خبر اور تجزیہ

آیا صوفیہ سے چوراسی سال بعد پھر سے اذان کی صدا گونجے گی

پانچ صدیاں مسجد رہنے کے بعد سیکولر نظریات رکھنے والے اتا ترک نے 1934ء میں آیا صوفیہ کو مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا تھا

- Advertisement -
صدر اردگان کے حکم پر ترکی کی وزارت مذہبی امور نے چوراسی برس بعد آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کر کے پہلی نمازِ جمعہ کیلیے جن تین امام صاحبان کا تقرر کیا ان اماموں میں سب سے سینئر امام مارمرا یونیورسٹی میں مذہبی تعلیمات کے پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔

دو روز قبل ترکی میں مذہبی امور کے سب سے بڑے پینل کے سربراہ جناب علی ارباز نے تین اماموں کی تقرری کا اعلان کیا جو نمازِ جمعہ کی امامت کے فرائض انجام دیں گے۔

یاد رہے کہ ترکی میں حفظ قرآن ، نماز اور مساجد کی بندش کرنے والے لادین اور سیکولر اتا ترک کے دور میں ترکی کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے فیصلہ آنے کے بعد کہ آیا صوفیہ کو چوراسی سال قبل غیر شرعی اور غیر قانونی طور پر مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ جبکہ صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس تاریخی عمارت کی دوبارہ مسجد میں تبدیلی کی توثیق کی ہے۔
 
تاریخی حقائق واضع ہیں کہ یہ عمارت پہلے بھی مسجد رہی ہے لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر یونان، امریکہ اور عیسائی کلیسا کے اکثر لیڈروں نے اس عدالتی اور عوامی فیصلے پر شدید غم اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ پوری دنیا سے مسلمان لیڈروں نے اسے مغرب کا اسلام کے بارے نفرت آمیز اور غیر منصفانہ رویہ قرار دیا ہے
 
افتتاحی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے حکام نے آیا صوفیہ کے باہر خواتین اور مرد حضرات کے لیے علیحدہ علیحدہ جگہ کا بھی انتظام کیا ۔ آیا صوفیہ بنیادی طور پر ایک کیتھڈرل چرچ تھا جو بازنطینی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ سلطان محمد فاتح کے دور میں 1453 میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد اِسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ لیکن پانچ صدیاں بعد سیکولر نظریات رکھنے والے اتا ترک نے 1934ء میں آیا صوفیہ کو عجائب گھر میں تبدیل کر دیا تھا، جس پر پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔
 
ترک مذہبی کونسل کے سربراہ علی ارباز نے آیا صوفیہ کیلیے تین موذنوں کی تقرری کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان موذنوں میں سے دو کا تعلق استنبول کی مشہور عالم نیلی مسجد سے ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی نماز جمعہ کی ادائیگی کیلیے اعلی مذہبی حکام نے آیا صوفیہ کے باہر خواتین اور مرد حضرات کیلیے علیحدہ علیحدہ جگہ کا بھی انتظام کیا ہے۔

نماز جمعہ کیلئے مسجد کی طرف جانے والی سڑکوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ ترک اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ نماز جمعہ کے دوران سیکورٹی کیلئے 17000 سرکاری اہلکار حفاظتی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

 
تاس نیوز ایجنسی کے مطابق روس کے آرتھوڈوکس چرچ آفیشلز کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ترک عدالت نے فیصلہ سناتے وقت ان کے خدشات اور استدلال کو جگہ نہیں دی، جس سے تقسیم میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ اتا ترک کے غیر منصفانہ اور غیر اسلامی اقدام سے قبل یہ عمارت پانچ سو برس طویل مدت تک مسلمانوں کی مسجد رہی ہے۔
 
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین