آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

ہماری مدافعت اور برداشت – ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

تجربات پر نہ کوئی روک ٹوک ہے نہ کوئی گرفت ہے بس برداشت ہے-عوام سب برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور تجربات جاری ہیں

- Advertisement -
کسی آبادی میں وبا اس وقت پھیلتی ہے جب لوگوں میں بیماری کے جراثیم کی قدرتی مدافعت یا ایمیونیٹی بالعموم نہیں پائی جاتی- یہ ممکن ہے کہ اکّا دکّا یا چند لوگوں میں یہ مدافعت ہو لیکن وہ پوری آبادی کو نہیں بچا سکتی
 
پینڈیمک میں دنیا کی کوئی آبادی محفوظ نہیں یعنی کہ پوری دنیا میں کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جن میں ایک مخصوص وائرس کے لیے قدرتی مدافعت پائی جاتی ہو- نتیجہ یہ ہے کہ مخصوص وائرس آگ کی طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا جاتا ہے اور یہی کورونا وائرس کی شکل میں دیکھا جارہا ہے
 
جب کوئی بیرونی مادّہ یا اینٹی جن ہمارے بدن میں داخل ہوتا ہے تو ہمارے نظام میں اس کے خلاف اینٹی باڈی فوج حرکت میں آجاتی ہے اور اس بیرونی مادّے کوتباہ کرنا شروع کر دیتی ہے- یہ مادّ ہ زہر ، بیکٹیریا یا وائرس وغیرہ ہوسکتے ہیں-انسانی جسم میں خلیوں کی ایک قسم ہوتی ہے جنہیں بی سیلز کہتے ہیں
 
عفونت یا انفیکشن کی صورت میں ان بی سیلز کی تعداد میں تیزی سے بے انتہا اضافہ ہوتا ہے اور یہ اینٹی باڈیز بناتے ہیں- اینٹی باڈیزدوشاخہ تنے کی صورت کے لحمیاتی ذرّات ہیں جن کی دونوں شاخوں کے سرے اپنی ساخت کے اعتبار سے انتہائی متغیّر اور متنوع ہوتے ہیں جبکہ تنا ایک مستقل شکل رکھتا ہے-شاخوں کے سروں کا یہ تغیر دراصل مختلف شکل و صورت کے لا تعداد بیرونی اجسام کے مطابق ڈھلنے اور انہیں گرفت میں لینے کے لیے ہوتا ہے
 
حال ہی میں ایک سائنسدان نے اس مرض سے صحتیاب ہونے والے ایک شخص کے خون میں دو ایسی اینٹی باڈیز بی-۳۸ اور ایچ-۴ دریافت کی ہیں جو اس کورونا وائرس کے لحمیاتی لبادے پر واقع انسانی خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دینے والے کنگوروں سے چمٹ کر انہیں ناکارہ بنادیتے ہیں -نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وائرس انسانی خلیوں پر واقع استقبالیہ یا ریسیپٹر سے چمٹ نہیں سکتا- اور اس طرح انسانی خلیے وائرس کے حملے سے محفوظ ہوجاتے ہیں-اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی خاص اور منفرداینٹی باڈی کے لبادے کے اس مخصوص حصّے کو ناکارہ بنا سکتی ہے جواس وائرس کے انسانی خلیے میں داخل ہونے کا باعث ہے
 
جن لوگوں میں قدرتی طور پر اینٹی باڈی نہیں بنتی وہ مرض کا شکار ہوجاتے ہیں- کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ ایسے لوگوں میں یہ مخصو ص اینٹی باڈی بنانے کا عمل شروع کروایا جاسکے ؟ اس مقصد کے لیے ماہرین کئی مختلف طریقے آزماتے ہیں- ایک طریقہ یہ ہے کہ وائرس کو اس طرح ناکارہ بنایا جاتا ہے کہ اس کی شکل تبدیل نہ ہو اور اس ناکارہ وائرس کوٹیکے کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے
 
چند دنوں میں انسان کا نظام اس ناکارہ وائرس کی شکل یاد کرلیتا ہے اور اس کے خلاف اینٹی باڈی بنانا شروع کردیتا ہے-اب اگر اصل وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو تو وہاں اینٹی باڈی کی ایک فوج پہلے سے تیار کھڑی ہوتی ہے وائرس پر حملہ کرنے کے لیے-وائرس کی شکل تو وہی ہوتی ہے جو ناکارہ وائرس کی تھی لہذا اینٹی باڈی آسانی سے اس اجنبی کو شناخت کرکے ٹھکانے لگادیتی ہے- یہ حفظِ ماتقدم کی ایک صورت ہے جسے ویکسینیشن کہتے ہیں
 
کورونا جیسے خطرناک وائرس کے لیے ماہرین وائرس سے وہ لحمیاتی ذرّہ علیحدہ کرتے ہیں جسے اینٹی باڈی شناخت کرسکتی ہے-اور اس ذرّے کوایک بے ضرر وائرس کے ساتھ جوڑ کر انسانی نظام میں داخل کرسکتے ہیں – دنیا بھر میں اس طریقۂ کار کے ذریعے کورونا سے بچاؤ کا ٹیکہ تیّار کرنے کی کوششیں جاری ہیں- انگلستان میں سارا گلبرٹ نامی ایک سائنسدان اس کوشش میں سب سے آگے تھیں-انہوں نے بن مانس کے ایک وائرس کے ضرر رساں حصّے کو علیحدہ کردیا اور باقیماندہ وائرس کے ساتھ کورونا کے وائرس کے شناختی ذرّات اس کے لحمیاتی لبادے پر موجود کنگورے جوڑ دیے-
 
اس نقلی وائرس کو انسانی نظام کورونا وائرس کی حیثیت سے شناخت کرسکے گا اور اس کے خلاف اینٹی باڈی بنانا شروع کردے گا- جب کورونا وائرس جسم میں داخل ہوگا تو اس کے خلاف اینٹی باڈی کی ایک فو ج پہلے ہی سے مستعد کھڑی ہوگی-تجرباتی طور پر یہ ٹیکہ چار سو رضاکاروں کو لگایا گیا لیکن پچھلے چند دنوں خبر آئی ہے کہ خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہوئے- چین، جاپان، یورپ اور امریکہ میں دن رات تجربات ہورہے ہیں لیکن اب تک کامیابی کے خاطر خواہ امکانات نظر نہیں آئے ہیں
 
ایک صورت یہ بھی ہے کہ جن لوگوں میں تشخیصی جانچ سے پتہ چلاہے کہ انہیں وائرس لگ چکا ہے اور وہ بیماری کی علامات سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں یہ فرض کرلیا جائے کہ ان کے خون میں اینٹی باڈی موجود ہوگی- اس لیے ان کے خون کے بے رنگ سیال کا ٹیکہ مریضوں کو لگادیا جائے اور امید کی جائے کہ اس میں موجوداینٹی باڈی وائرس کو ختم کردے گی
 
یہ صرف ایک سوبیس سال قدیم طریقۂ علاج ہے جو جرمنی کے ایک سائنسدان ایمل اڈولف فان بہیرنگ نے تشنجّ اور خناّق کے بیکٹیریا لیے آزمایا تھا اور اسے فعلیات اور طب کا پہلا نوبل پرائز ملا تھا- کورونا کاوائرس اپنی فطرت میں بالکل جدا ہوتا ہے اور اس کی جینات میں تیزی سے تغیّر پیدا ہوتا ہے-جن لوگوں میں اس وائرس سے بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں ضروری نہیں ہے کہ ان کی اینٹی باڈی ہی کامیاب ہوئی ہو، خلیوں کی سطح پر موجود ریسیپٹر یا خلیے کے اندر لحمیات کش انزائمز بھی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں
 
عالمی سطح پر اس طریقۂ علاج کے بارے میں کوئی خاص گرم جوشی نہیں پائی جاتی-لیکن پاکستان میں اس کا بڑا چرچا ہے-ان ہی دنوں ایک اور اشتہار سماجی ذرائع ابلاغ پر نظر آیا، وہی پرانا منجن نئی پیکنگ میں یعنی اسٹیم سیل کا استعمال- اب تو بیوٹی پارلر جیسے کلینک بھی اسٹیم سیل تھراپی کے دعوے کرتے نظر آرہے ہیں- نام نہاد تجربات پر نہ کوئی روک ٹوک ہے نہ کوئی گرفت ہے بس برداشت ہے-عوام سب برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور تجربات جاری ہیں
۔ ۔ ۔
ڈاکٹر شکیل الرحمن فاروقی
پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین