آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

سائنس ، طب ، سیوڈو سائنس اور سیاست – ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

رہنمائی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہجوم کے پیچھے چلنے کی بجائے ہجوم کے آگے چلا جائے بشرطیکہ منزل کا پتہ ہو

- Advertisement -
طب دراصل سائنس کا ہی ایک حصّہ ہے لیکن اس کا دائرۂ کار مخصوص ہے- طب کا کام کسی مادّے یا جرثومے یا کیفیت کے انسانی جسم پرمنفی اثرات کا تجزیہ کرکے ان کے علاج، دوا دارو اورخاتمے تک محدود ہے- لیکن یہ دائرۂ کار ہر سمت سے سائنسی تحقیق میں گھرا ہوا ہے جو ایک جانب ماذّے، جرثومے اور کیفیت پراور دوسری جانب ان کے علاج اورخاتمے پر تحقیق کرکے طب کے لیے بنیادی معلومات فراہم کرتی ہے-حالیہ وبا نے طب اور سائنس دونوں کو ایک عالمِ حیرت میں مبتلا کردیا
 
کوئی شک نہیں کہ کووڈ-۱۹ نے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو نہتے گھیر لیا- ڈاکٹرز فلو کو تو کسی حد تک جانتے تھے اور علاج کے لیے مریضوں کے ساتھ ساتھ پریشان رہتے تھے لیکن مرض کی یہ قسم ان کے لیے بالکل نئی تھی جسے وہ آج تک خاطر خواہ نہیں سمجھ سکے-دوسری جانب سائنسدان کورونا وائرس کے قبیلے سے تو کسی طور واقف تھے لیکن کووڈ-۱۹ کیا بلا ہے انہیں کوئی اندازہ نہ تھا
 
بھلا پاکستان میں ان باتوں کا اندازہ کیسے ہوتا ؟سچ تو یہ ہے کہ ہمارے اکثرطبیب تو تحقیق سے علیحدہ ہی رہتے ہیں اور مریضوں کو دیکھ دیکھ کر جو اندازہ ہوتا ہے اسی تجربے پر چلتے ہیں جبکہ اکثر سائنسدان بھی بس سطحی تحقیق تک ہی محدود ہیں- یہی وجہ ہے کہ کورونا وبا کے ان دنوں میں پورے پاکستان سے کوئی ایک نمایاں وائرولوجی کا محقق نکل کر سامنے نہیں آیا جو اس بارے میں کچھ سمجھاتا۔
 
وائرولوجی کے علاقے کے چند اوسط درجہ سائنسدانوں نے اگر کچھ بتانے کی کوشش بھی کی تو پاکستان کے صفِ اوّل کے مایہ ناز سائنسدانوں جن کا وائرو لو جی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا کے بلندوبانگ دعوؤں اور نامعقول اخباری بیانات میں حقیقت کہیں چھپ کر رہ گئی
یہ سچ کب تک چھپ سکتا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں ڈاکٹرز اور سائنسدان کووڈ-۱۹ سے ناواقف تھے– ڈبلیو ایچ او، ایف ڈی اے اورہمارے ڈریپ وغیرہ بھی کچھ نہ جانتے تھے-لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک جو کچھ دنیا نے کووڈ -۱۹ کے بارے میں جانا وہ دنیا دسمبر ۲۰۱۹ میں بھی جانتی تھی-
 
کوئی ایسی نئی بات سامنے نہیں آئی جو چار پانچ ماہ پہلے معلوم نہیں تھی سوائے ایک یا دو باتوں کے جن کا تذکرہ اگلے کسی کالم میں کیا جائے گا-جو باتیں کووڈ-۱۹ کے بارے میں معلوم ہیں وہ ہم اپنے ۲۸ فروری سے ۱۴ مارچ تک کے کالمز میں انتہائی سادہ زبان میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں-لیکن چونکہ قوم کو سنسنی خیز بیانات سے زیادہ دلچسپی ہے اس لیے شاید زیادہ دھیان فرضی یا سیوڈوسائنس پراور سیاسی دعوؤں پر دیا گیا
 
پاکستان میں کورونا کے خلاف جنگ و جدل کے دعوے کرنے والے رہنما عوام الناس کو ننگ و جہل کے طعنے دینے پر اتر آئے جبکہ ان کے رہنما صوبائی سطح پر لاک ڈاؤن کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہے اور اب اسمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کرانے کے لیے بے چین ہورہے ہیں- پاکستان کو موقعہ ملا تھا سنبھلنے کا کیونکہ یہ وبا پاکستان بہت تاخیر سے پہنچی تھی
 
اس وقت تک دنیا میں ناکامی اور کامیابی کی داستانیں رقم ہوچکی تھیں اور یہ موقعہ تھا کہ ہمارے رہنما کہلانے والے بازیگران سے سبق سیکھتے ہوئے عوام الناس کی خواہشات ، تفریحات اور معاشیات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں پیغام دیتے کے اس روگ سے جلد چھٹکارہ پانے کے لیے کیا ضروری ہے- رہنمائی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہجوم کے پیچھے چلنے کی بجائے ہجوم کے آگے چلا جائے بشرطیکہ منزل کا پتہ ہو-لیکن افسوس وزیرِ اعلی سندھ پر باجماعت چڑھائی اور اب اٹھارویں ترمیم کاقضیہ اس پیکرِ رہنمائی کے خدوخال واضح کررہا ہے
 
خدوخال تو اس عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے بھی ظاہر ہوگئے- ایک کے بعد ایک حماقتیں ، ناقص معلومات اور گمراہ کن بیانات- پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو ایک بھی کامیاب پروجیکٹ نظر نہیں آئے گا- نہ پولیو سے چھٹکارا ملا نہ ہیپاٹائٹس سی سے- نہ ٹی بی سے نجات حاصل ہوئی اور نہ ملیریا سے-اب ٹائیفائیڈ ایک بار پھر درپے ہے- تیسری دنیا کے مسائل سے دوچار کسی ایک ملک سے کسی اوسط درجے کے لیکن حکومت میں اثرو رسوخ رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو لے کر کسی دوسرے ملک میں نمائندہ فائز کردینااور بجٹ ٹھکانے لگانااور مسئلہ برقرار رکھنا ان بین الاقوامی اداروں کا پرانا شیوہ ہے
 
موجودہ مشیر صحت بھی کہیں ڈبلیو ایچ او میں لگ گئے ہوں گے لیکن ان کا یہ طرّۂ امتیاز پوری قوم کے لیے ایک آزمائش بن گیا- غیر منتخب افراد کے ہاتھوں میں انتظام ہے جو منتخب نمائندوں کو آنکھیں دکھارہے ہیں- انتخابات میں عوام کے ہاتھوں مسترد کیے جانے کے بعد مخصوص نشست سے وزیر بن جانے والی ڈاکٹر صاحبہ ایک دوا کا نام کئی کوششوں کے بعد درست نہ لے سکیں؟ ظاہر ہے کہ ان کی کتنی مشق و ریاضت ہے-ان کی اپنی جھنجھلاہٹ گواہی دے رہی ہے کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں
 
کسی بھی ڈاکٹر کی کامیابی کی اصل کنجی اس کی مشق و ریاضت میں ہے- سیاست کے مچان پہ براجمان یہ بے عمل ڈاکٹرز کیا قوم کو صحیح راستے پر لے کے چلتے؟ نتیجہ سامنے ہے- اس افراتفری میں ڈاکٹروں کا ایک گروہ عیدالاضحی پر نکل آنے والے جز وقتی قصائیوں کی طرح دھندہ کرنے نکل آیا-دن رات سماجی ذرائع ابلاغ پر نشرواشاعت کا کام، اپنی کارگزاری دکھانے اور اس کی آڑ میں چندہ جمع کرنے پر لگا رکھا ہے
 
خود اپنی ، اپنے کنبے اور اپنے رفقاء کی خوب تشہیر ہورہی ہے اور ہم انگشت بدنداں ہیں کہ جب اتنا وقت اس اشتہار بازی میں لگا رکھا ہے تو مریضوں کی دیکھ بھال اورعلاج معالجے کے لیے وقت کہاں بچتا ہوگا؟ بہرحال ایک بڑی تعداد ایسے مخلص، جانثار اور بے لوث ڈاکٹروں کی بھی ہے جو اپنی جان کی پروا کیے بغیراپنے پیاروں سے دور رہ کر مریضوں کی دیکھ بھال میں لگے ہوئے ہیں-ایسے خدمت گزار اور انسانیت سے محبت کرنے والے ڈاکٹروں کو سلام ہے جو نہتّے اس بلا کا مقابلہ کررہے ہیں- سلام ہے ان ڈاکٹروں کو
.
پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
(شرف جامی)
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین