خبر اور تجزیہ

امریکہ کی تازہ حمایت کے بعد بھارت نے چینی دعوے پھر مسترد کر دیے

عالمی پریس اینڈ میڈیا کے مطابق بھارت کی مودی سرکار کے جھوٹے پراپیگنڈا کے برعکس چینی فوج لداخ میں بھارتی سرحد کے کئی میل اندر تک قابض ہونے کے بعد واپس جانے کیلئے تیار نہیں ہے۔

- Advertisement -
چین کے ہاتھوں ہزیمت ناک شکست کے بعد مودی سرکار پر اپوزیشن اور بھارتی عوام کا شدید دباؤ برقرار ہے۔ چین کے مقابل بھارتی غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے بھارت کی حمایت کے بعد بھارت کے روایتی عیاری پھر کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق بھارت نے مشرقی لداخ کی گلوان وادی پر چینی دعوے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے ۔بھارت کے کہا ہے کہ یہ دعویٰ مبالغہ آمیز اور ناقابل قبول ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لائن آف ایکچوول کنٹرول پر سرحدی کشیدگی ختم کرانے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح کی بات چیت متوقع ہے۔
 
عالمی پریس کے مطابق بھارتی پراپیگنڈا کے برعکس چینی فوج بھارتی سرحد کے کئی میل اندر تک قابض ہونے کے بعد واپسی کیلئے تیار نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو کے یک دم رویہ تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے بھارت سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحالی اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کو دور کرنے کی ضرورت کا قائل ہے۔ لیکن بھارت اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کیلیے پر عزم ہے۔
 
گلوان وادی کی ملکیت پر بھارت اور چین کے درمیان دیرینہ اختلافات ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ گلوان وادی ایل اے سی پر اس کی سرحد کے اندر ہے جبکہ چین اس پر کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ یہ وادی ایل اے سی پر اس کی سرحد کے اندر واقع ہے۔
گلوان وادی ہی میں 15 جون کو دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان خونریز تصادم میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور 60 شدید زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس تصادم میں چین کے کم از کم 45 فوجی یا تو ہلاک ہوئے یا زخمی ہوئے۔ لیکن بین الاقوامی میڈیا اور چینی ترجمان چین کے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے بھارت کے کسی دعوی کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
 
اس سلسلے میں چین نے مرکزی وزیر اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کے اس دعوے پر بڑے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا کہ اس تصادم میں چین کے 45 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ اور میڈیا بے بنیاد اور من گھڑت خبریں پھیلا رہے ہیں۔
 

چین کا واضع موقف ہے کہ بھارت گلوان وادی میں سڑکوں اور پل کی تعمیر کر رہا ہے مگر چین اسے کسی بھی قیمت پر ایسی غیر قانونی تعمیرات کرنے کی قطعی اجازت نہیں دے گا ۔

 
بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے اتوار کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے ساتھ ٹیلی فون بات چیت میں ایل اے سی اور گلوان وادی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے حوالے سے میں بھارت کا موقف واضح کر دیا تھا۔
دوسری جانب چینی وزارتِ خارجہ نے بھرتی موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ گلوان وادی میں جو بھی صحیح یا غلط ہوا وہ ساری دنیا کے سامنے بالکل واضح ہے۔ چین اپنی علاقائی خود مختاری اور سرحد پر امن و استحکام کا تحفظ پوری قوت سے کرے گا۔ لہذا فریقین کو خطرات پیدا کرنے کے بجائے اسٹرٹیجک جائزے کا پابند ہونا چاہیے۔
 
بین الاقوامی پریس اینڈ میڈیا کے مطابق بھارت کی طرف سے چینی سرحد کے نزدیکی فوجی ائر بیسوں پر بھاری تعداد میں جنگی  طیارے اور لداخ میں بھارتی فوجی سامان پہنچانے کے بعد چین نے بھی فوری طور پر دوگنی تعداد میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور بھاری جنگی ساز و سامان کی نقل و حمل کے ساتھ ساتھ اپنی سرحد پر انٹی ائر کرافٹ میزائیل اور ائر ڈیفنس سسٹم نصب کر دئے ہیں۔ جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین اب بھارت کے ساتھ جنگ کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ اور وہ امریکہ کی طرف سے بھارت کی تازہ حمایت کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین