آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

تہذیب و تمدن اور اقدار کا محافظ قلم – ماسٹر فراز احمد

انسانی تہذیب وتمدن کے مسلسل ارتقاء اور معاشی و معاشرتی ترقی کا اولیں راز قلم ہے

- Advertisement -
خالقِ دو جہاں اللہ رب العزت نے لاکھوں برس قبل جب اس کائنات کی تخلیق فرمائی تو اس کرہء ارض پر انسانوں کے علاوہ بے شمار  انواع و اقسام کی مخلوقات سے بھی اس بحر و بر کو صد رنگ رونق بخشی۔ اور پھر انسانوں کے ساتھ ساتھ اس زمین پر انگنت انواع کی مخلوقات اس کارزار ِ حیات کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ اس جہان ِ فانی کی تخلیق سے لیکر اب تک دنیا کی تمام مخلوقات کے خصائل و فطرت پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ان کا طرز زندگی اور تہذیب و تمدن آج بھی اسی طرح جس طرح لاکھوں سال قبل تھا۔
پرندے جس طرح گھونسلے بنا کر اپنی رہائش کا بندوبست کرتے تھے آج بھی اسی طریق ِ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ کیڑے مکوڑے جس طرح بلوں میں رہ کر اپنی خوراک کے ذخیزہ کا انتظام کرتے تھے وہی صدیوں پرانا طریقہ آج بھی انکے ہاں دیکھا جا سکتا ہے۔شہد کی مکھیاں جس طرح صدیوں قبل چھتوں میں بچوں کی افزائش اور شہد بنانے کا قدرتی طریق دہراتی تھیں۔ آج صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی ان کے وہی اطوار ِ حیات ہیں ۔ چوپائیوں کا طرزِ زندگی اور درندوں کا طرزِ شکار و خونخواری صدیوں سے اسی اندازمیں چلا آرہا ہے۔ ان تمام مخلوقات کے برعکس اگر کسی زی روح کے طرز زندگی میں ارتقاء کے ساتھ بتدریج تبدیلی رونما ہوئی ہے تو وہ صرف اک حضرت انسان ہے۔ جس نے مختلف ادوار میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے طرز زندگی کو گزرتے وقت کے ساتھ بہتر سے بہتر بنانے کی فطری کوشش کی ہے۔
 ایک وہ انسان تھا کہ جو غاروں کو اپنا مسکن بنائے ہوئے تھا۔ جنگلی جانوروں کے شکار پر اسکی زندگی کا گزارہ تھا۔ درختوں کے پتوں کو لباس کے طور پر اپنا سترچھپانے کیلئے استعمال کیا کرتا تھا، یہی جنگل اور جنگلی ماحول اسکی کل کائنات تھی۔ پھر وقت گزرتا گیا اور گزرتے وقت کے ساتھ انسان کے رہن سہن بود و باش اور طرز زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ انسانی تہذیب و تمدن ارتقاء کے مراحل طے کرتی گئی۔ اور رفتہ رفتہ دیکھتے دیکھتے وہی انسان جس کی کل کائنات جنگل اور جنگل کے جانور تھے،اب چاند پر پہنچ کر بلندیوں اور عروج کے سارے سنگ میل عبور کرچکا ہے۔ سمندروں تہہ میں قدرت کے مستور خزانوں تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ وہی انسان جو درختوں کے پتوں سے لباس کا کام لیا کرتا تھا۔ اب وہ صنعتی اور معاشرتی انقلاب کے بعد نت نئے رنگ و انداز کے ملبوسات زیب تن کئے ہوئے اپنی شان وشوکت کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
بادلوں سے بلند تر جہازوں کے ذریعے سے رسائی حاصل کرنا اور سمندر کی موجوں کو چیر کر راستے بنانا دنیا کی تمام مخلوقات کے برعکس انسانی تہذیب و تمدن کے اس طرح منفرد انداز میں ارتقائی مراحل طے کرنے میں جو بنیادی قوت اور طاقت کارفرما نظر آتی ہے۔ اسباب کی دنیا میں وہ عظیم طاقت اور قوت درحقیقت قلم ہے، قلم ہی وہ چیز ہے جو انسانی تہذیب تمدن کی حفاظت گاہ ہے۔ اسکا وجود اس لئے بھی ضروری ہے کہ پرانی چیزوں کو محفوظ رکھا جاسکے اور آنے والے اسمیں نئی چیزوں کا اضافہ کرسکتے ہیں، انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقاء کا یہی راز ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان نے قلم ہی کے ذریعے اپنے آباؤ اجداد کے نظریات و اقدار تک رسائی حاصل کرکے اس پر مزید غور وخوض کرکے حسب ضرورت اسمیں زمانے کے تقاضںوں کے مطابق نت نئے اضافے کرکے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ بنایا ہے۔ جس پر مزید ریسرچ کرکے انسانی ہر گزرتے دن کے ساتھ بقدر ضرورت اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق اضافہ کرتے ہوئے ترقیوں اور بلندیوں کی انتہاتک پہنچا ہے۔
انسان کی تہذیب و تمدن کا محافظ اور پہرے دار یہ قلم ہی ہے جس نے انسان کی تہذیب و تمدن کو ان ارتقائی مراحل سے گزار کر نہ صرف انسان کو بلندیوں اور عروج کی انتہا پر پہنچایا ہے بلکہ اسکی حفاظت اور پاسداری کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیا ہے،قلم کی اہمیت اور افادیت سے بھلا کیسے انکار ممکن ہے جبکہ خالق کائنات نے رحمۃ اللعالمین پر کئی جانے والے پہلی وحی میں ہی اپنے محبوب کو قلم سے متعارف کروایا۔
چنانچہ غار حرا میں جب نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی کا نزول ہوا، جسمیں رب العالمین نے قلم کا تعارف اپنے نبی کو ان الفاظ میں کروایا “الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم “(القرآن سورۃ العلق آیت نمبر 4،5) مذکورہ آیت میں حق تعالی شانہ نے نہایت بلیغ انداز میں اسی حقیقت کی طرح اشارہ فرماکر قلم کی عظمت و اور اہمیت کو دوٹوک الفاظ میں بیان کردیا ہے،دوسری طرف ام الکتاب قران کریم میں اس عظیم سرمایہ کی قسم کھا کر اسکی اہمیت وافادیت کو چارچاند لگادئیے. چنانچہ ارشاد ربانی ہے،  “اور قسم ہے قلم کی، اور اس چیز کی جو وہ لکھ رہے ہیں (القرآن سورۃ القلم آیت نمبر )۔)
مختصر یہ کہ علم ہی وہ اصل عظیم سرمایہ اور بے مثال طاقت ہے جس کے ذریعے سے انسان کو خداوند تعالی اس چیز سے روشناس کرواتے ہیں جو وہ نہیں جانتا اور جب وہ اس علم کو آگے بڑھاتا ہے تو اس کا قلم ہی انسانی تہذیب وتمدن کی شفافیت اور قوانینِ قدرت کی پاسداری کا محافظ بن جاتا ہے۔ اسی قلم کے ذریعے پرانی معلومات ، تاریخی قصص اور علوماتِ عالم کو محفوظ کر کے آنے والے  زمانوں کے تقاضوں کے مطابق اسمیں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقاء اور معاشی و معاشرتی ترقی کا یہی راز ہے اور اسی کی وجہ سے انسان کو دنیا کی دیگر مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے۔
فراز احمد ، کراچی

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین