خبر اور تجزیہ

سکالرز نما امریکا و مغرب ساختہ کٹھ پتلیوں کیلیے ایک پیغام

سیاست دانوں کو تحریک لبیک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ خطرہ لا حق ہے کہ 2023 ء کے آنتخابات میں یہ تینوں بڑی جماعتوں کو ٹف ٹائم دے گی اور اس کے نامزد امیدوار لینڈ سلآئیڈنگ وکٹری حاصل کریں گے۔

کیا مغرب ساختہ تجدد پسندی کے عنوان سے عاشقان_ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات کو سرد کرنے کی کوشش علمی و فکری تشدد پسندی اور کتمان-حق نہیں؟

کیا قرآن وسنہ کی رو سے سلمان تاثیر واجب القتل نہیں تھا۔۔۔کیا اس کو واصل جہنم کرنے والے کی پھانسی عدلیہ اور نواز حکومت کے ماتھے کا ان مٹ سیاہ حاشیہ نہیں۔۔۔کیا ملعونہ آسیہ کی رہائی کاحکم مغربی دباو کا نتیجہ نہیں تھا؟۔۔۔ اور۔۔۔اس دور کی حکومت کا اسے بیرون ملک بھیجنے کا اقدام گستاخان رسالت مآب کی حوصلہ افزائی کے مترادف نہیں تھا؟

اظہار رائے کی آزادی کے نام پر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنانا، اسے فرانسیسی حکومت کی سرکاری پالیسی قرار دینا، خاکے بنانے والے گستاخ رسول کو گارڈ آف آنر دے کر دفن کرنا، اسے بعد از مرگ فرانس کا سب سے بڑا سول اعزاز دینا، فرانس کے صدر کا حرمت-رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک و توہین کے سنگین جرم پر اترانا اور اس مذموم فعل کو اپنا قومی شعار اور حکومتی فریضہ قرار دینا ، سرکاری عمارات پر ان لائق- نفریں خاکوں کو آویزاں کرنا اور غازی عبداللہ شیشان کو ماورائے عدالت قتل کرنا۔۔۔کیا شرافت، امن ، برداشت، تحمل، رواداری، تہذیب اور انصاف کی اعلی ترین اقدار، زریں اصولوں اور تقاضوں کے عین مطابق ہے؟

واضح رہے پاکستان مملکت خداداد ہے۔ یہاں 6 ماہ سے جاری فرانس کے خلاف پر امن عوامی تحریک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 97 فیصد شہریوں کا جمہوری و آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس تحریک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے تعبیر کرنا سر عام سچائی کا قتل-عمد ہے۔ اس قتل- بے جا کے مرتکب پاگل مغرب کے پٹھو حکمرانوں کا سفاک جتھہ اور قومی دجالی میڈیا کا گینگ روز حشر شافع-محشر صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائے گا۔

سیف سٹی پروگرام کے تحت لگائے گئے کیمروں کے ذریعے سرچ کرلیا جائے تو قومی املاک کو نقصان پہچانے اور پولیس پر دھاوا بولنے والوں کے اصل چہرے سامنے آجائیں گے۔ تھانہ نواں کوٹ کے تھانے پف حملے اور ڈی ایس پی کے مبینہ اغوا کی اصل کہانی سامنے آجائے گی۔ تھانہ نواں کوٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لائی جائیں۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا اور حقائق طشت از بام ہو کر عوام کے سامنے آجائیں گے۔ اس ضمن میں پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز محض افسانہ طرازی، خانہ ساز داستان اور صحافتی زبان میں ایک ٹیبل سٹوری ہے۔ اسی تناظر میں بعض حلقوں کی رائے ہے کہ مذکورہ تھانے پر حملہ آور ہونے والے اکثر سول ایجنسیوں اور پولیس برانچ کے ڈاڑھی اور دستار پوش ملازمین ہیں؟

مبینہ تشدد، دہشت گردی اور تخریب کاری کا ملبہ تحریک لبیک پاکستان پر محض اس لیے ڈالا گیا تاکہ ملک کی 5 ویں اور پنجاب کی تیسری بڑی عوامی و سیاسی اور دینی جماعت کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔ سیکولر اور لبرل طبقات اور ان کی فارن فنڈڈ این جی اوز کو تحریک لبیک پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ خطرہ لا حق ہے کہ 2023 ء کے آنتخابات میں تحریک لبیک پاکستان موجودہ نام نہاد تینوں بڑی جماعتوں کو ٹف ٹائم دے گی اور اس کے نامزد امیدوار لینڈ سلآئیڈنگ وکٹری حاصل کریں گے۔

اگر تجدد پسند ویسٹرنائزڈ دوچار مغرب کے خود کاشتہ سکالرز یا ان کا کوئی حامی یہ سمجھتا ہے کہ ان کے امن پرستی، بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کے مواعظ سے عوام متاثر ہوں گے تو وہ جنت الحمقاء کے باسی ہیں۔ ان کی تمام تصنیفی، تالیفی، تحریری و تقریری اور جارحانہ مہنگی ترین تشہیری کاوشیں ریت میں ہل چلانے کے مترادف ہیں۔۔

ان امریکا و مغرب کے کٹھ پتلی سکالرز کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر باقی عالم اسلام گستاخانہ خاکوں اور توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر صمم بکم عمی بنا ہوا ہے تو پاکستانی شہری کیوں جذباتیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ “ذرا سی بات ” پر کیوں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ پر لاتے ہیں؟ ان کی اس بودی دلیل، کھوکھلی منطق اور مغرب کے ڈکٹیٹد بے مغز اعتراض کا جواب یہ ہے کہ تمہاری سوچ اپروج نے ڈالرز ، یوروز اور سٹرلنگ پاونڈز کے میٹرینٹی ہومز کے لیبر روم میں جنم لیا ہے۔ اس لیے پاکستان ، افغانستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مسلمان اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے اور پائے استحقار سے ٹھکراتے ہیں۔۔۔

میرے مطابق اگر یہ مان لیا جائے ک ایک آر ب 70 کروڑ مسلمان پیش پا افتادہ مفادات اور علاقائی مصلحتوں کے تحت خاموش ہیں تو وہ نہ صرف مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں بلکہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی بھی مول لے رہے ہیں ۔ ان کی یہ خاموشی عاشقان-رسالت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حجت نہیں۔

جہاں تک سانحہ لاہور کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اگر پولیس پر امن دھرنے پر تاتاریانہ دھاوا بولنے کے دوران لاٹھی گولی کا اندھا دھند وحشیانہ استعمال نہ کرتی تو اس کے دوچار جوانوں کی مبینہ ہلاکتیں نہ ہوتیں۔ ابھی ان ہلاکتوں کے ذمہ داران کا تعین ہونا باقی ہے۔ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ختم نبوت کے لیے لڑنا اور مرنا صحابہ کی سنت ہے۔ ویسے تو یہ پوری امہ کا فرض منصبی ہے۔ حدیث ہے
من سب نبیا فاقتلوہ

آپ دیکھیں گے کہ گستاخان رسالت فرانس میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ آخر وہاں بھی غازی عبداللہ شیشان شہید کے پیروکار موجود ہیں۔۔ جرمنی میں بھی غازی عامر نذیر چیمہ شہید نے گستاخ رسول کو واصل جہنم کردیا تھا۔۔۔غازی تنویر قادری نے برطانیہ میں منکر ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہچایا اور آج پس دیوار زنداں وہ لبیک لبیک یا رسول اللہ لبیک کے نعرے لگا رہا ہے۔۔۔

تاریخ رقم ہو رہی ہے کہ دنیا بھر میں مسلم نوجوان گستاخان رسول کو نقش عبرت بنانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کیلیے جہاد کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ بھلے سے مغربی اور ہمارا دجالی میڈیا اسے انتہا پسندی سے تعبیر کرتا رہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ان ناقابل تردید حقائق سے “فدویانہ چشم پوشی” کر لیتے ہیں۔ کیا انہیں خبر نہیں کہ نیٹو اور امریکی فورسز نے حالیہ دہائیوں میں 40 لاکھ عراقیوں، 60 لاکھ افغانیوں اور 30 لاکھ شامیوں کو جرم بے گناہی میں شہید کیا۔

کیا یہ دہشت گردی اور انسانیت دشمنی نہیں۔ ابو غریب، قلعہ جھنگی، بگرام ائیر بیس اور گوانتا نامو بے کے ٹارچر سیلز میں لاکھوں نوجوان مسلمانوں کو یورپیوں اور امریکیوں نے جس تشدد کا بنایا، اس کے سامنے دوسری عالم گیر جنگ میں ہٹلر کے فوجیوں نے یہودیوں کے ساتھ گیس چیمبرز میں جو مبینہ سلوک کیا تھا، وہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔ اسی جنگ کے اختتامی مرحلے پر پچھلی صدی میں امریکا نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو زندگی ایسی بیش قیمت متاع کو تاب کاری شعلوں کی نذر کرکے جو کارنامہ سر انجام دیاتھا، وہ امن عالم کی تاریخ کا ای سنہرا باب ہے؟ آج یہی انسانیت کے قاتل درندہ خصلت امریکی حکام امن اور اہنسا کے مہا پرچارک بنے ہوئے ہیں۔

مغرب اور امریکا میں مقیم نام نہاد مسلم سکالرز امریکا کے بھونپو اور مغرب کے ماوتھ آرگن نہ بنیں۔ امریکی و مغربی ڈکٹیشن پر امن کی فاِختائیں بن کر پاکستانیوں کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بین السطور دستبردار ہونے کی تلقینی ہدایات جاری نہ کریں۔ عشاقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بس اتنا جانتے کہ اسلام کی روح جذبہ ء جہاد میں ہے اور جذبہ ء جہاد کی روح غازی علم الدین شہید؛ غازی عامر نذیر چیمہ شہید، غازی ملک ممتاز قادری شہید اور غازی عبداللہ شیشان شہید ایسا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بے پایاں جذبہ ہے۔ اسلام بہ جز اس کے کچھ نہیں۔ اگر مغرب میں پناہ گزین یہ سکالر امہ کو بیداری اور عشق رسول کا پیغام نہیں دے سکتے تو دنیا و عاقبت میں ان کی خیریت اسی میں ہے کہ چپ رہیں۔ یہ بے بی سائز سکالر علامہ اقبال کے جوتوں کی خاک کے بھی برابر نہیں۔ مرشد اقبال عالم اسلام کے نوجوانوں کو یہ پیغام دے گیا ہے

عشق تمام مصطفی، عقل تمام بو لہب
بحمد للہ بہ روز حشر تحریک لبیک پاکستان کے شہدائے ناموس رسالت جنگ یمامہ کے شہیدوں کی حسین روایت کے پرچم برداروں کی صف میں ایستادہ ہوں گے۔ ان سکالر نما ہر کٹھ پتلی کو للکار کر آگاہ کریں گے
مجھے تعلیم دے کر تیغ و خنجر چھینے والے
تری تعلیم سے اچھا رہا جوش ِ جنوں میرا

حافظ شفیق الرحمن کالم نگار


مذہبی اور انٹی مذہب تہذیبوں کے ہولناک ٹکراؤ پر یہ کالم بھی پڑھیں

مذہب اور چارلی ایبڈو برانڈ تہذیبوں کا ٹکراؤ ۔۔ تیسری عالمی جنگ ؟

تازہ ترین کالم

احتجاج کا گورکھ دہندہ ! کیا جمہوری نظام میں پاکستان کی بقا ہے ؟

احتجاج ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ جمہوریت کی ناجائز اولاد...

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ...

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی مرحوم

وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق ایک اہم...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

چین نیوز

چین نے ہندوستان کیخلاف ڈیموں کے واٹر بم کی دھمکی دے دی

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین...

چین نے ہندوستان کیخلاف ہولناک مائیکرو ویو ہتھیار استعمال کیے

چین کی رینمن یونیورسٹی کے انٹرنشنل ریلیشن کے وائس...

ترکی نیوز

DEFENCE TIMES

Military Jobs and Defence News

GULF ASIA NEWS

News and facts from Gulf and Asia