آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

میں ایک بلی ہوں – تحریر طاہرہ عندلیب

میں سوچتی ہوں کسی دن اس کائنات کے خالق نے وہ بددعا سن لی تو نازل شدہ قہر کی صورتحال کیا ہوگی

- Advertisement -
میں گرچہ ایک بلی ہوں، مگر بہت کم نازوں میں پلی ہوں۔ جیون میرا گلی کوچوں کی گشت اور اور بھوک و ننگ میں گزرتا ہے۔ کبھی میں کسی قصاب کی دکان پر چند چھیچھڑوں کے انتظار میں پورا دن بِتا دیتی ہوں اور وہاں گاہک اتنے ہوتے ہیں کہ مجھے دلار کی بجائے دھتکار ہی ملتی ہے، میں کافی دیر انتظار کرنے کے بعد جب قصاب کی دکان سے ڈھیٹ بن کر کچھ نہ کچھ یعنی ناکارہ گوشت کا پارچہ وصول کرکے جب لوٹتی ہوں۔ تو دل میں ایک خیال آتا ہے اخبار پڑھنے والے بوڑھے اور قہوہ خانوں میں لڑکیوں کے اندام زیرِ بحث لانے والے نوجوان جب کبھی مہنگائی اور تنگ دستی کی باتیں کرتے ہیں تو مجھے قصاب کی دکان کے آگے لگی بھیڑ یاد آ جاتی ہے۔
 
اور جب میں شام کو قصاب کو نوٹ گنتے دیکھتی ہوں جب وہ زیرِلب مسکراتا ہے تو مجھے اس پہ اتنا غصہ آتا ہے کہ دل کرتا ہے اپنے نوکیلے پنجے اس کی مکروہ مسکراہٹ کو زہریلا بناتی مونچھوں سے ڈھکے ہونٹوں میں گاڑ دوں۔ کیوں؟ کیونکہ مردار جانور بیچتا ہے۔
 
خیر چھوڑیں اس بات کو ، میں تو یہ بتا رہی تھی کہ مجھے گوشت کے بعد سب سے زیادہ مرغوب دودھ ہے۔ مگر دودھ ملنا تو دن بدن محال ہوتا جا رہا ہے، اور جو ملتا ہے اس میں گوالے ملاوٹ کرتے ہیں اور پانی بھی صاف نہیں ہوتا۔ اب دودھ اتنا صحت بخش رہا نہیں ہے۔
میں کبھی اپنی خارش زدہ سہیلیوں سے ملتی ہوں تو رنگ رنگ کی کہانیاں سن کر رنجیدہ ہوجاتی ہوں۔ کسی گلی میں کوئی انسان اپنے جیسے انسان پہ ظلم کر رہا ہوتا ہے۔ اسی گلی میں مسجد میں پانچ بار اذان کی صدا بھی بلند ہوتی ہے۔وہیں کہیں آس پاس کوئی بھوکا بھی سوتا ہے جب کسی کے گھر سے خوشبودار اشتہا انگیز کھانے کا دھواں اٹھتا ہے۔
 
ابھی میری پکی سہیلی ڈیزی بتا رہی تھی کہ اس کی مالکن کی چھوٹی بیٹی کو ان کے پڑوسی نے زیادتی کا نشانہ بنا دیا تھا اور پھر اس کو مار کر لاش گندگی میں پھینک دی تھی۔
 
میں تو اتنی بھیانک باتیں سن کر دم دبا کر وہاں سے بھاگ گئی اور راستے میں آوارہ بلوں نے رات کے کھانے پہ دعوت دی مگر میں ایک خوددار بلی ہوں۔ میں بھوک برداشت کر لوں گی مگر مفت کا کھانا نہیں کھاؤں گی۔ گلی کے کونے پہ ایک کرخت چہرے والے چاچا کی دکان ہے ،وہ مجھے سبزیوں کو سونگھنے بھی نہیں دیتا، اور ایک ہاتھ سے مجھ پر پش پش والی بوتل سے پانی پھنک کر مجھے بھگا دیتا ہے۔ یہ اچھا طرزِ عمل نہیں ہے میں بھیگ جاتی ہوں۔ اور مجھے ٹھنڈ بھی لگتی ہے۔
 
مگر پھر مجھے اس چاچا کی دکان پر پڑی ہوئی بےچاری بوسیدہ بھنڈی کو دیکھ کر اور ترس آتا ہے کیونکہ چاچا اس پہ پش پش والی بوتل سے دن میں پچاس پچپن بار اسپرے کرتا ہے پانی، شاید ان میں جان ڈالنے کے لۓ، مگر چاچا کے گاہکوں کو چاچا پہ اعتبار ہے۔ میں تو کبھی کبھی چھپ کر بینگن کے ڈھیر کے پاس کان لگا کر لیٹ جاتی ہوں۔ اور ان بینگنوں کے اندر کیڑوں کی گفتگو سنتی رہتی ہوں۔ اور دل میں چاچا کو کوستی رہتی ہوں۔ ادھر جب چاچا کسی بچے کو امرود بیچتا ہے تو میں اس کے اندر موجود کیڑوں کا احتجاج بھی سنتی ہوں۔
بس بہن آنکھوں پہ پردہ بھلا ہے دنیا رہنے کی جگہ نہ رہی اب، انسان بہت حد سے بڑھ رہا ہے۔ چلیں باقی باتیں تو میں برداشت کرلوں۔ مگر یہ بات مجھے بلیوں کا ایک گروہ بنا کر نجات دہندہ بننے پر مجبور کرتی ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔ میری سہیلی ڈیزی جو کسی بڑے گھر میں چھلانگ لگا کر گھستی ہے تو ادھر اس کی دوستی باہر والی میم بلی سے ہوئی۔ پہلے تو میم بلی نے جی بھر کر دیسی بلیوں کا مذاق اڑایا مگر اس کو دوست کی ضرورت تھی تو وہ ڈیزی کی پنجہ مار سہیلی بن گئ۔
 
اس نے ڈیزی کو بتایا کہ وہ جس ملک چین سے آئی ہے وہاں انسان بلیوں کو زندہ پکڑ کر کھولتی ہوئی کڑاہی میں ڈال کر کھا جاتے ہیی، کبھی ان کے جسم کا گوشت نوچ کر کسی مصالحے میں بھگو کر کھایا جاتا ہے۔ ڈیزی ہنستی ہے کہتی ہے ہم دیسی بلیاں اچھی ہیں۔ سارا دن گلیوں میں بھوک اور سردی گرمی برداشت کرتی ہیں آوارہ بلوں کی جانب سے ستائی بھی جاتی ہیں مگر یہاں ہمیں کوئی نہیں بھون کر کھاتا۔
 
بس اگر تھوڑا ذلیل کرتے ہیں تو کیا ہوا۔ یہاں ہم وافر مقدار میں چوہے بھی تو پکڑتے ہیں۔ مگر مجھے ڈیزی نے بتایا کہ میم بلی روز شام کے وقت اس وطن کو بد دعا دیتی ہے جہاں اس کی بہت سی سہیلیوں کو پکڑ کر بے گناہ بھونا گیا تھا۔ اب میں سوچتی ہوں کسی دن اس کائنات کے خالق نے وہ بددعا سن لی تو نازل شدہ قہر کی صورتحال کیا ہوگی۔۔۔
 
اب میں ڈر کے مارے دم گردن پہ لپیٹ کر لمبی تان کر سونے لگی ہوں۔ اگر قہر آئے تو میرے نرم پشم پر ہاتھ پھیر کر مجھے جگا دینا، میں دعا کروں گی۔۔۔
!شب بخیر، آپکی بلی
 
طاہرہ عندلیب

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین