خبر اور تجزیہ

سیاہ فام امریکی صحافی کی ڈائری ۔ بشکریہ وائس آف امریکہ

میرے کانوں میں ایرک گارنر کی کراہیں گونجتی ہیں۔ مجھے جارج فلوئیڈ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ میرا دل مٹھی میں آ جاتا ہے اور میں رو پڑتا ہوں

- Advertisement -

بہت سے امریکیوں کے لیے، خلا کے معنی ہیں زمین چھوڑ کر کہکشاؤں کی چھان بین کرنا ہے۔ وہ اس اختتام ہفتہ اسپیس ایکس کی پرواز کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اور یا یوں کہہ لیں کہ سٹار ٹریک پر خلا کی ان وسعتوں کی سیر جہاں پہلے کوئی نہیں گیا۔

مگر افریقی نسل کے امریکیوں کے لیے اس کے معنی بالکل مختلف ہیں۔ ان کیلئے اس کے معنی ہیں امریکی معاشرے میں اپنا مقام تلاش کرنا، سفید فام معاشرے میں، جہاں وہ جیسے ہیں ویسے ہی ہونے کی آزادی ہو۔ تاہم سیاہ فام امریکیوں کیلئے یہ جگہیں سکڑتی جا رہی ہیں۔ مناپولس میں ایک اور سیاہ فام مرد کی ہلاکت اور وہاں بھڑکنے والے شعلے اب دوسرے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سانس لینے کیلئے اب صرف ایک سوراخ ہی باقی بچا ہے۔

میں تھک گیا ہوں۔ سیاہ فام امریکیوں کے خلاف سفید فاموں کا تشدد کیسے معمول سا بن گیا ہے، اور جاری و ساری ہے۔ اس سے تھک گیا ہوں۔ بطور صحافی میں اشتعال میں ہوں کہ اکثر ایسا ہی کیوں ہوتا ہے۔ بطور صحافی سب کہ علم ہے کہ کس کس زاویے سے اس کی کوریج کرنی ہے، کیا سوال پوچھنے ہیں،اور خبر کیسے لکھنی ہے۔ پھر مزید اشتعال آتا ہے کہ بطور سیاہ فام صحافی، مجھے بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ سب کتنا انسانیت سوز ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ کیا اس طرح کا کام کرنا کافی ہے۔ سیاہ فاموں کے خلاف تشدد اور کیا مجھے اس نسل پرستی کو روکنے کے لئے کچھ کرنا چاہئیے؟

برسوں سے ایک افریقی النسل امریکی اور صحافی کے طور پر میری شناخت ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ مجھے بچپن سے صحافی بننے کا شوق تھا۔

تاہم کچھ عرصے سے میرے اندر کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ میری دونوں شناختوں کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ منگل کی صبح جب میری آنکھ کھلی تو مجھے جارج فلوئیڈ کی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ہاتھ پیچھے بندھے، منہ کے بل زمین پر گرے ایک شخص کی گردن پر ایک پولیس افسر کئی منٹوں تک اپنے گھٹنے سے اپنا پورا بوجھ ڈالے ہوئے ہے۔ وہ مِنتیں کر رہا ہے کہ مجھے سانس نہیں آ رہا۔ ارد گرد کھڑے لوگ اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں اور مزید پولیس والے اپنے ساتھی کی مدد کرتے ہیں۔ اور پھر وہ سیاہ فام دم گھٹنے سے مر جاتا ہے۔

میرے کانوں میں ایرک گارنر کی کراہیں گونجتی ہیں۔ مجھے جارج فلوئیڈ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ میرا دل مٹھی میں آ جاتا ہے۔ میں رو پڑتا ہوں۔ لیکن میں ایک صحافی ہوں۔ مجھے اپنے ذاتی احساسات کو ایک طرف رکھنا پڑے گا۔

جمعہ کو امریکی صدر کے الفاظ سے میری آنکھ کھلتی ہے۔ اپنی ایک ٹوئٹ میں وہ کہتے ہیں کہ جب لوٹ مار کا آغاز پوتا ہے تو پھر شوٹنگ یعنی فائرنگ شروع ہو جاتی ہے۔ مجھے شہری حقوق کیلئے جد و جہد کا وقت یاد آ جاتا ہے، جب 1960 میں میامی کے ایک پولیس سربراہ نے یہی الفاظ کہے تھے۔

- Advertisement -

آج کے وقتوں میں ،اگر پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کی ہلاکتیں سُر ہیں تو پھر سیاہ فاموں کا جارحانہ ردِعمل آج کے وقتوں کی تال ہے۔ یہ سفید فاموں کے معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کی تال ہے۔

آپ سیاہ فام ہیں تو آپ کیلئے تیراکی کرنے کی، گاڑی چلانے کی، پکنک منانے کی، شاپنگ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ سیاہ فام کھڑا نہیں ہو سکتا سانس نہیں لے سکتا۔

سیاہ فام ہوتے ہوئے آپ جو ہیں وہ نہیں ہو سکتے۔

اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کرونا وائرس سے پھیلنے والی وبا سے مرنے والوں کی شرح سب سے زیادہ سیاہ فاموں کی ہے۔ ڈاکٹر سیاہ فاموں کی بیماریوں کے بارے میں تو بات کرتے ہیں، لیکن وہ اس عدم مساوات کو نہیں دیکھتے،جس کی وجہ سے وہ بیمار پڑتے ہیں۔ سیاہ فاموں کیلئے بیمار ہونا بھی ایک مصیبت ہے۔

ہاں ایک جگہ ہے جہاں سیاہ فام رہ سکتے ہیں۔ عالمی وبا کے دور میں، وہ ساری ملازمتیں جنہیں ضروری اور لازمی قرار دیا جاتا ہے، وہ سیاہ فاموں کو ملتی ہیں۔ وہ سب وے یعنی مقامی ٹرینوں کو چلاتے ہیں، وہ بسیں چلاتے ہیں گراسری سٹور میں اشیا رکھتے ہیں، خوراک گھر پر پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جب کہ زیادہ تر سفید فام گھروں میں بیٹھے ہیں۔

میرے اندر کا ایک حصہ کہتا ہے کہ سب چھوڑ کر لڑائی میں شامل ہو جاؤَ ۔ اپنی صحافت ایک طرف رکھ کر اپنے غصے اور نا امیدی کی بھرپور آواز بن جاؤ، کیونکہ تمہارا ملک مساوات اور انصاف جیسی بلند اقدار کی ہمیشہ پاسداری نہیں کر سکا ، جس پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

لیکن جہاں میں ہوں، میں اپنا کام انجام دے رہا ہوں۔ میں وہ کہانیاں بتاتا ہوں، جو میرے پڑھنے والوں کو ان کے ارد گرد کی دنیا سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ میں ان کی آوازیں بن جاتا ہوں جنہیں کوئی نہیں سنتا اور صاحبِ اقتدار کو جواب دہ ٹھہراتا ہوں۔ یہ بھی اِتنا ہی اہم ہے کہ، جس نیوز روم میں میں کام کرتا ہوں، وہ زیادہ سچائی اور درستی سے اُن لوگوں کی عکاسی کرے جن کی خبریں ہم دیتے ہیں، اور یہ کہ ہم کہانی سنانے اور ایسے فیصلے کریں جن میں کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔

میری آواز حقائق اور تناظر اور سیاق و سباق کی آواز ہے۔ میری آواز مساوات کی آواز ہے، جس کا وعدہ اس ملک کی بنیاد رکھتے وقت، مرتب ہونے والی دستاویزات میں موجود ہے۔ میری جگہ نیوز روم میں ہی ہے، میں یہیں ٹھیک ہوں۔

۔

بشکریہ : وائس آف امریکہ اردو

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین