آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

والدین کا مرتبہ و حقوق اور ہماری مصروف زندگی ۔ دانیال حسن چغتائی

اللہ رب العزت کے بعد ہمارے اس دنیا میں آنے کا سبب اور ہمیں پال پوس کر اس مقام تک پہچانے والے ہمارے والدین ہیں

- Advertisement -
آج ہم اپنی مصروف زندگی سے تھوڑ وقت نکال کر سوچیں تو خالق کائنات اللہ رب العزت کے بعد ہمارے اس دنیا میں آنے کا سبب اور ہمیں پال پوس کر اس مقام تک پہچانے والے ہمارے والدین ہیں۔ جنہوں نے اپنے دن رات کا سکون ہمارے لئے وقف کیا اور ہماری ہر ضرورت کو اپنی ضروریات پر ترجیح دی۔ ہماری تعلیم و تربیت اور مستقبل کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کیں۔ لیکن جب بڑھاپے میں ان کو ہماری ضرورت ہوتی ہے تو ہم اپنی مصروفیات کا رونا رو کر اپنی نام نہاد مصنوعی زندگی میں کھو کر اپنی متاع عزیز شے جو ایک کھونے کے بعد دوبارہ نہیں ملتی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
۔
اگر ہم زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو خدارا سنبھل جائیں اور اپنے جان و مال کے ذریعے والدین کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں اور یہ دیکھیں کہ جب ہم کمزور تھے تو دنیا میں ہمارا ان کے سوا کوئی نہ تھا۔ اس طرح جب وہ کمزور ہوتے ہیں اور ہماری توجہ کے منتظر ہوتے ہیں تو ہم ان کی خدمت کر کے دنیا اور آخرت سنوار سکتے ہیں۔ والدین کے حقوق اور مقام و مرتبہ پر چند سطور قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کی ہیں شاید کہ کسی کے دل میں اتر جائے میری بات۔
۔
ہر مسلمان مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد
ہوتاہے۔
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا O وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا O
اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔ الاسراء، 17 : 23 – 24
۔
والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔
۔
اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ تم بھی سب کچھ برداشت کرو۔
۔
مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ اور تم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ۔ سورہ النساء ۳۶
* ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ۔ سورہ العنکبوت ۸
۔
جس طرح قرآن حکیم میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔
مسلم، الصحيح، کتاب البر و الصلة، باب رعم أنف من أدرک أبويه، 4 : 1978، رقم : 2551
۔ 
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔
بخاری الصحيح، 3 : 1094، رقم : 2842
۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کوئی شخص اپنے والدین پر بھی لعنت کر سکتا ہے؟
۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔ يَسُبُّ الرَّجُلُ أبَا الرَّجُلِ فَيَسُبَّ أبَاهُ، وَيَسُبُّ أمُّهُ فَيَسُبُّ أمُّهُ
’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا یہ اور کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیے اور وہ (بدلے میں) اس کی ماں کو گالی دے (تو یہ اپنے والدین پر لعنت کے مترادف ہے)۔‘‘
1. بخاری، الصحيح، کتاب : الأدب، باب : لايسب الرجل والديه، 5 : 2228، رقم : 5628
۔
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کو ن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا باپ۔ (بخاری ۔ باب رشتہ داروں میں سے سب سے اچھے سلوک کا مستحق کون) ۔۔)
۔
یہ بات بھی مشاہدے سے ثابت ہے کہ جو شخص والدین پر خرچ کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس کے رزق میں مزید وسعت و برکت پیدا فرما دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ خاص طور پر ایسے حالات میں بقدر استطاعت ضرور خرچ کرنا چاہیے اور ان کے نان و نفقے کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تمہیں اپنے ضعفاء کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے ضعفاء کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ (ترمذی شریف)۔
۔
(مشکوٰۃ المصابیح)
والدین کا نافرمان اور ان کے لیے تکالیف اور ایذا کا سبب بننے والا شخص چین سے زندگی نہیں گزار سکتا ہے بلکہ کسی نہ کسی مصیبت و پریشانی میں گرفتار رہتا ہے۔
۔
آپ ﷺ کے زمانے میں ایک صحابیؓ کا انتقال ہونے لگا تو آپ ﷺ ان کو کلمے کی تلقین کرنے لگے۔ صحابیؓ کے منہ سے کلمہ نہیں نکل رہا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کی والدہ کو بلاؤ، جب ان کی والدہ حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم اپنے بیٹے سے ناراض ہو؟
۔
والدہ نے عرض کیا جی! میں اپنے بیٹے سے ناراض ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم پسند کرتی ہو کہ تمہارا بیٹا آگ میں جلے؟ والدہ نے عرض کیا نہیں تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بس پھر جلدی سے اسے معاف کردو۔ والدہ نے معاف کردیا تو اس صحابی نے فوراً کلمہ پڑھ لیا اور روح پرواز کرگئی
۔
گر کسی نے بے خیالی میں والدین کی نافرمانی کی اور ان کو تکلیف اور ایذا پہنچانے کا سبب بنا اور اسی حالت میں والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ اور اس کو معافی تلافی کا موقع نہ مل سکا تو اﷲ تعالیٰ نے ایسی اولاد کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کرتا رہے تو ان کو والدین کے فرماںبرداروں میں لکھ دیا جائے گا اور انشاء اﷲ قیامت کے دن اس گناہ کے بارے میں مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ اللہ رب العزت کی عظیم ترین نعمت ہیں۔ اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے۔ اور ان کی بے ادبی اور نافرمانی سے ہر حال میں پرہیز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ہمارا اور ہمارے والدین کا حامی و ناصر ہو۔
۔
دانیال حسن چغتائی کہروڑ پکا 

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین