آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

نسل پرستى كى آگ، احتجاج اور امريكہ ۔ نبیل شوکت وڑائچ

امریکہ کے حالیہ خونى منظرنامہ كى وجہ یہی ایک واقعہ نہيں بلكہ پس منظر میں نسلی جبر و استحصال کی ایک طویل تاريخ ہے

- Advertisement -
امريكى رياست منى سوٹا ميں جارج فلائيڈ نامى ايک سياه فام باشندے كا گورے پوليس اہل كاروں كے ہاتهوں، كيمرے كى آنكھ كے سامنے بيہمانہ قتل دبى ہوئى چنگارى كو سلگانے كا باعث بنا اور پورے امريكا ميں نسل پرستانہ سوچ كے خلاف آگ بهڑک اٹهى…يہاں تک امريكى صدر كو فوج طلب كرنا پڑى اور خود ايک بنكر ميں پناه لينا پڑى…اب يہ احتحاج ايک عالمى احتجاج كا روپ دهار چكا ہے اور كئى يورپى و ديگر ممالک اس عالمگير احتجاج كى لپيٹ ميں ہيں
 
امریکہ ميں يہ احتجاج شروع ہوا تو انتہائى پرتشدد تها، كئى املاک كو جلايا گيا، توڑ پهوڑ كى گئى۔ اب تک امريكہ ميں تقريبا ستره افراد ہلاک ہوچكے ہيں۔ پهر رفتہ رفتہ نسل پرستى يا نسلى تعصب كيخلاف اس آواز نے ايک پرامن تحريک كا رنگ پکڑ ليا اور سڑكوں كے علاوه سوشل ميڈيا، خاص طور پر ٹؤيٹر اس سارى مہم كا اہم ميدان بن گيا ہے ، جہاں #blacklivesmatter كے نام سے ٹرينڈ كئى دنوں تک دنيا كا ٹاپ نمبر ون ٹرينڈ بنا رہا ہے
 
اگر ہم انصاف پسندى سے جائزه ليں تو دنيا بهر ميں كئى جگہوں مثلا فلسطين، كشمير ، برما ، يمن اور شام وغيره ميں كئى سالوں سے اس واقعہ سے ہزار گنا بڑھ كر، خونريزى و قتل و غارت كا بازار گرم رہا ہے ليكن دنيا بهر كے عوام ، حكومتوں اور خاص طور پر عالمى ميڈيا ميں ان سانحات بارے عرصہ سے ايک بے حسى طارى ہے ، پهر آخر اس ايک واقعہ ميں كيا ايسى خاص بات ہے كہ اسكو وه عالمى پزيرائى ملى جسكى مثال نہيں ملتى؟
 
دراصل دو وجوہات ايسى ہيں جو اس واقعہ كو ديگر تنازعات سے ممتاز كرتى ہيں، پہلى يہ كہ يہ واقعہ امريكا ميں ہوا جو بہرحال ايک سپر پاور ہے… دوسرا وہاں كے متحرک و بيدار عوام نے خود كو باضمير ثابت كرتے ہوئے اس ظلم پر خاموشى اختيار نہيں كى بلكہ فورا سڑكوں پے نكل پڑے اور احتجاج شروع كر ديا…لهذا انكى آواز پورى دنيا ميں سنى گئى!!
 
امریکہ ميں ہميں جو خونى منظرنامہ، نظر آيا اسكى واحد وجہ مزكوره واقعہ نہيں بلكہ اسكے پيچهے ايک لمبى تاريخ أور جبر ہے كہ جب كئى صدياں قبل ، انگريز سامراج نے ايک نيا ملک (امريكا) بسانے كا فيصلہ كيا تو اپنى ضرورتوں كيلئے اس وقت كى كالونى (مقبوضہ افريقى ممالک) سے كالے افريقى غلاموں كو زنجيروں ميں جکڑ كر، بحرى جہازوں ميں بهر كے امريكا لايا گيا اور كوئى حقوق دينا تو دركار، انسان تک بهى نہ سمجها گيا
 
پهر جب ان افريقى غلاموں ميں شعور پيدا ہونا شروع ہوا اور ميلكم ايكس / ملک شہباز محمد جيسا دبنگ ليڈر انہيں ملا (جو بعد ميں مسلمان ہوا) تو اس نے شہرى حقوق كى تحريک كو اور تيز كيا ، جس كے بعد پهر سفيد فام اشرافيہ كو کچھ احساس ہوا اور كہيں 60 كى دہائى ميں ان بيچارے سياه فاموں كو کچھ حقوق ملے۔۔۔
 
ليكن پهر بهى تعليم ، روزگار وغيره ميں انہيں پيچهے ركها گيا، جس سے ان ميں جرائم كى شرح كافى بڑهى…يوں انہيں مسلسل دبايا اور كمتر سمحها گيا، خاص طور پر ٹرمپ (جو خود ايک نسل پرست صدر ہے) كے اقتدار ميں آنے كے بعد تو سياه فاموں كو مزيد تعصب و زيادتى كا نشانہ بنايا گيا۔۔۔ جس سے انكے اندر ٹرمپ انتظاميہ اور اسكى متعصبانہ پاليسيوں كيخلاف لاوا پكتا رہا، جو اب پهٹ پڑا ہے،، تنگ آمد بجنگ آمد والى صورتحال بن گئى ہے
آج كى ماڈرن دنيا ميں نسل پرستى اور اس پر مبنى متعصبانہ سوچ، ايک بڑے “عالمى مسئلے” كا روپ اختيار كر چكى ہے… كئى بظاہر (نامنہاد) جمہورى ممالک مثلا بهارت، اسرائيل اور امريكا وغيره ميں ايسى پارٹياں اور تنگ نظر شخصيات اقتدار پر قابض ہوچكى ہيں جو برملا نسل پرست ہونے كا دعوى كرتے ہيں… بهيانک نسل پرستانہ ايجنڈا ركهتے ہيں اور مخالف نسلى و مذہبى اقليتوں كو كسى صورت برداشت كرنے كيلئے تيار نہيں… انڈيا اور اسرائيل ميں تو ديگر اقليتوں (خاص طور پر مسمانوں) كى باقاعده نسل كشى كى پاليسى پر منصوبہ بند انداز ميں عمل بهى كيا جارها ہے…جس پر عالمى ردعمل تقريبا صفر ہے! يہ انتہائى تشويشناک مرحلہ ہے
 
نسل پرستى، نسلى امتياز يا تفاخر ( يعنى اپنى نسل، برادرى، قبيلے يا قوم كو دوسرى اقوام سے بہتر سمجهنا اور دوسروں كواپنى نسل سے كمتر و حقير خيال كرنا) … يہ كوئى آج كا مسئلہ نہيں، يہ ايک ابليسى و خود غرضاتہ سوچ ہے ، جسكا آغاز اس وقت ہوا، جب ابليس نے (اپنى خاص نسلى تخليق اور غرور كى وجہ سے كہ وه آگ سے بنا ہے) آدم خاكى كو سجده كرنے سے انكار كر ديا تها اور خدائى حكم كى بهى پرواه نہ كى…چنانچہ هم كہہ سكتے كہ نسل پرستانہ سوچ اگرچہ جن و انس ميں خود خدا نے وديعت كى ہے ليكن ساتھ ہى اسكى مذمت اور نفى بهى كر دى، قرآن مجيد ميں واضح طور پر ارشاد ہوا كہ
 
“هم نے تمہيں گروہوں اور قبيلوں ميں پيدا كيا، تاكہ تم پہچانے جاؤ..تم ميں سے بہتر وه ہے جو زياده تقوى اختيار كرنے والا ہے…”
 
يعنى برادرياں اور قبائل محض تعارف كيلئے ہيں، يہ عزت و شرف كا معيار نہيں بلكہ خدا كے ہاں اسكى عزت ہے جو اس سے ڈرنے والا اور پرہيزگار ہے چاہے وه كسى بهى نسل ، قوم يا برادرى سے تعلق ركهتا ہو…اگر آج جديد دنيا اور سارى انسانيت اس نسلى، لسانى ، علاقائى اور رنگ كى تفريق سے نكلنا چاہتى ہے تو ہم كہہ سكتے ہيں كہ “راه نجات اور حل”، اسلام اور اسكا ديا گيا نظام حيات ہے!
 
پيغمبر اسلام (ص) كا حجة الوداع كا تاريخى خطبہ اس حوالے سے، آج بهى دنيا بهر كيلئے مشعل راه كى حيثيت ركهتا ہے كہ جس ميں آپ صلى اللہ عليه وسلم نے نسلى تعصبات كى نفى كرتے ہوئے فرمايا تها كہ “كسى گورے كو كالے پر ، كسى عربى كو عجمى پر، كسى آزاد كو غلام پر كوئى فضيلت نہيں، ماسوائے ‘تقوى’ كے ، تم سب حضرت آدم (عليہ السلام) كى اولاد ہو اور آدم مٹى سے بنے تهے….”
كاش اسلام كا يہ ابدى پيغام ہم دنيا تک پہنچا سكيں اور خود اپنے مسلم معاشروں ميں بهى حقيقى روح كے ساتھ اس پے عمل پيرا ہوسكيں !!
 
نبيل شوكت وڑائچ

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین