آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

پاکستان میں رياست مدينہ كا ماڈل اور مندر كى تعمیر پر بحث – نبیل شوکت وڑائچ

ہمارى رياست كى كچھ باتيں اسلامى ، كچھ مكمل غير اسلامى اور كچھ ايک مسلم قومى رياست كے طرز كى ہيں اور يہى ہمارا الميہ ہے كہ ہم اپنے نظریاتی قول و فعل یا ریاستی طرز عمل میں کسی طور بھی يک رنگ نہيں ہيں

- Advertisement -
اسلام آباد ميں سركارى خرچ پر مندر يا كوئى اقلیتی عبادت گاه تعمير ہو سكتى ہے؟ ايک اسلامى رياست ميں اقليتوں كے كيا حقوق ہيں؟ كيا پاكستان واقعی رياست مدينہ كے طرز پر چلائی جانے والی اسلامى رياست ہے، جديد قومى ریاست ہے يا پھر مذہبی نظریات سے آزاد ايک لادين سیکولر رياست بنتی جا رہی ہے؟ يہ اور اس طرح كے بہت سے سوالات ہيں جو آجكل ہمارے ذہنوں ميں اٹھ رہے يا پهر از سر نو اٹهائے جا رہے ہيں..آئيے انكے جوابات تلاش كرنے كى كوشش كرتے ہيں..
 
اس بات ميں تو كوئى شک نہيں كہ پاكستان كو اسلام اور كلمے كى بنياد پر حاصل كيا گيا تها، اور اسى نظرياتى اساس پر چل كر يہ (ملک)، رياست مدينہ كى طرح كى ايک حقيقى اسلامى رياست بن سكتا ہے.. گويا ہم كہہ سكتے ہيں كہ ايک اسلامى فلاحى رياست كا اولين تقاضہ يہ ہے كہ اسكى بنياد اسلام كے نظريہ (يا نظريۂ توحيد) پر ہو اسكے علاوه چار اور بنيادى شرائط ہيں جو اگر كسى بهى رياست ميں موجود ہوں تو وه رياست، اسلامى يا مدنى كہلائے گى، ورنہ نہيں.. وه چار بنيادى شرائط درج ذيل ہيں:
 
 رياست مدينہ يا رياست اسلامى ميں حاكميت اعلى اللہ تعالى كى ہوتى ہے. يعنى تمام قوتوں اور فيصلوں كا سرچشمہ خدا كى ذات ہے، عوام يا كوئى اور، شريک حاكميت نہيں..
 رياست كا سپريم لاء قرآن و سنت ہوتا ہے…يعنى كوئى بهى قانون، قرآن و سنت يا انكى روح كے خلاف نہ بن سكتا نہ قائم ره سكتا ہے
 رياست كے سربراه اور ديگر تمام عہدوں كا اولين معيار، اللہ كا خوف اور تقوى ہوتا ہے. نيز عہديدار كى دنياوى اہليت اور صلاحيت بهى ديكهى جاتى ہے نيز تمام رياستى امور باہمى مشورے اور شورائيت سے طے پاتے ہيں!
 رياست مدينہ كے طرز پر قائم اسلامى رياست كى چوتهى بنيادى شرط يہ ہے كہ وہاں عدليہ اور احتساب كا اداره مكمل طور پر آزاد، خود مختار و غيرجانبدار ہوتا ہے!
 
ايک اسلامى فلاحى رياست كى يوں تو اور بهى كئى خصوصيات ہيں ليكن اوپر بيان كى گئى چار خصوصيات بنيادى نوعيت كى ہيں..ان شرائط كى روشنى ميں اگر ہم رياست پاكستان كا جائزه ليں تو ہميں محسوس ہوتا ہے كہ پاكستان، كہنے كى حدتک يا نظرى طور پر تو ايک اسلامى رياست ہے ليكن عملى طور پر يا آئين پاكستان كے نفاذ كى رو سے ہمارا ملک، نہ مكمل اسلامى رياست ہے نہ مكمل غير اسلامى یعنی سيكولر رياست بلكہ دونوں كا ملغوبہ ہے!!۔

 ہمارى رياست كى كچھ باتيں اسلامى ، كچھ مكمل غير اسلامى (مثلا سود) اور كچھ ايک مسلم قومى رياست كے طرز كى ہيں اور يہى ہمارا الميہ ہے كہ ہم يک رنگ نہيں ہيں

 
اب اس سوال كا جواب تلاش كرتے ہيں كہ اسلام يا رياست اسلامى ميں اقليتوں كے كيا حقوق ہيں اور كيا سركارى خرچ پر انكى كوئى عبادتگاه تعمير ہوسكتى ہے تو اسكا جواب يہ ہے كہ مدنى رياست ميں اقليتوں اور انكى عبادتگاہوں كو مكمل تحفظ حاصل ہوتا ہے اور انكے حقوق عام شہريوں كے برابر اور مساوى ہيں ليكن انكى كوئى نئى عبادتگاه كسى ايسے شہر ميں تعمير نہيں ہوسكتى جو مسلمانوں نے نئے سرے سے خود بسايا ہو البتہ دوسرے مقامات پر انكى عبادت گاہوں كى تعمير و مرمت ہوسكتى ہے، يہ ايسى بات ہے جس پر تمام مكاتب فكر كے علماء كا اجماع و اتفاق رائے ہے…نيز اقليتوں كو روزگار ، صحت و تعليم كے مواقع دينا رياست كى ذمہ ہے~
اسلام آباد ميں مجوزه مندر كى تعمير كے حوالے سے موجوده اور سابقہ حكومتوں نے عجلت سے كام ليا.اس معاملہ پر كوئى قدم اٹهانے سے قبل انہيں تمام مكاتب فكر كے علماء يا كم از كم اسلامى نظرياتى كونسل جيسے آئينى ادارے سے ضرور پوچهنا چاہيے تها، ليكن مغرب كو خوش كرنے كى دوڑ ميں انہوں نے اسكى ضرورت ہى محسوس نہ كى اور اب بعد از خرابئ بسيار، اسلامى نظرياتى كونسل كو خط لكھ ديا ہے!!۔
يہ تو معاملے كا ايک پہلو ہے، أصل معاملہ يہ ہے كہ موجوده حكمران نام تو رياست مدينہ كا ليتے ہيں ليكن ان كے تمام اقدامات اس امر كى نشاندہى كر رہے ہيں كہ وه پاكستان كو درجہ بدرجہ ايک مكمل سيكولر يا آزاد خيال رياست بنانے كى خواہش ركهتے ہيں يا ان پر اتنا بيرونى دباؤ ہے كہ وه اسكے آگے بے بس ہيں~
 
بہرحال ان دونوں صورتوں ميں جو بهى حقيقى صورت ہو وه ملک كيلئے انتہائى نقصان ده ہے! نقصان ده اسطرح كہ ايک تو انكے غير اسلامى فيصلوں اور كمزور اقدامات سے رياست مدينہ كا تصور مجروح ہورہا ہے دوسرا، اسلامى نظام زندگى جيسے آئيڈيل نظام پر عوام كا جو اعتماد ہے وه متزلزل كيا جارہا ہے..!!
 
لهذا حكمرانوں كو ہمارا مشوره اور تنبيہ ہے كہ اگر وه پاكستان كو سيكولر رياست بنانے كا ايجنڈا ركهتے ہيں تو أز راه كرم رياست مدينہ كا نام لينا چهوڑ ديں… ليكن اگر وه سمجهتے ہيں كہ عوام كو.مطمئن كرنے كيلئے رياست مدينہ كا بار بار ورد ضرورى ہے تو پهر اس طرح كى نظرياتى رياست كے حقيقى تقاضے پورے كريں، آئين كى اسلامى دفعات پر مكمل عمل كريں يعنى فحاشى، سود ، شراب وغيره پر پابندى لگائيں۔

مندر كى سركارى خرچ يا اسلام آباد جيسے شہر ميں تعمير كے كسى متنازعہ منصوبے كا اعلان كرنے سے پہلے، شريعت اسلامى كى روشنى ميں اتفاق رائے پيدا كريں، يہ ان كى اخلاقى و آئينى ذمہ دارى ہے!

 
(تحرير؛ نبيل شوكت وڑائچ)
 
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین