آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

بے حسی شہر ِ کراچی میں کیا طوفان لائی ہے ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

عدالتِ عالیہ میں کوئی ڈوری کا ایک سرا پکڑ کر پہنچ جائے کہ ان تین ذمہ داروں نے ایک سال میں کیا اقدامات کیے تو یہ ملک، عوام ، عدلیہ اور تمام متاثرین ڈوری کے دوسرے سرے تک پہنچ جائیں گے

- Advertisement -
کراچی برسات میں ڈوب گیا یا ڈوب رہا ہے یہ ڈوب جائے گا ، ان باتوں سے قبل یہ طے ہو جائے کہ کس کس کا سیاسی اور عوامی خدمت کا کیریئر اب ڈوب جانا چاہیے؟ یہ بات اگرچہ درست ہے کہ کراچی میں ہونے والی حالیہ بارشیں معمول سے زیادہ ہیں لیکن کیا ماضی میں کبھی اتنی بارشیں نہیں ہوئیں؟ یا دنیا کے دیگر بے شمار شہروں میں اتنی بارشیں نہیں ہوتیں؟
 

موسم رواں میں کراچی میں 345 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے جبکہ کراچی کا اوسط 174.6 ملی میٹر ہے- بھارتی شہر ممبئی میں اس دوران 459.3  ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔ یاد رہے کہ 1967ء میں کراچی میں 713 ملی میٹر بارش ہوئی تھی

.
سائنس، ڈیٹا، جانچ اور میڈیا کے اس دور میں، جبکہ میٹیورولوجی کی سائینس اپنے عروج پر ہے۔ اور دنیا بھر کے ٹیلی وژن تفصیل کے ساتھ آنے والے موسم کا حال بتاتے ہیں، کیا کراچی میں اس بار معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی تھی؟
۔
 
وفاقی وزارتِ موسمی تبدیلی کا کیا کام ہے؟وزیر ِسائنس و ٹیکنالوجی ،جو اپنی ساری توانیاں رویتِ ہلال پر اوروہ بھی صرف رمضان و ذی الحجہ تک لگارہے ہیں ،اس معاملے میں کوئی موثر کردار ادا کرنے کا سوچتے بھی نہیں؟اور اگر وہ سوچ بھی لیتے تو کیا حکومتِ سندھ اور بلدیۂ کراچی کے ذمہ داران کو یہ پہلے سے نہیں معلوم تھا کہ اس بار توقع سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے؟
 
معلوم تو تھا- پچھلے سال تین سیاسی جماعتوں کے دو وزراء اور ایک ناظم کا عکسِ دست بستہ ابھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا ہے-پچھلے سال آپ کو علم ہوگیا تھا کہ کیاہوسکتا ہے- کیا ایک سال میں کچھ نہ کچھ تیاری ممکن نہیں تھی؟مہذب دنیا میں ، جاپان اور فرانس وغیرہ میں غفلت کے مرتکب وزراء کو کیسی کیسی عبرتناک سزائیں دی گئی ہیں ذرا مطالعہ کیجیے
 
عدالتِ عالیہ میں کوئی ڈوری کا ایک سرا پکڑ کر پہنچ جائے کہ ان تین ذمہ داروں نے ایک سال میں کیا اقدامات کیے تو یہ ملک، عوام، عدلیہ اور تمام متاثرین ڈوری کے دوسرے سرے تک پہنچ جائیں گے-اور اس ڈوری نے درمیان میں کہاں کہاں بل کھایا ہے وہ بھی کھل جائے گا
 

کھل تو اب یہ بھی جاننا چاہیے کہ پچھلے تیس پینتیس سال سے روشنیوں کا شہر کراچی کس نے یرغمال بنا رکھا ہے

 
حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ سرحدی گاندھی اور سندھی گاندھی کے گن گانے والے کوٹہ سسٹم کے مخالفین کو کون بالجبر ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم سے جوڑ دیتا ہے؟ پھر جنرل ضیأ الحق کی باقیات سے جوڑ دیتا ہے جن کے جنازے میں کراچی شہر کی قیادت اظہر لودھی کے سسکیاں بھرے رواں تبصرے کے دوران ہچکیاں بھرتی رہی
۔
 
پھر جنرل مشرف نے اس قیادت کو اپنی باندی بنالیا-ایک ناظمِ شہر کے منصوبے منظور کیے اور دوسرے ناظمِ شہر کے حوالے اخراجات کردیے-پل بنا ، چاہ بنا، مسجدو تالاب بنا-اورکچھ بنا یا نہ بنا شہر بھر میں جگہ جگہ وسیع و عمیق تالاب ضرور بن گئے-فلائی اوور کے انڈر اور انڈر پاس کے اوپر،بن گئے پانی کے ریزروائر- اور پھر پہلی خاتون وزیرِ اعظم کے متعصب شوہرِ نامدار کی خدمت پر معمور ہوگئے
 
کیوں؟ شہر میں جگہ جگہ پانی کیوں بھر گیا؟ عوام کا مال و متاع کیوں تباہ ہوگیا؟ لوگوں کی جانیں کیوں ضائع ہوگئیں؟ ہر وہ عمارت ، بشمول یونیورسٹیز، ہسپتال ،رہائشگاہ،شاپنگ مال وغیرہ جو نکاسی کے نالے پر یا نالے کے اندربنے ہوئے ہیں ان کے مالکان کے خلاف مقدمے قائم ہونا چاہیے اور سرکاری منظوری دینے والے ہر اہلکار بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے لے کر وزیرِ اعلی اور گورنر تک کو شریک ملزم ٹہرانا چاہیے اور کم سے کم قتلِ خطا کا مقدمہ قائم کرنا چاہیے

کیا عوام الناس کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر نالے میں شاپنگ مال، پہلوان گوٹھ گلاستانِ جوہر کے سامنے نالے میں یونیورسٹی اور نارتھ ناظم آباد میں نالے میں ہسپتال نظر نہیں آتا؟

۔

 
ائیر پورٹ رن وے اور ملیر کنٹونمنٹ کے عین سامنے لب ِسڑک برساتی نالہ گھیر کر اپنے بنگلوں کو توسیع دینے اور وہاں کاروبار کرنے والے کیا عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں؟ ان کے مالکان کون ہیں؟
 
ایسی اور بے شمار مثالیں ہیں- ستر اسی کی دہائی میں بولی وڈ کی فلموں میں انڈر ورلڈ مافیا کے جو جو کردار اور خواص دکھائے گئے اور جنہیں وی سی آر پر دیکھ دیکھ کر ہمارے سیاسی رہنماؤں کی موجودہ نسل پروان چڑھی اس میں ان انڈرورلڈ ڈانز کی تمام صفات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں- کوٹ کوٹ کر بھرا تو نیشنل ڈساسٹر مینیجمنٹ کا خزانہ بھی ہوگا لیکن جن غریبوں اور متوسط
طبقے کا مال ومتاع لٹ گیا ان کے لیے کیا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

شرف جامی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین