آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

پٹرول کا بحران ۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

سرکاری اداروں میں ہم آہنگی کے مسلسل فقدان اور ناتجربہ کاری کے باعث عوام الناس اور ملک کو ایندھن کے ایسے بحران میں دھکیل دیا گیا ہے کہ جس کے بعد ایک طویل عرصے تک یہ بحران چلتے رہنے کے امکانات نظر آتے ہیں

- Advertisement -
پٹرول کا معاملہ پاکستان میں کچھ یوں ہے کہ ضروریات کا ۶۲فیصد درآمد کیا جاتا رہا ہے اور بقیہ ۳۸ فیصد مقامی ریفائنریز پورا کرتی رہیں-درآمد کی اجازت صرف اور صرف پاکستان اسٹیٹ آئل کو رہی جبکہ بین الاقوامی کمپنیاں بھی اپنی درآمدات کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل پر انحصار کرنے کی پابند رہیں-کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پٹرول کی کھپت جب انتہائی کم ہوگئی تو مقامی ریفائنریز نے فیصلہ کیا کہ ہم کیوں دن رات کام کریں اس لیے ہم پیداوار گھٹا کر۱۸ فیصد پر لے آئیں
 
دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل نے بھی درآمدات کم کرنے کا فیصلہ کرلیا- پھراچانک حکومت نے لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ مختلف حکومتی اداروں میں ہم آہنگی اور تعاون کا فقدان رہا جس کے نتیجے میں پٹرول کی طلب اچانک دوبارہ بڑھ گئی اور ملک میں پٹرول کی قلّت پیدا ہوگئی-اگر حکومت لاک ڈاؤن نرم کرنے سے پہلے اس کی تیاری بھی کرکے رکھتی تو پاکستان ایک بڑے بحران سے محفوظ رہتا اور عوام پر بھی مہنگائی کا بوجھ نہ ہوتا-دانستہ یا نادانستہ طور پر عوام الناس اس بحران میں دھکیل دیا گیا
 
بحران کیا پیدا ہوا سرکار کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ، ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں اور الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی-اسی افراتفری میں بین الاقوامی کمپنیز کے خلاف ایک تشہیری مہم کا آغاز کردیا گیا اور ان کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا گیا- اب بین الاقوامی پٹرولیم کمپنیز کوئی شریف خاندان تو تھی نہیں کہ ادھر ادھر بھاگتی پھرتیں- انہوں نے فوری طور پر عدلیہ سے رجوع کیا اور حکمِ امتناعی حاصل کرلیا-کسی کسی کمپنی نے پاکستان سے اپنا کاروبار لپیٹنے کا عندیہ بھی دے دیا جس کا ایک فوری اثر بے روز گاری ہوگا
سرکار نے ایک بار پھر رسوائی کو گلے لگایا اور بین الاقوامی کمپنیوں کو براہِ راست پٹرول برآمد کرنے کی اجازت دینے پر مجبور ہوگئی- پاکستان اسٹیٹ آئل پٹرول درآمد کرے تو اسے بعض محصولات میں چھوٹ حاصل ہے جو بین الاقوامی کمپنیز کو نہیں-نتیجہ یہ نکلا کا بین الاقوامی کمپنیز نے دعوی کیا کہ ان کی پٹرول کی قیمتِ خرید پاکستان میں قیمتِ فروخت سے زیادہ پڑ رہی ہے-سرکار چند دن سے زیادہ یہ دباؤ برداشت نہ کرسکی اور بین الاقوامی کمپنیز کو محصولات میں چھوٹ دینے کے بجائے اچانک نظام ِ وقت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قیمت بڑھانے کا فیصلہ کردیا گیا- جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سرکار ، سفید ہاتھی ادارے اور نوکر شاہی کسی قیمت پر اپنے اخراجات کم کرنا نہیں چاہتی
 
برس ہا برس سے یہ رجحان دیکھنے میں آرہا ہے کہ جیسے ہی پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے روز مرہ کی کم و بیش تمام اشیائے صرف اور پبلک ٹرانسپورٹ میںآمدورفت کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئی تھی تو کیا اشیائے صرف کی قیمتوں اورپبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت کے اخراجات میں کمی آئی تھی؟
 
لیکن اب جب پٹرول کی قیمت دوبارہ اپنی پچھلی سطح پر آجائے گی تو کیا قیمتیں اسی پچھلی سطح پر جمی رہیں گی؟ کیا مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا؟ کیا بین الاقوامی الیکٹرک کمپنیز بجلی کی قیمت بڑھانے کا مطالبہ نہیں کریں گی اور سرکار ایک بار پھر ان کے سامنے ڈھیر نہیں ہوجائے گی؟
 
عالمی معیشت اس وقت مستقبلِ قریب میں آنے والے بحرانات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ریاست اور ہر تجارت اپنی بقا کے لیے پیش بندی میں مصروف ہے-ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دنیا بھر میں پٹرول کی ارزانی کے باعث ہم کوئی فائدہ اٹھاتے اور جس قدر ممکن تھاپاکستان اسٹیٹ آئل ذخیرہ کرکے رکھتا لیکن یہاں تو ہم دو ماہ میں ہی بحران کا شکار ہوگئے اور اب یہ مالی نقصان بڑھتا چلا جائے گا-پاکستان میں پٹرول کا ذخیرہ بیس دن کے لیے کیا جاتا ہے اور ۲۰۱۶ء میں حکومت نے یہ گنجائش بڑھانے کی تجویز پر غور شروع کیا تھا لیکن افسوس کسی کی توجہ اس جانب نہیں ہے

جنوری ۲۰۱۹ء میں اوگرا نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اگلے دو سے تین سال میں پٹرول کی مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش چھ لاکھ میٹرک ٹن تک بڑھادی جائے گی- لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی

 
کورونا وائرس کی وبا کے سلسلے میں لاک ڈاؤن اور پھر اچانک بغیرکسی تیاری کے لا ک ڈاؤن کا اختتام خود سرکاری اداروں میں ہم آہنگی کے فقدان اور ناتجربہ کاری کے باعث عوام الناس اور ملک کو ایندھن کے ایسے بحران میں دھکیل دیا گیا ہے کہ اب طویل عرصے تک یہ بحران چلتے رہنے کے امکانات نظر آتے ہیں-اب کیا حکومت بین الاقوامی کمپنیز کے پٹرول کی مصنوعات خود درآمد کرلینے کی پالیسی جاری رکھے گی؟
کیا حکومت پٹرول کمپنیز کو اپنی مصنوعات کی قیمتوں کا تعین خود کرلینے کا اختیار دے دے گی؟ اگر ایسا ہوا تو پاکستان اسٹیٹ آئل پر اس پالیسی کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا پٹرول کی قیمتوں کے تعین کا اختیار سرکار کے ہاتھ سے نکل جائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے
بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز معاملات کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں دیکھنے کے عادی ہیں اور وہ ایک فیصلے کے دیگر معاملات پر اثرات سمجھنے سے قاصر ہیں اور کوئی مربوط اقدامات نہیں کرسکتے- فیصلوں میں سیاسی عذرتراشی ،بہانہ بازی اور سیاسی مفادت قومی مفادات پر حاوی نظر آتے ہیں- غلطیاں اور سیاسی بنیادوں پر کیے جانے فیصلے حالات کو مزید ابتر بنارہے ہیں
 
پٹرول کے سلسلے میں کی جانے والی غلطی کا اگر فوری سدّ ِباب نہ کیا گیا تو یہ ایسی صنعت ہے جو ملک کی پوری معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہی ہے
. . . . .

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
شرف جامی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین