آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

پہلے بھی ایک وزیراعلی کے نام سے بھنگ کا نام بلا وجہ جڑ چکا ہے اور اب کیا وزیرِ اعظم کو بھی بھنگ کی لپیٹ میں لینا ہے - یہ تو رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہے

- Advertisement -
وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق ایک اہم سنگِ میل طے کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کی صدارت میں بھنگ کے طبّی اور صنعتی استعمال کے لیے ملک کی تاریح کا پہلا اجازت نامہ قومی ادارے پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق کو جاری کردیا ہے-وزیر موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان اربوں ڈالر کی سی بی ڈی بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا رہا ہے-
 
سی بی ڈی کیا ہے؟ یہ بھنگ اور اس نوع کے دیگر پودوں میں پایا جانے والا ایک کیمیائی جز ہے جسے کینابی ڈائی اول کہتے ہیں جس کا مخفف سی بی ڈی ہے-عالمی شہرت یافتہ امریکی ادارے فوڈ اینڈڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے جس کی دنیا بھر میں تقلید کی جاتی ہے اب تک اس کیمیائی جز سے تیار شدہ صرف ایک دوا منظور کی ہے جو صرف مرگی کی دوانتہائی صورتوں میں مریض کو دی جاتی ہے-

یہ جز زیادہ مقدار میں جگر کے لیے سخت نقصان دہ ہوتا ہے- اس کے علاوہ ایک اور کیمیائی جز ٹی ایچ سی یعنی ٹیٹراہائیڈرو کینا بی نول ہوتا ہے جو بھنگ کی قسم کے دوسرے پودوں میں پایا جاتا ہے- خیال رہے کہ امریکی قانون کے مطابق سی بی ڈی کی خریدو فروخت کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ جب اس میں ٹی سی ایچ کی مقدار اعشاریہ تین فیصدسے زیادہ نہ ہو-

 
چین اور بعض دیگر ممالک میں بھنگ اور اس جیسے پودو ں کی ایسی اقسام دریافت اور ان کی افزائشِ نسل کی کوشش کی جارہی ہے جن میں سی بی ڈی زیادہ ہو اور ٹی ایچ سی کم ہو- دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض ممالک نے اس قسم کے نشہ آور اجزا کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور کینیڈا میں ایسی چاکلیٹ جن میں ٹی ایچ سی کی مقدار دس فیصد تک ہوتی ہے انیس سال عمر سے زیادہ افراد کے لیے دستیاب ہیں –
 
نیدرلینڈز میں اس طرح کی نشہ آور مصنوعات کے استعمال کی قانونی طور پر مکمل اجازت تو نہیں لیکن ذاتی استعمال کے لیے اس سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے حتی کہ یہ کافی شاپز وغیرہ میں کھلے عام فروخت ہوتی ہیں-لیکن ایک عدالت نے سیّاحوں کے لیے اس پر قدغن عائد کی ہے-بھنگ اور بھنگ کے قبیلے کے دیگر پودوں سے حاصل کیے گئے نشہ آور اجزا کے استعمال کے تانے بانے قانون اور لاقانونیت دونوں کو برابری سے لپیٹے ہوئے ہیں-فوائد انتہائی محدود اور نقصانات بے پناہ ہیں-
 
ایک فائدہ جو بھنگ کے استعمال کی حمایت کرنے والے بیان کرتے ہیں وہ بھنگ کی کھلی چھوٹ کے باعث پاکستان میں سیاحت کا ممکنہ اضافہ ہے جس کے حق میں نیدرلینڈز کی مثال دی جاتی ہے- گویا کہ اب ہمالیہ، پاکو ہند کی تاریخ اور دیگر سیاحت کے لیے مقبول اہداف کو ایک جانب رکھتے ہوئے بھنگ سیاحوں کو پاکستان کی جانب مائل کرنے کا ذریعہ سمجھا جائے جس سے پاکستان ایشیائی ایمسٹرڈیم بن جائے گا-
دوسری جانب پاکستان میں کپاس کی کاشت کے علاقے گنّے کی کاشت کرنے والوں کے حوالے ہونے کے بعد چند ماہ پہلے وزیرِ اعظم نے بھنگ کے ریشے کو ٹیکسٹائل میں استعمال کرنے اور برآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا-کیسا المیہ ہے کہ پاکستان کی کپاس جو دنیا کی اعلی ترین کپاس میں شامل ہوتی تھی اب عنقا ہوتی جارہی ہے- ملک و ملّت کے مفاد پر ذاتی مفادات غالب آگئے اورشکر یا چینی پر ملنے والی سبسڈی کے لالچ نے کپاس کی کاشت والے علاقوں کو گنّے کی فصل سے بھردیا-
 
کپاس جس کی دنیا بھر میں بے انتہا مانگ ہے، جو معیار کے لحاظ سے بھنگ کے ریشے سے بدرجہا بہتر اور اعلی ہے، جس کی قیمت بھنگ کے ریشے سے بہت زیادہ ہے، اس کپاس کو سنبھالنے، اس پر تحقیق کرنے، اس کی کاشت کو بڑھانے کی بجائے قوم کو بھنگ کاشت کرنے کی راہ پر لگایا جارہا ہے-
 

پاکستان میں بھنگ پر کتنی تحقیق ہوجائے گی، کتنی ادویات بنالی جائیں گی، کس معیار کا ریشہ حاصل کیا جائے گا اور کتنی رگ و پے میں سرائیت کرجائے گی اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں-

 
انسدادِ منشیات کے وزیر صاحب تو بھنگ سے دوائیں تیار کرنے کی فیکٹری لگانے کا اعلان کرچکے ہیں جو ان کی وزارت کے دائرہ کار کا حصّہ بھی نہیں-یہ بات بھی جان لیجیے کہ بھنگ کے ریشے سے تیار ہونے والا کپڑا انتہائی پر شکن ہوتا ہے اور اس پرسوتی کپڑے کی طرح بے شمار رنگ بھی نہیں چڑھتے- لیکن جس طرح وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے جس طرح بڑھا چڑھا کر بھنگ کا مقدمہ پیش کیا ہے ایک اچھنبے کی بات ہے-

مخصوص وزراء ، این جی اوزاور چند ایک ذرائع ابلاغ کیوں بھنگ کی تشہیر میں لگے ہوئے ہیں جبکہ سچے جھوٹے بیجا الزامات میں گھرے ہوئے وزیرِ اعظم کیلیے یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک متنازعہ شے جس پر خاموشی سے بھی کام ہوسکتا تھا اسے کیوں اس قدر اچھالا گیا ہے-

پہلے بھی ایک وزیراعلی کے نام سے بھنگ کا نام بلا وجہ جڑ چکا ہے اور اب کیا وزیرِ اعظم کو بھی بھنگ کی لپیٹ میں لینا ہے- یہ تو رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہے-

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
شرف جامی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی کا یہ کالم بھی پڑھئے

بے حسی شہر ِ کراچی میں کیا طوفان لائی ہے ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین