آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

حد تو یہ ہے کہ مجسٹریٹ اور ججز بھی نشّے میں دھت نظر آجائیں گے- یہی وہ محافل ہیں جو موٹر وے جیسے سانحے کا موجب ہیں- اشتہا بھی بڑھاتی ہیں اور ہوس بھی-

- Advertisement -
اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ تاریخ تو ہر سال آتی ہے لیکن جب جب سن 2001ء میں نیویارک میں اس روزسورج طلوع ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ دنیا بھر کی تجارت کا فلک بوس علامتی محور ورلڈ ٹریڈ سنٹر ایک انوکھے حملے میں چند لمحوں میں زمیں بوس ہوگیا- ایسا حیرت انگیز منظرتھا کہ اس کے بعد دنیا بھر میں بچّہ بچّہ گیارہ ستمبر کو 911 پکارنے لگا اور یہ ھندسے مصیبت اور ناگہانی کی علامت بن گئے-
 
دلچسپ اور قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ امریکہ میں تو لوگ پہلے ہی سے اس ھندسے سے مانوس تھے کیونکہ امریکی شہری کسی بھی مصیبت میں کوئی حادثہ ہوجائیـ کوئی جرم ہوجائے، کسی مریض کو ضرورت ہو، سب مدد کے لیے 911 پر ٹیلی فون کرتے ہیں اور منٹوں میں مدد پہنچ جاتی ہے- پاکستان کا اور ہندوستان کے مسلم اکثریت والے علاقوں کا 911تو آج سے 72سال پہلے یعنی 1948ء میں آچکا تھا. جب بانی ٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے-
 
صاحبِ فراش اور نحیف ونزار بانی ٔ پاکستان کو زیارت سے براستہ کوئٹہ کراچی لایا جارہا تھا- ایشیا کے سب سے بڑے فضائی مرکز ماری پور سے بذریعۂ ایمبولینس انہیں شہرِ کراچی کے اندر پہنچانا تھا اور وہ ایمبولینس پٹرول ختم ہوجانے یا کسی اور خرابی کے باعث ویران اور سنسان سڑک پر کھڑی رہ گئی اور پاکستان کے بانی قائدِ اعظم وہیں سرِ راہ دم توڑ گئے-
 
 
یہی 911 کا دن تھا لیکن کوئی 911 کی ٹیلیفون لائن موجود نہ تھی، ہنگامی صورتحال میں ٹیلیفون کرنے کے لیے کوئی ہنگامی ٹیلیفون آس پاس سڑک کنارے نہ تھا جس پر فون کیا جاتا تھا- 911 کے دن قائداعظم کو یہاں پاکستان نے الوداع کہا اورادھر بھارتی بنیوں نے ہمیں آنکھیں دکھانا شروع کردیں اور برصغیر کے مسلم اکثریت والے ان علاقوں پر فوج کشی کردی جن کے بارے میں یہ تصفیہ ہونا تھا کہ وہ آزاد رہیں گے یا پاکستان کا حصّہ بن سکتے ہیں –
 
تاریخ ہی نہیں اب تو حال بھی گواہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی اکثریت کے لیے اب تو ہر دن 911 ہے- جسمانی طور پر دھان پان سے قائدِ اعظم میں کتنا حوصلہ تھا، کیا رعب و دبدبہ تھا اور بھارت اور انگریز دونوں کی قیادت ان کی کس قدر معترف تھی کہ ان کی زندگی میں جن سازشوں کو وہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے ان کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگئے-
 
911 پھر آ گیا- اخبارات اٹھا لیجیے، چینلز تبدیل کر کر کے دیکھ لیجیے، سماجی ذرائع ابلاغ کوٹٹول کر دیکھ لیجیے نمایاں ایک ہی خبر ہے- ایک سڑک ہے، ایک گاڑی ہے، ایک عورت ہے، گاڑی خراب ہے، دور دور تک کوئی ہنگامی ٹیلی فون نہیں اور 911 بھی نہیں، اس ویرانے میں اس بار فرشتۂ اجل نہیں آیا، انسان کے روپ میں درندے نکل آئے، نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرالیکن جو کچھ ہوا اس کا اس قوم کے طاقت ودولت کے نشّے میں دھت ارباب ِ اختیار کو شاید اب تک اندازہ نہیں- انہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالی کی رسی دراز ہونے کا کیا مطلب ہے؟
 
 
یہ موٹر وے ہی ہے نا؟ چند سال پہلے تک جہاں دن ہو کہ رات ہو کسی گاڑی کی رفتار ذرا سا حد سے تجاوز کرجائے تو موٹروے پولیس کی گاڑی جھلملاتی بتّیوں کے ساتھ آن دارد ہوتی تھی- کوئی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی ہوجائے تو جھٹ سے پولیس آجاتی تھی- کوئی گاڑی خراب ہوجائے تو پولیس مدد کے لیے آن موجود ہوتی تھی-پھر کیا ہوا؟یہ منظر تبدیل کیوں ہوگیا؟ پورے پاکستان نے نئے کوتوالِ شہر کے ارشادات سنے، وزیرِ اعلی کی گفت و شنید ایک چینل کے میزبان کے ساتھ سنی اور اندازہ ہوا کہ 72سال میں ہم ایک قدم بھی آگے کیوں نہ بڑھ سکے-
 

چند روز پہلے ہی ایک خاتون وکیل اسی طرح ہائی وے پر بندھی ہوئی کوئی پھینک گیا تھا-اس خاتون پر سوالات اٹھائے گئے- کیا وہ خاتون خود اپنے ہاتھ پاؤں باندھ سکتی تھی؟ کوئی تو باندھنے والا ہوگا؟

 
اگر اس خاتون نے ڈھونگ رچایا تو اس کا کوئی تو ساتھی ہوگا -تحقیقات ہوئیں؟ مجرم پکڑے گئے؟ اگر کوئی نتیجہ سامنے آتا خواہ وہ خاتون ہی ملزم ٹہرائی جاتی تو جرائم پیشہ کچھ تو ڈرتے- اب کیا اس سانحے کی تحقیقات آگے بڑھ سکیں گی؟ کیا اس سے قبل سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کا بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے آیا ؟
 
ملک کے بعض دیگر علاقوں کے لوگ کہتے ہیں کہ ان کے شہروں میں جرائم میں اضافے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ پولیس مقامی نہیں-لیکن پنجاب میں تو پولیس مقامی ہے- پنجاب میں کس قدر خوفناک جرائم ہورہے ہیں- اب یہ پولیس کہاں مجرموں کو ڈھونڈ سکتی ہے؟جب یہ سانحہ ہورہا تھا تو ایک دوسری ہائی وے پردرختوں سے رکاوٹیں کھڑی کرکے ڈاکو گاڑیوں سے لوٹ مار کررہے تھے- اب کہاں پکڑیں ان مجرمان کو؟بہت آسان ہے-
 
 
شہروں، قصبوں، گاؤں ، دیہات جہاں بھی کسی مجرے کی خبر ملے خواہ وہ کسی زمیندار ، جاگیردار، رکنِ اسمبلی، وزیر اور مشیر کے ڈیرے پر ہی کیوں نہ ہووہاں پولیس بھاری نفری ، مجسٹریٹ اور عسکری ایجینسیز کے ساتھ بلا تردّد چھاپے مارے اور وہاں کرارے کرنسی نوٹ لٹانے والے ، شراب پانی کی طرح بہانے والے اور ناچنے والیوں کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے والے تمام زمینداروں، جاگیرداروں، وزیروں اور مشیروں کو گرفتار کرکے 72 دن میں مقدمہ چلا کرنشانِ عبرت بنادے –
 

ناچنے والیوں پر لٹائے جانے والے مال و دولت کی منی ٹریل بھی طلب کرلیں۔ ان ہی صاحب ثروت لوگوں میں سے اور ان کے ڈیروں میں سے مجرم بھی برآمد ہوں گے، مسروقہ مال بھی برآمد ہوگا، مغوی بھی برآمد ہوں گے- ابتدا بس مجروں کی محافل پر چھاپے مارنے سے کردیں-

 
مجرے اور شراب نوشی کی محافل کی لاتعدادوڈیوز یو ٹیوب وغیرہ پر موجود ہیں جن میں کتنے ہی وزراء اور مشیران، سیاست دان اور ان کے حواری، پولیس کے اہلکار اور سرکاری افسران باآسانی نظر آجائیں گے- حد تو یہ ہے کہ مجسٹریٹ اور ججز بھی نشّے میں دھت نظر آجائیں گے-یہی وہ محافل ہیں جو موٹر وے جیسے سانحے کا موجب ہیں- اشتہا بھی بڑھاتی ہیں اور ہوس بھی-
 

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

شرف جامی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین