آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

خاص تحفہء رحمان ‘ پاکستان – نبیل شوکت وڑائچ

چودہ صدياں قبل قرآن حکیم كى صورت جو دستور دے ديا گيا وہى پاكستان كا دستور ہو گا

- Advertisement -
زمانہ جانتا ہے كہ “اسلامى جمہوريہ پاكستان” كے نام سے يہ ملک خداداد ، رمضان المبارک كى ستائسويں شب … لیلة القدر ميں معرض وجود ميں آيا…اور يوں مسلمانان برصغير كا وه خواب پورا ہوا… جو حكيم الامت علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے انہيں دكهايا تها… اور جسكى عملى تعبیر انہوں نے قائد اعظم علیہ الرحمہ كى قيادت ميں عظيم سياسى جدوجہد اور كئى لاكھ شہداء كى لازوال قربانيوں كے بعد ، انگريز اور ہندو كے تسلط سے نجات حاصل كركے پائى تهى… نيز يہ بات بهى ہم بخوبى جانتے ہيں كہ اس جدوجہد و قربانيوں كا مقصد صرف ايک تها كہ؛ پاكستان كا مطلب كيا…لا الہ الا اللہ
یعنى لا اله الا الله كے نظام كا نفاذ…
 
ساده ترين الفاظ ميں آزادى كى جدوجہد محض حصول آزادى كيلئے نہيں بلكہ ايک بلند تر مقصد كيلئے تهى اور وه مقصد عظيم تها ” نظام قرآن وسنت گا عملى نفاذ” … تب ہی رحمن نے يہ عظيم نعمت يعنى يہ ملک ہميں اس شب كو عطا كيا كہ جس شب كى فضيلت ہى صرف اس وجہ سے ہے كہ اس شب، قرآن مجيد يعنى رب كا كلام نازل ہوا … دوسرے الفاظ ہميں رحمان كى طرف سے يہ پيغام ديا گيا كہ “قرآن اور پاكستان” لازم ملزوم ہيں (وگرنہ تو قيام پاكستان كيلئے نزول قرآن كى اس بےمثل شب كے انتخاب كى اور كوئى وجہ سمجھ نہيں آتى) ..
 
اور اگر هم قرآن كى سوره رحمن كا مطالعہ كريں تو جو جو نعمتیں اس عظيم الشان سوره ميں گنوائى گئى ہيں تقريبا وه سب ہميں اس ملک ميں عطا كى گئیں….غالبا پاكستان كے اسى مقصد وجود كى وضاحت بانیء پاكستان حضرت قائد اعظم علیہ الرحمہ نے اپنے متعدد انگريزى و اردو خطبات اور تقارير ميں، پورى صراحت كيساتھ بيان فرمائى!!
 
مثلا ايک جگہ قائد نے ارشاد فرمايا كہ “مجھ سے سوال كيا جاتا ہے كہ پاكستان كا دستور كيا (يا كيسا؟) ہوگا، اس بات كا جواب دينے والا ميں كون ہوتا ہوں…ہميں چودہ صدياں قبل قرآن حکیم كى صورت ايک دستور دے ديا گيا ہے اور وہى پاكستان كا دستور ہوگا “…
 
اب ميں سوال پوچهنا چاہتا ہوں اپنے حكام (اشرافيہ) اور عوام سے كہ پاكستان جس مقصد اور نظريہ كے تحت بنايا گيا ، كيا وه مقصد عظيم ہم نے حاصل كر ليا ؟ اگر نہيں توكيا ہم بحثيت قوم اپنے رب سے كيے گئے وعدے سے انحراف و ناشكرى كے مرتكب نہيں ہوئے …اور يوں كيا ہم رب كى ناراضى، غضب اور بالنتيجہ رب كے عزاب و سزا كے مستحق نہيں ہيں؟
 
ذرا سوچیں کہ آج هم پر جو نا اہل افراد، مہنگائى، بدامنى، معاشى بدحالى، وبا و آزمائش مسلط ہے كيا وه كسى عزاب سے كم ہے؟!!
 
سودى قرضوں كے بوجھ اور سودى نظام معيشت كے ہوتے ہوئے كيا خدا سے كسى رحمت كى اميد كى جا سكتى ہے!؟؟ طرح طرح كے تعصبات ، دهڑے بنديوں، سياسى چپقلس، مذہبى فرقہ بندى ، جہالت، جنسى جرائم، بے حيائىى، قانون شكنى، بے انصافى اور غربت و افلاس سے نجات كا آخرى ذريعہ كيا ہے…. كيا نظام اسلام كے علاوه كوئى حل بچا ہے؟؟
 
يہ ہے وه “سوال” جو اس با بركت رات بحثيت قوم ہمیں اپنے آپ سے پوچھنے كى ضرورت ہے!! ہميں خود احتسابى و ايفائے عہد كى جتنی ضرورت آج ہے ، پہلے كبهى نہ تهى….اسى طرح اپنى سابقہ غلطيوں، كوتاہيوں، سركشيوں پر نادم ہونے اور اپنے رب سے مغفرت طلب كرنے كى جتنى ضرورت آج ہے، پہلے كبهى نہ تهى….. صرف رياست مدينہ كا نعره لگا دينے سے ، رياست مدينہ وجود ميں نہيں آئيگى…بلكہ وه اوگ منتخب كرنے ہوں گے جو اسلام سے مخلص ہوں.. جو قرآن و سنت كے قانون كے نفاذ، اسلامى نظام عدل كے قيام اور سود كے خاتمہ كيلئے عملى اقدامات اٹهانے پر آماده ہوں ، يہ وقت كى ناگزير ضرورت ہے…
 
تب جاكر حقيقى اسلامى فلاحى رياست وجود ميں آئيگى.. پهر ہمارا رب ہم سے راضى ہوگا، جو بحثيت ايک مسلمان فرد اور قوم، ہمارا اصل مقصود ہے…اور ہونا بهى چاہيے…وگرنہ ہم يوں ہی در بدر بهٹکتے رہيں گے… اور شايد دنيا و آخرت دونوں كے گهاٹے كے سوا كچھ حاصل نہ ہوگا…!!
 
(تحرير نبيل شوكت وڑائچ)

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین