آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

نیب کا ڈرامہ اور حقائق ۔ اوصاف شیخ

شہباز شریف کے گھر پر چھاپے کے دوران نیب ٹیم ڈیڑھ گھنٹہ گھر میں موجود رہی تو کیا وہ زمین کھود کر تلاش کر رہے تھے

- Advertisement -
لاہور ہائی کورٹ نےمنی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مطلوب مسلم لیگ ن کے صدر ۔ قائد حزب اختلاف۔ سابق وزیر اعلی’ پنجاب میاں شہباز شریف کی 9 جون تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کو انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا اور 9 جون کو میاں شہباز شریف اور نیب کو طلب کر لیا ۔ نیب نے میاں شہباز شریف کو متعلقہ کیسوں میں سوالات کے جواب کے لیئے طلب کیا لیکن وہ مسلسل تین پیشیوں پر نیب میں حاضر نہیں ہوئے انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ وہ عمر رسیدہ بلڈ ، کینسر کے مریض ہیں اور کورونا کی وجہ سے آئسولیشن میں ہیں لہذا وہ پیش نہیں ہو سکتے ان سے سوالات اسکائپ پر کر لیئے جائیں۔
 
نیب نے تیسری مرتبہ بھی حاضر نہ ہونے ہر ان کی گرفتاری کا پروگرام بنایا اس سے سے ایک دن قبل میاں شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر دی اگلے دن ہائی کورٹ میں ججز کے نہ ہونے کے سبب ضمانت کا کیس نہیں سنا جا سکا اور اس دن نیب نے ان کی گرفتاری کے لیئے مادل ٹاؤن میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ڈیڑھ گھنٹہ میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ کے اندر رہنے کے بعد باہر آ کر کہا گیا کہ وہ یہاں موجود نہیں ۔
 
جاتی امراء میں ان کی موجودگی کی اطلاع ہے ٹیم جاتی امراء روانہ ہوئی ٹھکر نیاز بیگ پر ٹیم کو تبدیل کیا گیا اور بعد ازاں ان کی گرفتاری کا پروگرام موخر کر کے گرفتاری سے متعلق اعلی’ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا جو غالبا” اگلے دن لاہور ہائی کورٹ سے میاں شہباز شریف کی ضمانت تک جاری ہی رہا
 
یہ بات اہم ہے کہ جو شہباز شریف نیب میں حاضر ہونے کا جواز اپنی عمر بلڈ کینسر اور کورونا کی وجہ سے آئسولیشن بتاتے رہے وہ ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیئے پھرتی سے پھرتے رہے اور کارکنوں اور پارٹی رہمناؤں کے جلو میں بیان دیتے تیزی سے چلتے نظر آئے اور ان سب کے ہمیشہ سے اس قسم کے دیئے گئے بیانات کے پول کھلتے رہے
 
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے یا پھر حقائق ہی بالک یہی ہیں کہ نیب نے میاں شہباز شریف کی گرفتاری کا ڈرامہ کیوں رچایا ۔۔۔ کیا انہیں بھگانا اور رسواء کرنا مقصود تھا ؟ چار گھنٹے سے زائد اس ڈرامہ کا ڈراپ ڈین دیکھنے کے لیئے عوام بالخصوص مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے کارکنان ٹی وی اسکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھے رہے ۔
 
چند چینلز بار بار پچھلی باتیں اور یادیں بھی دہراتے رہے کہ اسی طرح ایک مرتبہ گرفتاری کے لیئے مارے جانے والے چھاپہ پر میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز لکڑی کی سیڑھی لگا کر ساتھ والے گھر میں کود کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے اور بعد ازاں ضمانت ختم ہونے پر گرفتار ہوئے اور ایک سال سے قید میں ہیں ۔۔۔
 
نیب کے سست طریقہء کار پر مجھے بھی سب کو بھی اعتراض ہے دو سالوں سے نیب کیا کر رہا ہے یا مکمل ث وتوں کے ساتھ کیس فائل کرے یا ان کا پیچھا چھوڑے ورنہ ابہام پیدا ہونا فطری بات ہے کہ نیب سیاسی طور پر تنگ کر رہا ہے یا پھر کام ہو ہی یہی رہا ہے ۔
 
ماڈل ٹاؤن چھاپہ کے دوران رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم میاں صاحب کہاں ہیں صبح ہائی کورٹ جانے تک کا معلوم ہے اس کے بعد ککاں ہیں کچھ رابطہ نہیں اور یہ بھی کہا کہ وہ صبح ہائی کورٹ میں ہی پیش ہوں گے یہ الفاظ کیا معنی خیز نہیں ؟
 
نیب کا یہ چھاپا صرف اور صرف ڈرامہ تھا یہ ممکن ہی نہیں کہ نیب میاں شہباز شریف کی موجودگی کی کنفرم اطلاع کے بغیر چھاپہ مارے اور رسواء ہو چھاپہ کا مقصد ان کی گرفتاری نہیں بلکہ کچھ اور تھا شہباز شریف گھر کے اندر ہی موجود تھے انہیں علم تھا کہ انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا اور گھر کے باہر موجود ایک آدھ پارٹی رہنما کو معلوم تھا یہ سب ۔۔۔۔
 
مریم اورنگزیب کا یہ بیان قابل غور ہے اور پارٹی کارکنوں کو اکسانے اور اشتعال دلانے والا ہے کہ اگر میاں صاحب کو گرفتار کیا گیا تو عوام بنی گالہ سے عمران خان کو گرفتار کر لیں گے۔۔۔ یہ الزام وزیر اعظم عمران خان پر ہے تو پھر اس ڈرامہ کا یقین زیادہ کو جاتا ہے۔۔۔ پنجاب میں ن لیگ کے ووٹرز اور کارکنان ہونے کے باوجود مریم اورنگزیب بھی جانتی ہیں کہ اب عوام ان کے رہنماؤں کے لیئے باہر نکلنے کو تیار نہیں گزشتہ چند واقعات سے مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے۔
 
بعض احباب کا خیال تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی اور قابل سماعت قرار دی جا چکی ہے اور تاریخ سماعت بھی دی جا چکی تو ایسے میں شہباز شریف کو گرفتار کرنا غیر قانونی ہوگا اگر ایسا ہی ہے اور یہ قانونی نقطہ ہے تو کیا اتنے بڑے بڑے کیس ڈیل کرنے والے نیب کو اس چھوٹے سے نقطے کا علم نہیں تھا ؟ مسلم لیگ ن کا الزام ہے کہ یہ سب عمران خان کے کہنے پر کیا جا رہا ہے تو کیا اب تک کامیاب سیاست کرنے والے عمران خان اور انکی قانونی ٹیم کو اس معمولی نقطے کا پتہ نہیں تھا ؟
 
یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا ۔۔۔ بات دراصل وہی ہے کہ میاں شہباز شریف جن کو ایک عام سی چال چل کر ملک واپس آنے پر راضی کیا گیا وہ ان ہاؤس تبدیلی بالخصوص پنجاب میں تبدیلی کے خواہاں نظر آئے اور یہ سب ان کی مرضی کی ڈیل نہ ہونے پر شروع کیا گیا اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کے چند مبینہ ناراض کارکنوں سے ان کے رابطے رہے مڈلم لیگ ق وزارت اعلی’ سے کم پر راضی نہ ہوتی لیکن اگر عمران کے ساتھ فوج ہے جیسا کہ الزام ہے تو کیا ق لیگ اس کو چھوڑ سکتی ہے ؟ کبھی نہیں ۔۔۔۔
 
شہباز شریف کے گھر پر چھاپے کے دوران نیب ٹیم ڈیڑھ گھنٹہ گھر کے اندر موجود رہی تو کیا وہ زمین کھود کر تلاش کر رہے تھے۔ اگلے دن انکی لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ہوگئی نو جو ہونا ہی تھی کیونکہ اس بات میں کم ہی شبہ باقی رہ گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے شریف فیملی کو ریلیف نہ ملے ۔۔۔ چند دن کی مہلت ہے ۔۔۔ اچھی ڈیل ہوگئی تو ٹھیک ورنہ پھر وہی۔۔۔۔۔
 
لیکن مسلم لیگ ن کے کارکن یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ان کے قائد کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں ان کو صرف خود سے غرض ہے جو بارہا ثابت ہوچکا ہے ۔ میاں نواز شریف خاموش ۔۔۔ مریم نواز خاموش ۔۔۔ سلیمان شہباز مفرور۔۔۔ شہباز شریف کی پہلی ترجیع بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح لندن بلے جانا ہے لیکن ان کی ایک مجبوری ہے کہ ان کا ایک بیٹا حمزہ گرفتار ہے ۔ وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ پارٹی پر ان کی گرفت نہیں رہی۔ انہیں صرف اور صرف اپنی اور اپنے بیٹے حمزہ کی فکر ہے ان کے کارکن بھی بے فکر ہو جائیں
۔ ۔
اوصاف شیخ

تازہ ترین پوسٹ

Comments

  1. اوصاف شیخ صاحب نے اپنے کالم میں تیز دھا ر چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے۔
    ماشاء اللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین