آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

منڈیاں مریضوں کی ۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

ٹیکس چھوٹ کے لیے خدمتِ خلق کے نام پر مریضوں کی منڈیاں قائم کیں جہاں شفا اور صحت کے بیوپاری اپنے مال کے اور آڑھتی سودا کروانے کی منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں

- Advertisement -

پچھلے دو تین ہفتے ایک دو عزیزوں کے صاحبِ فراش ہونے کے باعث ہسپتالوں میں آتے جاتے گزرے- چشم دیدہ روح فرسا واقعات سے دل دہل گیا۔ وہ ڈاکٹر صاحب یا د آگئے جو کورونا میں مبتلا ہوکر ایمبولینس میں ایک ایک ہسپتال کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے تھے- حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اکثر ہسپتالوں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہی نہیں ہوگا کیونکہ کراچی کے بیشتر ہسپتالوں میں تو ایسے مریضوں کا علاج ہی ممکن نہیں-

ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہسپتال ہیں جو تقریبا ہسپتال کہلائے جاسکتے ہیں- ان میں سے دوسرکاری ہسپتالوں کو چھوڑ کرایک ایک دو دو نجی، وقف اور رفاعی ہسپتال ہیں جنہوں نے کوڑیوں کے مول، جی ہاں! کوڑیوں کے مول شہر کے درمیان، پررونق علاقوں میں انتہائی مہنگی زمین کوڑیوں کے مول جی ہاں! علامتی قیمتوں پر حاصل کیں اور ان پر شاندار عمارات تعمیر کرکے انہیں ہسپتالوں کا نام دے دیا-

ٹیکس چھوٹ کے لیے خدمتِ خلق کے نام پر مریضوں کی منڈیاں قائم کیں جہاں شفا اور صحت کے بیوپاری (مالکان) اپنے مال کے اور آڑھتی (ماہر ِامراض) سودا کروانے کی منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں-

ستر اسی برس کا ایک مریض، وقتِ رخصت قریب، ایک ماہر ڈاکٹر سے وقت چاہتا ہے- جاں بلب مریض سے کہا جاتا ہے تین ہفتے سے پہلے کا وقت نہیں ہے- جس کے پاس وقت ہے اس کے لیے فلاں دن نو بجے صبح آکر نمبر لے لیجیے- یہ التجا کی جائے کہ ایک ایسا وقت دے دیجیے کہ نحیف و نزار اور تکلیف میں مبتلا مریض کوزیادہ بیٹھنا اور انتظارنہ کرنا پڑے تواکثر جواب یہی ہوتا ہے صبح نو بجے آجائیں کوشش کریں گے کہ جلدی دکھادیں گے-

ہمیں تو ہر ایک ماہر ڈاکٹر کے ساتھ یہی تجربہ ہوا-مقررہ وقت پرجب آپ پہنچیں گے تو اطلاع ملے گی ڈاکٹر صاحب آج چھٹی پر ہیں یا بارہ بجے آئیں گے -ان کی ’’ٹیم ‘‘ ہے اسے دکھالیں- اب ٹیم اکثر ایک نوجوان ڈاکٹر اور ڈاکٹرنی پر مشتمل ہوگی ممکن ہے دوتین جوڑے ہوں جو اکثر مریض زیادہ آپس میں متوجہ ہوں گے- یہ وہ سب ہیں جو بڑے ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں کسی امتحان کی تیاری کررہے ہوں گے اور اب مریض ان کے لیے پرچۂ امتحان بن جائے گا-

ڈاکٹر صاحب کا میاب ہونہ ہوں مریض کی ناکامی یقینی ہے-یہ زیرِ امتحان ڈاکٹر مریض کا امتحان لے کر اسے تین چار تشخیصی امتحان تجویز کرتے ہوئے اگلی تاریخ دے کر رخصت کردے گا کہ رپورٹ لے کر آئیے پھر دوا تجویز کریں گے-آپ اگر یہ کہدیں کہ ابھی تین دن پہلے کی یہ رپورٹ ہے تو جواب ملے گا ڈاکٹر صاحب تازہ رپورٹ دیکھتے ہیں مریض خواہ باسی ہوجائے-

عام طور پر ایسے مریض جن کی عمر ستر اسی سال کے قریب ہو اور کسی ایسے مرض میں مبتلا ہوجائیں جس کے لیے جراحت کی ضرورت ہو تو اکثر ڈاکٹرز اجتناب برتّے ہیں-لیکن پھر مریض کی غیر معمولی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔ لیکن یہ بڑے بڑے مسیحا ،جن کے اشتہاری بورڈ آپ ہر مذہبی تہوار پر فطرہ ، زکواۃ اور قربانی کی کھالوں کے لیے لگے دیکھیں گے، اپنے ہسپتال میں مریض کو لے آنے والے کو بتائیں گے کہ ہم اس کیفیت کا مریض نہیں لیتے – یعنی اسے اپنے آپ ہی مرنے دو-

جب مریض کا مرض لاعلاج ہوجائے اور اسے صرف نگہداشت کی ضرورت ہو کہ اس کا دم کچھ آرام سے نکل جائے تو آپ کا فطرہ ، زکواۃ اورقربانی کی کھالیں سب رائیگاں ہیں کیونکہ آپ کے عطیات تو ہسپتال کی چمکتی دمکتی راہداریوں میںٹائلز، پتھر اور شیشے لگانے کے لیے اور بھاری معاوضوں پر مارکیٹنگ منیجر، ہیومن ریسورس منیجر، چندہ جمانے کرنے والے، گاڑیاں اور ائیر کنڈیشنر خریدنے میں خرچ ہوچکے ہیں-

خرچ تو نجانے کتنے مریض ہو چکے ہیں صرف اس وجہ سے کسی خاص طبّی طریقۂ کار کے لیے مستند فہرستِ جانچ اور تشخیصی الخوارزمیہ کا نظام پاکستان کے ہسپتالوں میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے-ماہرینِ امراض مریض کے لیے وقت متعین کرنے کے دنیا بھر میں رائج طریقۂ کار سے ہی نا واقف ہیں-

مریض بڑے ماہر ڈاکٹر سے وقت لیتا ہے اور معائنہ کے وقت بڑے ڈاکٹر کی جگہ اس کا طالب علم بیٹھا ملتا ہے- اور اگر بڑا ڈاکٹر آ بھی جائے تو اکثر وہ اپنے طلبہ کی وساطت سے ہی مریض کا حال پوچھتا اور دوا تجویز کرتا ہے-ایسے لوگوں کی آمدنی اور آپ کے عطیات اللہ تعالی کی بارگاہ میں کیسے قبول ہوں گے اللہ ہی جانتا ہے-

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

شرف جامی

ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی صاحب کا یہ کالم بھی پڑھیے

سائنس ، طب ، سیوڈو سائنس اور سیاست – ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین