آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

قرآن و سنت میں برقعہ اور حجاب – سلمان مظہر چغتائی

اسے بغور پڑھیں، دل سے سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اپنی تمام بہنوں بیٹیوں سے بھی شیئر کریں

- Advertisement -
قرآن و سنت میں بُرقعہ یا حجاب کے بارے میں مؤمن عورتوں کی رہنمائی درج زیل نقاط کی صورت میں فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ معاشرے میں پہچانی یا ستائی نہ جا سکیں.. اور پاکیزگی اور احترام کے ساتھ حدود اللہ میں رہ کر زندگی بسر کرسکیں
 
مکمل اوڑھنی
 
سر سے پاؤں تک ایک ڈھیلا ڈھالا کپڑا جسے اس طرح اوڑھا جائے کہ پورا جسم چُھپ جائے اور ہاتھوں کی زینت بھی نمایاں نہ ہو، اگر ہاتھ نہ چُھپ سکیں تو کالے دستانوں کا استعمال کریں
 
زینت سے پاک حجاب
 
حجاب کالا ہی ہو، دیدہ زیب رنگوں کی چادریں اور فینسی برقعے حجاب کی تعریف میں نہیں آتے، حجاب کا مقصد خود کو شیطان اور کسی غیر محرم کے دل میں بُرائی پیدا ہونے سے بچانا ہے، حجاب سادہ ہو، زیب و زینت کی خاطر اس میں موتی، گوٹے، سٹون وغیرہ نہ جڑے ہوں
 
حجاب کا کپڑا باریک نہ ہو
 
بُرقعہ یا حجاب کا مطلب خود کو چُھپانا ہوتا ہے، اگر حجاب کا کپڑا باریک ہے تو یہ بے مقصد ہے اور شدید گناہ و عذاب کا سبب ہے
 
حجاب / بُرقعہ چُست نہ سلا ہو
 
حجاب/ بُرقعہ انتہائی ڈھیلا ڈھالا ہو، جسم سے چپکے ہوئے برقعے/ حجاب اور اس طرح سلے ہوئے کپڑے پہننے والیوں پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے آپ نے فرمایا کہ میری امت میں کچھ عورتیں پردے اور لباس میں رہ کر بھی ننگی رہیں گی..
 
حجاب پر خوشبو نہ لگائیں
 
خواتین برقعہ پر اگر خوشبو لگائیں یا اپنے کپڑوں پر ایسی خوشبو لگائیں کہ حجاب پہن لینے کے بعد بھی خوشبو باہر کسی نامحرم تک آئے تو ایسی پردہ نشین عورت کو زانیہ عورت کہا گیا ہے.(استغفراللہ)
 
مردوں سے مشابہت سے پاک
 
جیسے مرد کپڑوں کے اوپر کوٹ پہنتے ہیں، اگر عورتیں برقعہ پہن کر اوپر سے فیشن کے طور پر کوٹ/ رنگین دوپٹہ/ جیکٹ یا جرسی پہنتی ہیں تو یہ مردوں سے مشابہت ہے، جو کہ اب تیزی سے پھیلتا ہوا ایک عام رواج بن چکا ہے، یہ شرعاً غلط ہے اور اس سے بُرقعے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے.
 
….حجاب میں کافروں سے مشابہت ہرگز نہ ہو
 
یورپی ممالک میں رہنے والی خواتین کی طرز پر اب ہمارے ہاں خواتین ٹانگوں سے کافی اونچا بُرقعہ اس وضع سے سلا ہوا پہنتی ہیں کہ جس سے ٹانگوں پر پہنی جینز چلتے ہوئے ہر قدم کے ساتھ نمایاں ہوتی رہتی ہے، علماء نے اسے حجاب / بُرقعہ کے ساتھ صریح مذاق، جہالت اور فحاشی قرار دیا ہے.
 
….حجاب شہرت یا تکبر سے پاک ہو
 
حجاب ایسا ہو کہ جسے پہن کر چلتے ہوئے دل میں تکبر یا بڑائی پیدا نہ ہو، کپڑا سادہ ہو اور چمک دمک والا نہ ہو. برقعہ اوڑھنے کا واحد مقصد اپنی پہچان اور زیب و زینت چھپانا اور رب کی رضا کے تابع مجبوری کی صورت میں باہر نکل کر اپنی ضرورت کو پورا کرنا ہے
 
اسے بغور پڑھیں، سمجھیں، عمل کریں اور اپنی تمام بہنوں بیٹیوں سے بھی شیئر کریں. اور دعا کریں اللہ پاک ہمیں دینِ اسلام کی فہم سمجھ اور عمل نصیب فرمائیں، شیئر کرکے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو روزِ قیامت کے دن کی رسوائی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں
۔
سلمان مظہر چغتائی

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین