خبر اور تجزیہ

چین کے ساتھ اب ترکی بھی پاکستان کا ہم خیال اور حلیف بن رہا ہے

آرمینیا کی ذربائیجان کے ہاتھوں شکست اور اس جنگ میں ترکی کے فیصلہ کن کردار کے بعد عالمی منظر نامے پر مسقبل کی صف بندیاں واضع ہو رہی ہیں۔

عالمی منظر پر چین کی زبردست معاشی قوت اور تباہ کن فوجی طاقت امریکہ کی عالمی چوہدراہٹ اور مغربی دنیا کی اجارہ داریوں کیلئے ایک کڑا چیلنج بن رہی ہے۔ کورونا سے شدید متاثرہ معشیت کی انتہائی بدحالی کے شکار امریکہ کے ایوان محکمہ دفاع سے جنوب مشرقی ایشیاء اور بحر الکاہل میں مزید فوجی اڈے بنانے کی تاکید کر رہے ہیں ۔ تاکہ چین کی جارحانہ پالیسیوں اور پھیلتی ہوئی ملٹری پاور کا مقابلہ کر سکیں۔
 

امریکی فوجی ماہرین کے پینل نے امریکی ہاؤس آف آرمڈ سروسز کمیٹی کو سفارش کی ہے کہ چین کے حملوں سے بچاؤ کیلئے نئے امریکی اڈوں کی تعمیر لازم ہے۔ امریکہ کیلئے اس خطے میں نئے اتحادیوں اور مشترکہ مفادات کے شراکت دار ممالک کی تلاش انتہائی ضروری ہے۔

ایلبریج کولبی کی سربراہی میں امریکہ اور اتحادیوں کے مشترکہ مفادات کی پالیسیاں اور سفارشات تیار کرنے والے ادارہ متحرک اور فعال ہے۔ ادارے کے مطابق امریکہ کو چینی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے مستقل مزاجی سے منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔ اس کیلئے موجودہ اتحادیوں کے ساتھ ساتھ چین سے تحفظات رکھنے والی ریاستوں کے ساتھ شراکت داریاں قائم کرنے پر فوکس کیا جائے۔
۔
امریکی تھنک ٹینک کے مطابق چین امریکہ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف بن چکا ہے۔ جس کیلئے امریکہ میرینز بیسنگ کی منصوبہ بدیاں اولین ضرورت ہے۔ امریکی عزائم اس بات سے عیاں ہیں کہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے مشرقی اور جنوبی چین کے سمندروں میں چین کے علاقائی دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ امریکہ مشرق و مغرب پوری دنیا پر اپنی چوہدراہٹ کا دعویدار ہے ۔ اور اپنے علاوہ کسی اور کو عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق نہیں دے گا
۔
حال ہی میں جمہوریہ پلاؤ کی طرف سے امریکہ کو فوجی اڈوں کی تعمیرات کی اجازت کے بعد امریکی دفاعی پالیسی ساز ایک بار پھر میرین بیسنگ پر توجہ دے رہے۔ جمہوریہ پلاؤ کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک سمندری بندرگاہوں اور جنگی ہوائی اڈوں سمیت امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کیلئے تیار ہے۔ صدر ریمین جسو نے کہا ہے کہ امریکی فوج سے پلاؤ کا اشتراک ایک آسان عمل ہے۔ امریکی افواج پلاؤ کے ساتھ مشترکہ مفادات کی جنگی تنصیبات قائم اور باقاعدہ استعمال کریں۔ 
۔
جمہوریہ پلاؤ امریکی جنگی اڈے گوام کے مغرب میں فلپائن سے پانچ سو کلومیٹر اور تائیوان سے دو ہزار کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔ قدرتی جزائر پر مشتمل یہ ملک امریکہ کیلئے چین کے سٹریٹجک مفادات ، دفاعی تنصیبات کی نگرانی اور پورے خطے میں جنگی کاروائیوں کیلئے انتہائی اہمیت کی لوکیشن ہے
۔

 امریکی فوج گوام کے فوجی اڈے پر اپنی طاقت اور انفراسٹرکچر مضبوط تر بنا رہی ہے ۔ جبکہ امریکی بحریہ نے حال ہی میں امریکی حکومت کو گوام کیلئے فوجی اخراجات میں دو ارب ڈالرز کے اضافہ کی درخواست کی ہے

۔
گذشتہ مہینوں گوام کے امریکی فوجی اڈے سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی ہوئی تھی۔ لیکن چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین میں بحریہ کے جہازوں کی تعیناتی کے بعد اس ماہ امریکی فضائیہ کو واپس گوام ائر بیس پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ چین اور امریکہ کے مابین کشیدہ صورت حال میں جزائر پلاؤ میں امریکی اڈوں کا قیام مستقبل میں جارحانہ امریکی پالیسی کے بارے خوفناک اشارے دے رہا ہے
 
دوسری طرف لداخ میں چین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد چین کی فوجی طاقت سے خائف بھارت امریکی سرپرستی کو تحفظ سمجھ رہا ہے۔ بھارت نے اپنے دیرینہ دوست روس سے کنارہ کشی اختیار کر کے چین کیخلاف امریکی چھتری کی پناہ میں عافیت جانی ہے۔ لیکن بھارت اس حقیقت سے چشم پوشی کی تاریخی غلطی کر رہا ہے کہ بازاری عورت کی طرح یار بدلنے والا امریکہ اپنے مقاصد پورے ہونے پر اپنے اتحادیوں کو موت کی وادی میں اکیلا چھوڑنے کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ بھارتی اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی بھارت کی امریکہ نوازی کیخلاف تحفظات کی آواز اٹھ رہی ہے ۔
 
لیکن امریکہ بھارت کو چین کیخلاف شہہ دیکر جلتی آگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحریہ کے ساتھ بھارتی بحریہ کی جنگی مشقیں بھارتی بربادی کی داستان کی محض شروعات ہیں۔ چین اپنی تجارت کے اس اہم راستے کو کسی بھی قیمت پر بند ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔ لہذا اس نے بھارت پر دباؤ کیلئے لداخ سے اروناچل پردیش اور سکم تک سرحدوں پر فوجی قوت میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔
 

چین نے بھارتی سرحد کے قریب جنگی اڈوں پر  اپنے ملٹی رول فائٹر جے -11 ، جے- 20 سٹیلتھ فائٹر ، ایچ ۔ 6  اور جے ایچ ۔ 7 بمبار طیاروں کے سکواڈرن ، بھاری تعداد میں تباہ کن میزائیل لانچرز اور ائر ڈیفنس سسٹم نصب کر دیے گئے ہیں۔

۔
حیرت انگیز مگر افسوسناک امر ہے کہ امریکہ آٹھ ملین کیسوں اور سوا دو لاکھ اموات جبکہ دس سات ملین کیسوں اور سوا لاکھ سے زائد اموات کے ساتھ کورونا سے شدید متاثرہ ممالک میں ٹاپ ٹو ممالک ہیں۔ امریکہ میں 15 ملین سے زائد لوگوں نے بیروزگاری الاؤنس کیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ بھارت میں 80 کروڑ سے زئد لوگ تنگ دستی اور بھوک کا شکار ہیں۔ لیکن یہی دونوں ممالک اپنے عوام کے ہولناک حالات بھول کر ، حسب معمول اسرائیلی آشیرباد کے ساتھ دنیا بھر میں جنگ کی وحشت اور موت کی دہشت بانٹنے کیلئے نئے اتحادی بن کر نکلے ہیں ۔
 
بھارت اور اسرائیل کی بھرپور سپورٹ کے باوجود آرمینیا کی آذربائیجان کے ہاتھوں شکست اور اس جنگ میں ترکی کے بھرپور کردار کے بعد مسقبل کی صف بندیاں واضع ہو رہی ہیں۔ چین کے ساتھ اب ترکی بھی پاکستان کا ہمنوا بن رہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں دم بدم بدلتی ہوئی صورت حال میں پاکستانی فوجی قیادت ہر ڈیویلپمنٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور سرحدوں پر جاگنے والے سپاہی بھارت کی کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے اور وطن عزیز کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ( جاری ہے )۔

تحریر : فاروق درویش 

ALSO READ THIS  ہندوستان ترک ڈرون ہتھیاروں اور پاکستان ترکی دوستی سے خوف زدہ ہے

تازہ ترین کالم

احتجاج کا گورکھ دہندہ ! کیا جمہوری نظام میں پاکستان کی بقا ہے ؟

احتجاج ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ جمہوریت کی ناجائز اولاد...

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ...

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق ایک اہم سنگِ میل...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
ALSO READ THIS  جب ترکی فضائیہ کے ایف 16 نے آرمینی جنگی طیارہ مار گرایا

چین نیوز

چین نے ہندوستان کیخلاف ڈیموں کے واٹر بم کی دھمکی دے دی

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین...

چین نے ہندوستان کیخلاف ہولناک مائیکرو ویو ہتھیار استعمال کیے

چین کی رینمن یونیورسٹی کے انٹرنشنل ریلیشن کے وائس...

ترکی نیوز