آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

ترکى كے عالمى عزائم ارطغرل سيريز سے آيا صوفيہ و خلافت كى بحالى تک

تركى ايک عالمى اسلامى طاقت بننا چاہتا ہے لہذا ان ڈراموں كے ذريعے اس كا اصل حدف  مسلم امہ كى "نوجوان نسل" ہے

- Advertisement -
تركى اور صدر رجب طيب اردگان ، اسلام كى نشأة ثانيہ كے خواب كو تعبير دينے كے حوالے سے اپنے پتے بڑى سمجهدارى، جرأت و ذہانت سے كهيلتے نظر آ رہے ہيں
 
چاہے وه تركى ميں بننے والا ‘عالمى شہرت يافتہ ڈرامہ’ “ارطغرل غازى” ہو يا ديگر اسلامى شخصيات پر بننے والى ڈرامہ سيريز … آيا صوفيا كو ميوزيم سے دوباره مسجد بنانے كا جراتمندانہ اقدام ہو يا مسجد اقصى كو آزاد كرانے كے حوالے سے حكمت عملى…تركى ايک واضح سوچ اور منصوبہ بندى كے ساتھ آگے بڑهتا نظر آتا ہے اور ہمارى رائے كے مطابق تركى كى ‘حتمى منزل’ ايک “عالمى مسلم خلافت” كا قيام يا بحالى ہے… يعنى كہ تركوں كو عالمى افق پر وه كهويا ہوا مقام قيادت و سيادت واپس دلانا جو عثمانى خلافت كے دور زريں ميں انہيں حاصل تها !!.
 
آگے بڑهنے سے قبل، آئيے عثمانى خلافت اور اسكے بانى (ارطغرل غازى) كى مجاهدانہ زندگى پر بننے والى ڈرامہ سيريز پر كچھ بات كر ليں… يہ سيريز مجاهد ملت صدر تركى، رجب طيب اردگان كے اقتدار ميں آنے كے بعد سن 2014ء ميں بننا شروع ہوئى ، اس سے پہلے سلطان عبد الحميد كى زندگى پر بهى ايک تاريخى سيريز “ميرا سلطان” كے نام سے منظر پر آچكى ہے…اور ارطغرل غازى كے بعد اسكے بہادر بيٹے “كلثون عثمان” پر بهى ايک شاندار سيريز، قسط وار ريليز ہورہى ہے…
آخر عثمانى دور كى ان تاريخى و اسلامى شخصيات پر اتنے مہنگے اور عالمى معيار كے ڈرامے بنانے كى تركى كو، اس وقت كيا اور كيوں ضرورت پيش آئى؟ يہ ہے وه سوال جو مغربى و اسلامى دنيا ميں برسرعام پوچها جارہا ہے… كيا وجہ ہے كہ كئى مسلم ممالک جہاں بادشاہتيں يا فوجى آمريتيں قائم ہيں وہاں ان ڈراموں كے خلاف فتوے جارى كروائے گئے اور پهر ان پر پابندى بهى لگا دى گئى، ان اقدامات كے پيچهے، ان حكومتوں ميں كيا خوف كار فرما ہے؟ يہ دوسرا سوال ہے..
 
خود ہمارے ملک ميں، جب يہ سيريز عوام ميں مقبوليت كى حدوں كو چهونے لگى، تو ايک خاص (لبرل اور مغرب نواز) طبقہ سوشل ميڈيا ميں واويلا كرتا ہوا نظر آيا…كہ يہ ترک ڈرامے ہمارى ثقافت كے خلاف ہيں..تو مقامى طور پر تيار ہونے والے ڈراموں ميں جو ثقافت پيش كى جارہى ہے، كيا وه ہمارى ثقافت ہے؟ الغرض اسطرح كے كئى سوال ہيں، جو ان ڈراموں اور انكے خلاف كيے گئے پراپيگنڈے كے حوالے سے مسلسل ذہنوں ميں اٹھ رہے ہيں!!.
 
سب سے پہلى بات جو سمجهنےكى ضرورت وه كہ تركى ايک عالمى اسلامى طاقت بننا چاہتا ہے لهذا ان ڈراموں كے ذريعے اسكا اصل هدف  مسلم امہ كى “نوجوان نسل” ہے…. جسطرح مغربى اور غيرمسلم ممالک نے ٹى وى فلموں اور ڈراموں كے ذريعے، ہمارى نوجوان نسل كے ذہنوں كو تباه كرنے اور انہيں اپنى لبرل تہذيب و ثقافت ميں رنگنے كى كوشش كى، اسى طرح تركى كى كوشش ہے كہ مسلم نوجوان كو ايک نظرياتى جہت ديكر اسے اسكے شاندار ماضى سے جوڑا جائے.
 
اسلامى (يا ترک) ہيروز اور فاتحين كى تاريخ اس كے سامنے ركهى جائے اور اسے مغربى يا صليبى يلغار كا مقابلہ كرنے كيلئے تيار كيا جائے!! ان ڈراموں كے ذريعے تركى دنيا كو جو پيغام دينا چاہتا ہے وه يہ كہ انسان ، انسانوں كى ذہنى و جسمانى غلامى سے نكل كر اللہ تبارك و تعالى كى غلامى اختيار كر ليں… يہ الہى پيغام، مذہب بيزار، دجالى و شيطانى طاقتوں كو ہرگز قبول نہيں اسلئے وه خم ٹهونک كر ان سيريز كى مخالفت ميں سامنے آ گئے ہيں…
ليكن جسطرح لبرل، نسل پرست يا اسلام دشمن مذہبى جنونى اپنے تہذيبى ايجنڈے سے پيچهے ہٹنے كيلئے تيار نہيں، بالكل اسى طرح (بظاہر) سيكولر تركى كا مذہب پسند صدر بهى اپنے عالمى عزائم سے واپس ہٹنے كيلئے تيار نہيں!! يہ ايک نظرياتى و تہذيبى كشمكش ہے جو ازل سے جارى ہے اور تا ابد جارى رہنے والى ہے..
 
اس تہذيبى كشمكش كا نقطۂ عروج، تركى كى عدالت كا وه حاليہ فيصلہ ہے، جسكے تحت آيا صوفيہ جيسى عظيم تاريخى عمارت كو ميوزيم سے دوباره مسجد كے طور پر بحال كر ديا گيا ہے، مغرب اور لبرل طبقہ اس تاريخى اقدام پر تلملا رہا ہے ليكن بظاہر تلملانے كى كوئى معقول وجہ نظر نہيں آتى كيونكہ يہ عمارت چرچ يا گرجا گهر نہيں تهى بلكہ جب اسے كمال اتا ترک نے 1935ء ميں ميوزيم بنايا تها تو اسوقت يہ ايک مسجد تهى….
 
البتہ جب 1437ء ميں سلطان محمد فاتح نے اسے مسجد كا درجہ ديا تو اس سے قبل يہ آرتهوڈكس عيسائيوں كى ايک عبادتگاه تهى، ليكن فاتح ہونے كے باوجود سلطان نے پہلے اسے بهارى رقم ديكر عيسائيوں سے خريدا تها ( جسكا دستاويزى ثبوت موجود ہے) پهر اپنى ملكيت بنايا اور بعد ازاں اسے مسجد كے طور پر وقف كر ديا… عالمى اعتراضات كا جواب ديتے ہوئے صدر تركى نے كہا ہے كہ يہ تركى كا اندرونى معاملہ ہے، بيرونى ممالک كو اس ميں مداخلت يا اعتراض كا كوئى حق نہيں… يہ ہے خودار قوموں كا انداز!!
 
تركى كے عالمى عزائم كا اندازه، صدر تركى كى ان اقدامات و تقارير سے بهى ہوتا ہے جو وه مختلف مواقع پر اٹهاتے يا كرتے رہتے ہيں اس ميں فلسطين، كشمير، شام، ليبيا، چين، برما اور قبرص وغيره كے مظلومين كا خصوصى ذكر ہوتا ہے اور اسرائيل، بهارت، بشارالاسد، يونان، آرمينيا اور ليبيا كى باغى مليشيا كى پرزور الفاظ ميں مذمت شامل ہوتى ہے… نيز *مسجد اقصى* كى بازيابى كا روح پرور تزكره ہوتا ہے اور اس عزم كا اظہار كہ مسجد آيا صوفيہ كے بعد مسجد اقصى و فلسطين كو بهى پنجۂ يہود سے جلد آزاد كرايا جائے گا(ان شآء اللہ)…
ياد ركهنے كى ايک اهم بات يہ كہ 2023ء ميں وه سو سالہ معاهده بهى اپنے انجام كو پہنچ رہا ہے جسكے تحت تركى كو عالمى پابنديوں ميں جكڑ ديا گيا تها اور اسكا عالمى رول محدود كر ديا گيا تها…غالب امكان يہى كہ ان پابنديوں كے ختم ہونے كے بعد، تركى عالمى خلافت اسلاميہ كى بحالى كى جدوجہد تيز كر دے گا اور ايک دن وه وقت ضرور آئے گا جب تركى و پاكستان كى مشتركہ قيادت (يا پهر امام مہدى كى قيادت) ميں وه عالمى نظام خلافت يا نظام عدل و انصاف دنيا بهر ميں ضرور قائم ہوگا كہ جسكا وعده اور خوشخبرى احاديث نبويہ ميں ہميں سنائى گئى ہے….كيا ہم اس كیلئے تيار ہيں!
 
ضمنا اس بات كا تزكره بهى ضرورى ہے كہ تركى كو دس پندره سال قبل وہى انہى معاشى حالات كا سامنا تها جن سے آج پاكستان گزر رہا ہے، ہر طرف بے روزگارى، كساد بازارى ، افراط زر ، صنعتيں بند، تاجر پريشان، گرتى ہوئى شرح نمو وغيره ليكن پهر طيب اردگان كى صورت ايک جہانديده ، انتهک، بے لوث، ويژنرى قائد انہيں ميسر آيا اور تركى كى كايا پلٹ گئى ،
 
آج تركى تيزى سے ترقى كرنے والے ممالک ميں شامل ہے اور اس معاشى خوشحالى كا براه راست نتيجا يہ كہ تركى قدم بقدم اپنے عالمى ايجنڈے كى طرف بڑھ رہا ہے…اس سارى صورتحال ميں ہمارے لئے بهى اهم سبق ہے،،،كيا ہمارى فوجى و سول قيادت كوئى سبق سيكهنے كيلئے تيار ہے؟!
 
(تحرير؛ نبيل شوكت وڑائچ)
 
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین