آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

بدقسمت طیارے کا پائیلٹ ہیرو یا زیرو – ہارون ملک

بنا حقائق جانے یا سنگین غلطیوں کو نظر انداز کر کے پائیلٹ کو ہیرو قرار دینا ہماری بھولی بھالی اور جذباتی قوم ہی کا خاصہ ہے

- Advertisement -
جب معاملات کنٹرول میں ہوں اور کوئی مسئلہ نہ ہو تو سترہ ہزار گھنٹے پرواز کا تجربہ ہو یا تیس ہزار گھنٹے کیا فرق پڑتا ہے ؟ پائلٹ کی مہارت تب ہی جج ہوسکتی ہے جب حالات کنٹرول سے باہر ہوں ۔ سجاد گُل غالباً یہی نام ہے بدقسمت طیارے کے پائلٹ کا 
 
ابتدائی رپورٹس آ گئی ہیں جِس کے مُطابق طیارے کے دونوں انجن ٹھیک تھے اور لینڈنگ کے وقت لینڈنگ گیئر صحیح کام نہیں کر رہا تھا ۔ پائیلٹ نے لینڈنگ کی کوشش کی ، لینڈنگ گیئر پُوری طرح نہ کُھلا ، دونوں انجن رَن وے پر رگڑ کھا کر آگ پکڑ گئے ، وارننگ سائینز ہمارے “ بہادر اور ہیرو پائیلٹ “نے بند کر دیے اور جہاز کو دوبارہ لِفٹ کر لِیا تا کہ لینڈنگ گئیر پُورے کھول سکے جبکہ اِس دوران اپروچ کنٹرول ٹاور نے پائیلٹ کو تین بار وارننگ دی، بار بار انجن وارننگ مِلنے پر وارننگ سائینز آف کردیے اور جہاز کو فضا میں لے گئے ۔
 
اب دونوں انجن کو آگ لگی ہُوئی ہے اور تمام وارننگ سائین بند ہیں ، سجاد گُل ہمارے “ ہیرو پائلٹ “ جِن کے پاس سترہ ہزار گھنٹوں سے زائد پرواز کا تجربہ ہے اور ہماری بھولی عوام بشمول چند ایکسپرٹس اُن کی آواز اور آواز میں کنٹرول جو دورانِ “ مے ڈے مے ڈے کال “ اُن کی آواز میں موجود ہے اُس پر فِدا ہے کہ دیکھو کِس شان اور خوف کے بغیر وُہ کال کر رہے ہیں ۔
 
آپ مُجھے بُرا بھلا کہہ لیں لیکن صاحب تلخ حقیقت یہی ہے کہ سجاد گُل صاحب ہیرو نہیں بلکہ زیرو ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ساتھ مزید پچانوے جانیں ضائع کروا دِیں ۔
میں کل فوج کے چند حمایتیوں کی پوسٹس پڑھ رہا تھا جو ناچیز کی شان میں لکھی گئی تھیں ۔ بھئی میں کمرشل پائلٹ نہیں لیکن پرائیویٹ جہاز اُڑانے میں اور کمرشل جہاز اُڑانے میں زیادہ فرق نہیں ۔ ایک بات سمجھ لیں کمرشل پلین ہو یا پرائیویٹ پلین اصل کام جہاز کو ٹیک آف کروانا اور پھر لینڈنگ کروانا ہی ہے ۔ میں اِن پوسٹس میں آپ کو جہاز اُڑانا نہیں سِکھا سکتا اور نہ ہی میں جہاز اُڑانے یا اُتارنے کی ویڈیوز بنا سکتا ہُوں لیکن اِتنا سمجھ لیں کہ ہم جذباتی قوم ہیں جنہیں بھدو بنانا خالہ جی کا گھر ہے ۔
 
اب یہ کہنا کہ پائلٹ کی آواز بڑی پُر سُکون تھی جب وُہ مے ڈے کال دے رہا تھا ایک جذباتی قوم کو جذبات کی نئی بتی کے پیچھے لگانے کے عِلاوہ ککھ بھی نہیں ۔ پائلٹ بننا ہے کیا ؟ پرائیویٹ پائلٹ پاکستان میں پندرہ لاکھ روپے کا خرچہ ہے جبکہ کمرشل پائلٹ پینتالیس سے پچاس لاکھ ۔ برطانیہ میں پرائیویٹ پائلٹ کم از کم دس ہزار پاؤنڈز سے تیرہ ہزار پاؤنڈز کا خرچہ ہے جبکہ کمرشل پائیلٹ ستر سے نوے ہزار پاؤنڈز کا ۔
 
پاکستان میں کمرشل پائیلٹ لائسنس ایک پرائیویٹ ڈاکٹر بننے کی فِیس جِتنا خرچ ہے اور آپ میں سے کوئی بھی جو فرسٹ ڈویژن ایف ایس سی کر چُکا ہو ، میڈیکلی فِٹ ہو وُہ اپنے پیسوں سے یہ لائیسینس حاصِل کرسکتا ہے اور اگر آپ کِسی مغربی مُلک میں ہیں تو یہاں آپ ہر وُہ کام کرسکتے ہیں جو آپ کا دِل چاہے اور آپ کی جیب اجازت دے ۔
 
واپس سجاد گُل صاحب کے معاملے پر ، آپ اُن کو ہیرو کہیں یا بہت تجربے کار لیکن ناچیز کے نزدیک ایک پائلٹ کا اصل امتحان تب ہی ہوتا ہے جب اُس کا جہاز مسئلہ کرنا شُروع کرتا ہے ورنہ ہموار فلائیٹس میں کیا مسئلہ ہے ؟ ایک بات اور سمجھیں ایک فائیٹر طیارے کا پائلٹ جِتنا بھی جانباز ہو اُس کے ذہن اور ٹریننگ کی بناوٹ ہی کُچھ اور ہوتی ہے جِس کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کِسی بھی حادثے یا ناگہانی کی صُورت میں وُہ طیارے سے ایجیکٹ کرسکتا ہے۔
 
اور اگر ایسے پائلٹس کو کمرشل طیارے اُڑانے کو دیے جائیں تو نفسیاتی طور پر ایک ایسی کمی ہمیشہ موجود رہتی ہے جو ایسے پائیلٹس میں بالکل نہیں ہوتی جو فائیٹر طیاروں کے پائلٹس نہیں ہوتے ، یعنی کمرشل طیاروں کے پائلٹس وُہی بہتر ہوتے ہیں جِن کی ٹریننگ بطور کمرشل پائلٹ ہی ہوتی ہے ، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سجاد گُل صاحب پہلے پی اے ایف کے پائلٹ تھے کیونکہ مُجھے اُن کا ماضی معلوم نہیں لیکن ایک حقیقت بتا رہا ہُوں جو ظاہر ہے کِسی کی رائے میں دُرست یا غلط ہو سکتی ہے ۔
جو ہونا تھا وُہ ہو چُکا لیکن میں مِحض اپنی رائے دے رہا ہُوں ۔ سجاد گُل صاحب کے پاس ہزاروں گھنٹے فلائیٹ کا تجربہ ہوگا اور وُہ بڑے ماہر پائیلٹ ہوں گے لیکن پرسوں ہُوئے طیارے حادثے میں گُل صاحب کی ممکنہ کوتاہی کو کوئی ناسمجھ ہی نظر انداز کرسکتا ہے ۔ کنٹرول ٹاور سے ہونی والی مکمل گفتگو سامنے نہیں آئی اور تحقیقات بھی جاری ہیں لیکن رَن وے پر رگڑ کے نشان اور زِندہ بچ جانے والے مُسافر زُبیر کے مُطابق طیارہ ایک بار رَن وے پر لینڈ کر گیا تھا اور دوبارہ وہاں سے لِفٹ کروایا گیا ۔ کیوں ؟
 
سیدھی سی بات ہے کہ لینڈنگ گئیر پُوری طرح نہیں کُھلا تھا اور جب رَن وے پر طیارے اور انجن کو رگڑ لگی تو پائلٹ نے بجائے اُسی لینڈنگ کو مکمل کرنے کے اپنے تئیں محفوظ کرنے کے لیے طیارے کو دوبارہ ہوا میں اُٹھا لیا اور اِسی دوران طیارے کے دونوں انجن میں آگ لگ گئی جِس سے تھرسٹ اور دیگر مسائل پیدا ہُوئے ۔ جب طیارہ دوبارہ چکر لگا کر رَن وے کی طرف آ رہا تھا تو اِس دوران لینڈنگ گیئر تو مکمل کُھل گیا لیکن انجن فارغ ہو گئے اور طیارے کے پاس نہ مطلوبہ ہائیٹ تھی اور نہ انجنز میں مطلوبہ طاقت پھر جو ہُوا سب کے سامنے ہے ۔
 
پائلٹ سے انتہائی اہم لمحات میں کیلکولیشن کی سنگین غلطی ہُوئی ہے اور کنٹرول ٹاور سے اُس کی مکمل بات چِیت کیا ہُوئی ، کنٹرول ٹاور نے کیا کہا یہ بھی جلد سامنے آ جائے گا ۔ جہاز کے انجن بظاہر بالکل ٹھیک تھے اور کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ زُبیر کے بقول لاہور سے کراچی کی تمام پرواز ہموار تھی ۔ لینڈنگ گئیر مکمل نہیں کُھلا تو پہلی بار لینڈنگ کیوں کی گئی ؟ جب طیارہ رگڑ کھا گیا تو اُس کو واپس کیوں لِفٹ کیا گیا ؟ جب طیارہ وارننگ سائین دینے لگا تو رپوٹس کے مُطابق پائلٹ نے وارننگ آف کردی ۔ خُدارا حقائق کو غیر جانبداری سے دیکھنا سیکھیں اور محض پُر سُکون مے ڈے کال کی بُنیاد پر پائلٹ کو ہیرو کیوں قرار دے رہے ہیں جب اُس نے نہ جہاز سیف لینڈ کروایا نہ انسانی جانیں بچا پایا تو کون سا ہیرو اور کاہے کا ہیرو ؟
 
مندرجہ بالا مضمون صِرف غیر جانبدار سوچ والے دوستوں کے لیے لِکھا گیا ہے یہاں آکر اپنی جاہلانہ آرا سے پرہیز کریں۔ غیر اخلاقی لب و لہجہ لئے طعن و دشنام انسان کی حاسدانہ خصلت ، خاندانی تربیت اور حسب و نسب کے عکاس ہوتے ہیں۔
 
پسِ تحریر : کُچھ باتیں سامنے آ رہی ہیں جِن کے مُطابق اپروچ ریڈار نے پائلٹ کو وارننگ دی کہ لینڈنگ کے لیے اُس کی سپیڈ اور ہائیٹ ٹھیک نہیں جبکہ پائلٹ نے کم از کم تین وارننگ کو نظر انداز کِیا جبکہ اِس گفتگو میں لینڈنگ گئیر کا ذِکر شامِل نہیں ۔ تو اب یہ بات مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کہ لینڈنگ گئیر کا مسئلہ تھا یا یہ مسئلہ بالکل نہیں تھا اگر نہیں تھا تو مکمل غلطی “ ہیرو پائلٹ “ صاحب کی بنتی نظر آ رہی ہے ۔
 
ہارون ملک
اس موضوع پر صاحب ِ مضمون کی گذشتہ دنوں کی ایک اور تحریر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین