آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

ماجرا کیا ہے ؟ کالم نگار طارق عبداللہ سہیل

کورونا بڑا مسئلہ ہے لیکن اس ’’بلیک ہول‘‘ کا سراغ لگانا کورونا سے بھی بڑا مسئلہ ہے

- Advertisement -

اپوزیشن رہنماؤں میں سے جو مائیک پکڑتا ہے، یہی بے تکا سوال اٹھاتا ہے کہ حکومت بتائے، کورونا پر اس کی پالیسی ہے کیا، حالانکہ حکومت روز اوّل سے واضح پالیسی دے چکی ہے اور آئے روز اس کا آعادہ بھی کرتی ہے اور واضح پالیسی یہ ہے کہ روکو مت ، آنے دو آنے بھی دو اور کھیلنے بھی دو۔ کل رہبر ترقی و کمال کے ایک نائب اسد عمر نے پھر بتایا کہ کورونا پھیل کر رہے گا، ڈر ڈر کر جینے کا فائدہ کیا۔ بہر حال اس نصیحت کا مطلب یہ نہیں کہ روز روز کا ڈرنا اچھا نہیں، ایک ہی بار مر جائو

کورونا پھیل رہا ہے۔ نہیں، پھیلایا جا رہا ہے اور کوئی حیرت زدہ بھولا بھالا آدمی یہ پوچھے کہ اس واضح پالیسی کا حکومت کو فائدہ کیا تو جواب یہ ہے کہ یہ حکومت کا ’’گارنٹی کارڈ‘‘ ہے۔ جب تک ہے، کم از کم حکومت کو اس دوران کوئی خطرہ ہے نہ خوف نہ پریشانی۔ 

وزیر اطلاعات شبلی فرازنے فرمایا ہے کہ کورونا میں کمی کی وجہ حکومتی اقدامات ہیں۔’’کمی‘‘ کے لفظ کو داد بعد میں دے لیجیے گا، فی الحال ’’حکومتی اقدامات‘‘ کی داد دینے کا سوچیں۔  وزیر اطلاعات نے مزید فرمایا ہے کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ معیشت تباہ ہو جائے۔ معیشت سے ان کی کیا مراد ہے، یہ واضح نہیں ہو سکا۔ ایک معیشت البتہ وہ ہے جس کا ذکر انہی کی کابینہ کے ’’سینئر اور ناقابل تبدیل‘‘ رکن حفیظ شیخ نے کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ رواں سال معیشت کی شرح نمو 1.5 یعنی مبلغ ڈیڑھ فیصد رہے گی اور یاد رہے، یہ بھی انہوں نے ’’رعایت‘‘ کی ہے ورنہ صورتحال تو اس سے بھی ترقی یافتہ ہے۔

رعایت کا لطیفہ یاد ہو گا۔ بہت عشرے پہلے جب دیہات میں گھڑیاں یا کیلنڈر کسی کسی کے پاس ہوتا تھا، ایک گائوں والوں نے کسی نابینا مولوی صاحب کو ’’کیلنڈر‘‘ بنا رکھا تھا۔ مولوی صاحب جو پہلی تاریخ کو گھڑے میں بکری کی ایک مینگنی ڈال دیتے پھر ہر روز ایک ایک کا اضافہ کر دیتے۔ کوئی تاریخ پوچھنے آتا تو مولوی صاحب گھڑے میں ہاتھ ڈال کر مینگنیاں گنتے اور تاریخ بتا دیتے۔ ایک دن کم بخت بکری گھڑے کے منہ پر بیٹھ کر مینگنیاں کر گئی۔ اگلے روز کوئی صاحب تاریخ پوچھنے آئے تو مولوی صاحب نے ہاتھ گھڑے میں ڈالا اور دیر تک تاریخ ناپتے رہے۔

آخر بولے آج ایک سو چھ تاریخ ہے۔ دہاتی نے کہا، مولوی صاحب ہوش کی دوا کرو، کبھی تاریخ ایک سو چھ بھی ہوئی ہے۔ مولوی صاحب نے بھنّا کر کہا، ابھی تو میں نے رعایت کی ہے ورنہ گھڑا تو پوراتاریخو تاریخ ہوا ہوا ہے۔ بہرحال حفیظ شیخ صاحب کی ’’رعایت‘‘ اس مینگینیوں والی رعایت سے الگ ہے۔خیال رہے۔ 

زیادہ دور کی بات نہیں، دو اڑھائی سال پہلے چلے جائیے، شرح نمو 5.5 تھی اور 6 کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہر روز حکومت کو پیغامات جاتے تھے کہ معیشت کی حالت اچھی نہیں۔ خدا کا شکر ہے اب حالت امید سے زیادہ تسلی بخش ہے۔

شرح نمو، پیداوار، تجارت، کاروبار، روزگار سب ایک ہی رفتار سے ترقی و کمال کی طرف بڑھ رہے ہیں اور رہبر ترقی و کمال نے پھر بیان دیا ہے کہ لاک ڈائون کا اس لیے مخالف ہوں کہ اس سے غربت بڑھتی ہے۔ ماشاء اللہ، اسے کہتے ہیں وژن، ایسا ہوتا ہے لیڈر، خوشحالی کا کیا پوچھنا ؎ ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر خوشالی بال کھولے ناچتی ہے اس تصرف شدہ شعر میں خوشحالی کے لفظ سے ح غائب ہے۔ دراصل وہ کھو گیا ہے۔ 

ایک اردو وزیر جن کے پاس شاید سائنس اور ٹیکنالوجی کا محکمہ ہے، فرماتے ہیں کہ فردوس عاشق وزارت کی اہلیت نہیں رکھتی تھیں۔ لابی رنگ سے وزیر بنیں۔ توبہ توبہ! گویا رہبر و ترقی کمال پر الزام لگا دیا کہ وہ نا اہلوں کو وزیر بنا دیتے ہیں۔ اپوزیشن پہلے ہی شور کر رہی ہے کہ ایک نا اہل کو پولیو کا محکمہ دیا، اس نے دم توڑتے پولیو کو پھر سے زندہ کیا بلکہ پہلوان بنا دیا۔ وزیر موصوف نے جہانگیر ترین کی حمایت کرتے ہوئے ’’انکشاف‘‘ کیا کہ تحریک انصاف کو حکومت انہی کی بدولت ملی۔ اچھا، تو وہ کاریگر جس کی دوسال دھوم پڑی ہوئی ہے، اصل میں جہانگیر ترین تھے۔

ایک اور وزیر نے قومی اسمبلی میں نام لیے بغیر نیب پر تنقید کی ہے۔ کہا کہ ان لوگوں کا احتساب کیوں نہیں کیا جا رہا جو ماضی میں حکمران رہے اور اندھا دھند لوٹ مار کی۔ نیب بے چارے پر خواہ مخواہ غصہ جھاڑ دیا۔ وہ تو دو سال سے انہی کے پیچھے ہے اب کیسوں میں سے کچھ نکلنا ہی نہیں تو بے چارا کیا کرے۔ سابق وزیر اعظم کو سات سال قید ہوئی اور سزا سنانے والے جج نے بتا دیا کہ ایسے ’’حکم‘‘ تھا، وہ سزا سنانے پر مجبور تھا۔ اب پتہ چلا ہے کہ تحقیقات ایجنسیوں نے جج کی مذکورہ اعترافی ویڈیو کو اصلی قرار دے دیا ہے۔ بتائیے، نیب کا کیا قصور۔ 

اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا متاثرین کے لیے باہر سے امداد نہیں آئی لیکن جس کو پتہ ہے، 51 ارب تو نقد آئے اور چین سے امدادی سامان کے بھرے ہوئے دو جہاز بھی آئے جو وصول بھی کیے گئے۔ سوال بے ضرر (یا شاید سخت ضرر ناک) یہ ہے کہ یہ روپے اور امداد گئی کہاں؟ کسی کو تو نہ کوئی دھیلہ ملا نہ دھیلی، کوئی ٹیکہ ملا نہ گولی پھر یہ گئی کہاں؟

سوال تو پھر یہ بھی ہے کہ دو بجٹ اس حکومت نے پاس کیے اور بر سرزمین کوئی رقم خرچ ہوئی نہ کسی کو خرچ ہوتی ہوئی نظر آئی، ہاں، سابق دور کے منصوبوں پر سے پرانے ناموں والی تختیاں اکھاڑ کر ان کی جگہ ایمانداروں کے ناموں کی تختیاں ضرور لگائی گئیں لیکن اس پر اربوں ڈالر تو خرچ نہیں آئے۔ متاثرین کو ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ بے نظیر سپورٹ نقد کے تین مہینوں کی رقم کو بارہ بارہ ہزار روپے ضرور بانٹے، مگر وہ بھی سب کو نہیں۔ کورونا بڑا مسئلہ ہے لیکن اس ’’بلیک ہول‘‘ کا سراغ لگانا شاید اس سے بھی بڑا مسئلہ کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

طارق عبداللہ سہیل

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین