کیساتھ کہتا ہوں کہ ہمارے گھر جیسا خوشحال ، پرسکون اور کول  گھرانہ شاید پورے کراچی میں کسی کا نہیں ہوگا ۔ الحمدللہ
 
یہ سب لکھنے سے قبل میں نے امو سے پوچھا تھا کہ آپ خوش تو ہیں نا اگر میں یہ سب فیس بک پہ لکھوں؟ تو امو کا کہنا تھا کہ “ضرور لکھو اور لوگوں کو بتاؤ کہ تمہارا باپ تم سے زیادہ کسی کو عزیز نہیں رکھتا ۔ دوسری شادی سے قبل بھی اُسے مجھ سے محبت تھی پر پتا نہیں اسے کیا سوجھی کہ دوسری شادی کرلی پر اس کا بھی مجھے فائدہ ہی ہوا ہے کہ یہ اب میرا اور بھی زیادہ خیال رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اب میں انہیں بلاوجہ باتیں بھی سناتی رہتی ہوں ، الحمدللہ میں بہت خوش ہوں ” ۔
 
اگر یہ ہمارے محلے دار ، رشتے دار و دیگر زمانے والے بچپن میں ہمارے دماغ میں ابو کی دوسری شادی سے متعلق زہر نہ بھرتے تو ہمارا بچپن اتنا ہولناک و اذیت ناک نہ ہوتا ۔ نہ کبھی ہمیں اپنا باپ ولن لگتا اور نہ ہی چھوٹے بھائی زہر لگتے ۔ اس معاشرتی رویہ نے جہاں ہمارا بچپن خراب کیا وہاں ہمارے دوسری والدہ سے اُن دونوں بھائیوں کا بچپن بھی ہماری نفرت زدہ نگاہیں دیکھتے ہوئے خراب کیا ۔ حالانکہ ان گھٹیا لوگوں کا کیا لینا دینا تھا ہماری زندگی سے؟
 
دوسرا ذاتی سوال جو مجھ سے بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے وہ میری شادی کے بارے میں ہوتا ہے ۔
 
دس سال قبل اپنی پسند کی شادی کی ، میری وائف کا تعلق امریکہ سے ہے ۔ ہم نے محض محبت نہیں بلکہ عشق کیا تھا ۔ شادی ہوئی پر ہم ساتھ نہ رہ سکے وجہ یہ کہ کراچی کے حالات اُن دنوں بہت خراب تھے اور خیر سے ایک دِن رات چہل قدمی کرتے ہوئے ہمارے سامنے ایک شخص نے فائر کردیئے ۔ اُسے لگتا تھا یہ فائر مجھ پہ کیا گیا ۔ خیر اللہ نے حفاظت کی پر اُس کا دِل اس شہر سے اٹھ گیا ۔
اسکے بعد اُن کا اصرار تھا کہ انکے ساتھ امریکہ جاؤں جو میرے لیے ممکن نہ تھا ۔ کچھ وقت دونوں نے کوشش کی پر بات بنی نہیں لہٰذا ہم میں طلاق تو نہ ہوئی پر ویسے علیحدگی ضرور ہوگئی ۔ ایک بیٹا ہے میرا ، محمد نام ہے ۔ اپنی ماں کے پاس ہوتا ہے۔ کبھی ایک سال تو کبھی دو سال بعد ہماری ملاقات ہوجاتی ہے ۔ اب بھی اگر میری محمد کی والدہ سے ملاقات ہوتی بھی ہے تو بھی ہم دونوں ایک دوسرے کی اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی پہلے کرتے تھے ۔ اُسے مجھ سے گِلہ ہے کہ میں اُسکے ساتھ نہیں رہا پر مجھے اس سے کوئی شکایت یا گِلہ نہیں ہے ۔ ہاں بس ایک شکایت ہے جو کبھی اس سے کی نہیں کہ میرے اور اپنے درمیان اُسے اپنے خاندان کی عورتوں اور اُنکی باتوں کو نہیں لانا چاہیئے تھا کہ اُن کا ہم سے کیا لینا دینا تھا؟
 
اکثر بہت قریبی احباب بھی بعض اوقات کہتے ہیں کہ یار کچھ سمجھوتہ کرلو تاکہ محمد کی زندگی میں کچھ کمی نہ رہے ، حالانکہ وہ جانتے ہیں محمد میں میری روح بستی ہے پھر اُنہیں کیوں لگتا ہے کہ میں اپنے تئیں پوری کوشش نہیں کی ہوگی؟
 
ہم دونوں نے بہت کوشش کی پر کسی طرح کچھ ممکن نہ ہوسکا ۔ وہ محمد کے بنا نہیں رہ سکتی لہٰذا کبھی محمد کو اُس سے لینے کا خیال تک نہیں آیا ۔ بقول ابو جی میرا دل پتھر جیسا سخت ہے جو اولاد کے بنا جی رہ رہا ہوں پر اُنہیں کیسے بتاؤں کہ میں اب جی ہی کہاں رہا ہوں … لوگ ایک بار موت آنے پہ مرجاتے ہیں جبکہ میں ہر روز محمد کی یاد میں مر رہا ہوں اور گزشتہ کئی سالوں سے مر رہا ہوں۔
 
پچھلے چار سالوں سے امو، ابو ، دادی وغیرہ مجھے دوسری شادی کرنے کا کہ رہے ہیں پر میں ہر بار راضی ہونے کے بعد آخری لمحات میں انکار کردیتا ہوں ۔ میری ایک پھوپو نے تو یہ کہ کر اب مزید لڑکیوں کی بات کرنا ہی ترک کردی ہے کہ لڑکی والے بیچارے اتنی خوشی سے راضی ہوتے ہیں اور اچانک جہانگیر انکار کردیتا ہے ۔ اسی وجہ سے ایک دو بہت ہی محترم خواتین کی دِل آزاری بھی کر چکا ہوں۔
 
ایسا نہیں ہے کہ اب میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتا۔ وجہ محض اتنی ہے کہ میں اپنے بچپن کے اُس تکلیف دہ وقت کو اپنی زندگی سے کھرچ نہیں پا رہا۔ آخری بار رشتے کی بات چلی اور شاید ایک ڈیڑھ ماہ میں شادی بھی کرلیتا پر اسی رات میرا بیٹا محمد میرے خواب میں آیا ، محمد میرے بیڈ کے پاس زمین پہ بہت اُداس بیٹھا تھا ۔ مجھے دیکھ کر پوچھنے لگا
” بابا کیا آپ دوسری شادی کرنے کے بعد مجھے بھول جائیں گے؟ “
 
یہ سن کر میں خواب میں رونے لگا اور جب آنکھ کھلی تو تب بھی رو ہی رہا تھا ۔ یہ خواب میرے بچپن کی وہ تکالیف ہیں جو ابو کی دوسری شادی کے بعد میں نے معاشرے کے ہاتھوں اپنی ذات پہ سہی ہیں ۔ اب یہ سب اذیتیں خواب میں میرے بیٹے محمد کی شکل میں آ کر مجھے پھر سے میرے بچپن کے تاریک لمحات میں لا پھینکتی ہیں جہاں سینئر کلاس کے لڑکے ہم دونوں بھائیوں کی طرف انگلیاں اٹھا کر ہنستے ہوئے کہ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو اِن بیچاروں کے ابو نے دوسری شادی کرلی ۔
کیا یہ سب اب میرا محمد بھی برداشت کرے گا؟
 
میں ہزار بار موت تو قبول کرسکتا ہوں پر اس اذیت کا ایک فیصد بھی کبھی محمد کو برداشت نہیں کرنے دوں گا ۔ وہ جب بھی میرے پاس آئے گا میں اُسے ایسا ہی صرف اُس کا بابا ملوں گا۔
میرے والدین ، بھائیوں اور قریبی دوستوں کو لگتا ہے میں اپنی زندگی برباد کر رہا ہوں پر اُنہیں میرے دل و دماغ میں چلنے والی اس جنگ کی بھلا کیا خبر ہو ؟ یا میں اُنہیں کیسے سمجھاؤں کہ اگر دوسری شادی کرلی تو یہ معاشرہ میرے محمد کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ۔
 
مجھے کسی کے ترس ہمدردی یا مشورے کی ضرورت نہیں ہے ، بس ایک گزارش ہے کہ سوشل میڈیا نے چونکہ لوگوں کو زیادہ ہی مادر پدر آزاد کردیا ہے لہٰذا خدا کا واسطہ ہے لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو کھنگالنے یا اُس میں بلاوجہ کی دخل اندازی کرنے سے گریز کریں ۔ آپکو نہیں معلوم کہ کس نے دل میں کتنی تکالیف کو دبا رکھا ہے ۔ بلاوجہ اُن زخموں کو کھرچ کر آپ اپنے کمنٹ کرنے والا تیر تو مار دیتے ہیں پر آپکے الفاظ کسی کو کئی راتوں تک شدید اذیت میں مبتلاء رکھ سکتے ہیں ۔ کسی نے شادی کی یا کسی نے طلاق دی آپ کا کیا لینا دینا ہے بھئی ؟
 
جو جہاں جس حال میں خوش ہے تو اُسے خوش رہنے دیں یا اگر وہ خوش ہونے کی اداکاری کر رہا ہے تو پلیز اُسے اداکاری کرنے دیں ۔ آپ کی ضرورت محض آپکے گھر والوں کو ہے لہٰذا اُنکی فکر کریں ، قدر کریں اور انکے چہرے پہ ہنسی لانے کا موجب بنیں کہ یہی آپکی سب سے بڑی زمہ داری ہے اور یہیں آپکی ذات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔
 
ملک جہانگیر اقبال

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین