آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

محترم وزیر اعظم ! آپ کو تھکایا جا رہا ہے – اوصاف شیخ

جناب وزیر اعظم بات صرف سابق حکمرانوں کی ہی نہیں ان کے علاوہ بھی کئی لوگ آپ کے دعوؤں کے مطابق کرپشن میں ملوث تھے

- Advertisement -
جناب وزیر اعظم میں آپ کو میرے کپتان کہہ کر مخاطب نہیں کروں گا یہ طنزیہ تخاطب مشہور ہوچکا ہے میں دیگر کوئی طنزیہ یا مایوسی والا لقب بھی استعمال نہیں کروں گا کیونکہ میں آپ سے مایوس نہیں ہوں ۔ آپ کے اقتدار کو دو سال ہوگئے اور میرے آپ سے مایوس نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں نہ تو آپ نے اڑتیس سال تک حکومت کی نہ ابھی تک آپ کی کوئی لوٹ مار میرے سامنے آئی اور نہ ہی ابھی تک میرے سامنے کوئی ایسی بات کوئی ایسا ثبوت آیا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ آپ ملک و قوم سے مخلص نہیں ہیں ۔
 
آپ نے پچھلے بائیس سال کی سیاست اور بالخصوص اقتدار سے پچھلے پانچ سال اور اس سے بھی خاص اقتدار سے پہلے کے دو سال میں عوام سےکیئے گئے وعدوں میں سے سب سے مقبول وعدہ اور دعوی’ مخالفین یعنی گزشتہ ادوار کے حکمرانوں کی چوریوں ۔ کرپشن کو سامنے لانے اور انہیں پکڑنے کا وعدہ جسے عوامی محفلوں میں ان کو دیوار سے لگانے کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے جیسا وعدہ تقریبا” پورا کیا گو ان میں سے کسی سے بھی ابھی کرپشن کا پیسہ نہیں نکلوایا جا سکا آپ کی محبت میں ہم اسے سسٹم کی کمزوری بھی کہہ دیتے ہیں اور مان لیتے ہیں.
 
لیکن جناب وزیر اعظم بات صرف سابقہ حکمرانوں کی تو نہیں تھی ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ آپ کے دعوؤں کے مطابق کرپشن میں ملوث تھے ۔۔۔ ایک ملک ریاض جو عدالت میں قسطوں میں رقم دینے پر مانے ہیں ان کے علاوہ تو کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ ٹھیک ہے سابقہ حکمران اور ان کے خاندان تقریبا” گرفت میں ہیں اور کچھ مفرور ہیں اور ان کی مفروری اور بیانات میں مسلسل تبدیلی آپ کے دعوؤں کو تقویت دیتی ہے.
 
بات پھر ان کے علاوہ بھی جو دوسرے لوگ کرپشن میں ملوث رہے ان کا کیا بنا ۔۔۔ سابقہ حکمرانوں اور مزید چند لوگوں کے حوالے سے تو یہ خبر گردش کرتے کرتے جڑ پکڑ چکی ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی سودے بازی ہو رہی ہے ۔ سودے بازی اگر ملک کی لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کی شرط پر ہے تو آپ کے ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ووٹروں کو یہ بھی قبول ہوگا کہ ملک کی رقم مل جائے آخر تقریبا” دو سال کی آپ کو تھکانے کی پریکٹس کا انجام ایسا ہی نکل سکتا ہے اور اس میں کوئی دو ایک ادارے بھی مفاہمانہ کردارادا کر سکتے ہیں.
 
یہ تو چند لوگوں کی کہانی ہے ۔ دیگر لوگ جنہیں مافیا کہہ کر پکارا جاتا رہا اور پکارا جاتا ہے کیا وہ بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح اتنے ہی مضبوط ہیں ان۔کی بھی بیرونی سفارشات کیا ایسی ہیں کہ جن کا انکار پاکستان کے لیئے مشکل ہو ۔ سابقہ حکمران اور ان کے خاندان تو امتحان میں نظر آ رہے ہیں لیکن دیگر مافیاز تو پہلے سے زیادہ سرگرم نظر آ رہے ہیں ۔ آٹا مافیا ۔ چینی مافیا ۔ پیٹرول مافیا ۔ یہ کم تو نہیں ۔۔۔
 
آپ کی بہترین کوششوں کے بعد بھی چینی مافیا آج بھی چینی کا بحران پیدا کر کے مہنگی فروخت کرتا ہے ۔ یہی حال آٹا مافیا کا ہے ۔۔۔۔ آپ نے یعنی حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم کیں تو پٹرول غائب کر دیا گیا ۔۔۔ چینی کی رپورٹ اور کیس والا معاملہ ظول پکڑ گیا آپ کے قریبی ساتھ جہانگیر ترین نو اس میں ملوث ہیں ان کی جانب سے چند دن آپ کے لیئے دھمکیاں سنیں گئیں اور پھر وہ بھی لندن سدھار گئے جانے کس سے ملاقات کرنے ۔ جانے کیسا دباؤ ڈلوانے ۔ جانے کب واپس آنے کے لیئے ۔۔۔ الزام تو یہ بھی ہے کہ آپ نے انہیں باہر بھیج دیا حالانکہ ایسا لگتا نہیں…
 
چینی۔ آتا ۔ پٹرول پر ہی بس نہیں ۔ چند ماہ میں دواؤں کی قیمتیں چار پانچ بار تو میں نے بڑھتے دیکھی ہیں ۔ کورونا کا انجکشن تو بارہ ہزار سے چھلانگ لگا کر چار سے چھ لاکھ تک بلیک ہو رہا ہے لیکن جو دوائیں دیگر ہیں وہ بلیک نہیں ہو رہیں بلک ان ہر باقاعدہ نئی قیمتیں درج ہوتی ہیں آخر کیوں کنٹرول نہیں ان پر ۔۔۔
 
یہ زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دوائیں ہیں اگر کورونا کے معیشت پر اثرات مرتب ہوئے ہیں تو دوائیں تو بک ہی رہی ہیں اور بفرض محال کہیں ان کمپنیوں کے بجٹ بھی متاثر ہوئے ہیں تو ان کو کم۔منافع لے لینا چاہئے بجائے اس کے کہ اگلا ہچھلا سارا نقصان عوام سے پورا کریں ۔۔۔ کس چیز کا نام لوں جو مہنگی نہیں کی گئی ۔۔۔ یہاں تو بار بار کی وارننگز کے باوجود مرغی کا گوشت حکومت کی مقرر کردہ قیمت پر فروخت نہیں کیا جا رہا اور اپنی مرضی کے مطابق عوام کو لوٹا جا رہا ہے ..
 
حکومت بالخصوص آپ کی جانب سے ہر ناجائز منافع خور کو وارننگ دی گئی لیکن کسی نے اثر نہیں لیا ۔ کیا یہ مافیا اتنے مضبوط ہیں کہ آپ صرف وارننگ ہی دے سکتے ہیں اور معذرت سے عرض ہے کہ اب آپ کی وارننگز مذاق کے طور پر موضوع گفگو بنتی جا رہیں ہیں
 
میں نے اوپر کہا ہے نا کہ ابھی آپ کے ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ووٹ آپ سے مایوس نہیں ہوئے ۔ وہ اب بھی آپ کا دفاع کرتے ہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہ نہ بڑھانے کے آپ کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں اور ٹھیک کرتے ہیں کہ اس وبائی صورتحال میں جہاں دنیا کی بہترین معیشت کے حامل ممالک نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کی ہے پاکستان جیسے غریب ملک نے ان۔کی تنخواہ کم نہیں کی اس تباہ کن صورت حال میں ان کا مطالبہ اور احتجاج کفران نعمت ہے.
 
لیکن محترم وزیر اعظم صاحب یہ دونوں طرح کی مہنگائی اب برداشت سے باہر ہے ۔ ایک تو وہ جنہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر قیمتیں بڑھائیں اور بڑھا رہے ہیں اور دواؤں ۔ اور دیگر اشیاء ہر نئی قیمتیں بھی درج کرتے ہیں جن کا آپ کی معصوم مارکیٹ کمیٹیاں کچھ نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔۔
 
دوسرے وہ جو چور بازاری کر رہے ہیں ۔ وہ بھی ڈنکے کی چوٹ ہر ہی کر رہے ہیں ۔ آٹا غائب ۔ چینی غائب۔ ہٹرول غائب سب کچھ بلیک میں فروخت ۔۔۔۔ تو یہ سراسر آپ کو چیلنج ہے اور صرف آپ کے ووٹرز اور سپورٹرز ہی نہیں پوری قوم کی نظریں آپ پر ہیں آپ کے ووٹرز تو لوگوں کی باتیں اور طعنے بھی سہتے ہیں جبکہ آپ کی مقامی قیادتیں صرف الیکشن میں نظر آئیں گی ۔ آپ سے امید ہے ابھی اس بدمعاش مافیاء کا سر کچل دیں یہ پچھلے چالیس سال سے پل کر سانڈ بن چکا ہے ۔۔۔۔
 
یہ مافیا آپ کو تھکا رہا ہے مجھے اور آپ کے ووٹرز کو امید ہے آپ تھکیں گے. نہیں ۔۔۔۔۔ گو بہت خرابیاں ہیں ۔۔۔ پورا سسٹم ہی گندہ ہے اس سب کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور اوپر سے یہ کورونا وباء آگئی اس کے باوجود پوری قوم چاہتی ہے کہ روز افزوں مہنگائی کے جن کو قابو کریں ۔۔۔۔
 
قیمتیں بڑھانے والوں اور مصنوعی فلت پیدا کر کے ناجائز منافع حاصل کرنے والوں۔ اربوں ۔ کھربوں کے مالک ہونے کے باوجود حکومتوں سے مراعات حاصل کرنے والوں کا قلع قمع ایم ترین اور جلد از جلد ضرورت ہے
 
اوصاف شیخ

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین