آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

خوشی کسے کہتے ہیں ؟ ملک جہانگیر اقبال

آج کا " جدید انسان" اپنے قریبی رشتے اور ہزاروں چھوٹی چھوٹی اصل خوشیاں روندتا چلا جارہا ہے

- Advertisement -
  اول ، کیا خوشی وہ ہے جس کا حصول آپکے چہرے پہ اطمینان لائے ؟
 یا دوئم پھر خوشی وہ ہے جس کا آپکو بتایا جائے کہ یہ تمہارے پاس ہوگی تب ہی تم خوش ہوگے؟
 
یقیناً آپ سب کا جواب نمبر ایک ہی ہوگا پر کیا کمال حیرت کی بات ہے کہ ہم سب پھر بھی نمبر دو کی ڈگر پہ چلتے ہوئے خوشی تلاش کر رہے ہیں ۔ 
ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں
آج سے پندرہ بیس سال پیچھے جائیں اور دیکھیے کس طرح ہماری خوشیاں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہیں اور ہم حقیقی خوشیوں کی جگہ اُن چیزوں کے حصول کو خوشی سمجھ بیٹھے ہیں جن کا ہماری زندگی میں کوئی کردار نہیں، کوئی اہمیت نہیں پر ہم انہیں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل لازم کردار سمجھ بیٹھے ہیں یا ہمیں “سمجھا” دیا گیا ہے ۔
 
آج سے دس پندرہ سال قبل مرغی کا سالن ایک لگژری پکوان ہوا کرتا تھا ، ہفتے یا مہینے میں ایک بار مرغی پکائی جاتی ۔ سب خوشی سے کھاتے اور اس کا ذائقہ یاد رکھتے ۔
گاؤں دیہات میں اگر کوئی خاص مہمان آتا تو ہی گھر کی کوئی مرغی ذبح کی جاتی
یعنی مرغی کا پکنا ایک سلیبریشن ہوا کرتی تھی ۔
 
جب کہ آج مرغی کی اتنی فراوانی ہو چکی کہ اب اسکی حیثیت بھی دال سبزی جتنی ہی ہے ۔ ہماری سلبریشن ( خوش) ہونے کی ایک وجہ کم ہوگئی ۔
یہی حال بریانی کا ہوا جو محض شادی بیاہ یا عید پہ بنا کرتی تھی اب وہ بھی مہینے میں دو تین بار گھر میں ہی پک جاتی ہے ۔
 
چائنیز کھانے یا پھر پیزا تو ہم اشتہارات یا فلموں میں ہی دیکھا کرتے تھے پر اب وہ بھی آہستہ آہستہ ایک عام گھریلو پکوان بنتے جارہے ہیں ۔
 
محلے بھر میں ایک سیگا یا اٹاری گیم ہوا کرتا تھا اور پورا محلہ اُسکے لیے پاگل جبکہ اب ہر بچے کے ہاتھ میں اینڈروئڈ فون ہے اور ہر گیم اُسکے ہاتھ میں تو وہ خوشی بھی کافور ہوئی جو دِن بھر میں کسی طرح سے ایک ویڈیو گیم کھیل کر ملا کرتی تھی ۔
 
پس جیسے جیسے ہماری کسی دور کی لگژری اب عام شے بنتی جارہی ویسے ویسے ہی ہماری خواہشیں اور خوشیاں مرتی جارہی ہیں ۔
پہلے جو ہاتھی اور چیونٹی کے لطیفے بھی ہمارے بڑے بزرگوں کے قہقہے نکلوا دیتے تھے اب وہ لطیفے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ بھی نہیں لا پا رہے ہیں کہ ٹی وی انٹرنیٹ پہ آپکو ہر وقت ہنساتے رہنے کا مواد انتہائی کثرت سے موجود جو رفتہ رفتہ ہمارے حس مزاح کو اتنا مضبوط کرتا جارہا ہے کہ شاید آٹھ دس سال بعد ہم کسی لطیفے پہ ہنسنا ہی بھول جائیں گے ۔ یہاں حدیث نبوی یاد آگئی
 
۔” زیادہ ہنسنا دل کو مردہ (سخت) کردیتا ہے”۔۔۔
 
یہ حدیث محض ہنسنے تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی میں میانہ روی کی اہمیت بتلاتی ہے ۔لیکن ہم جس سرمایہ دارانہ نظام کے دور میں جی رہے ہیں یہ ہمیں چیزوں کی کثرت کی جانب راغب رکھتا ہے ۔ یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اے سی ، کار ، فاسٹ فوڈ ، موویز ، پارٹیز ، بلند و بانگ قہقہے اور زرق برق لباس کو زندگی کا لازمی جزو سمجھیں اور ہم اب سمجھ بھی رہے ہیں پر یہ ظالم نظام یہ نہیں بتاتا کہ جب یہ سب مِل جائے تو پھر کیا کیجئے؟؟
 
یہ نظام بتاتا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ کا موبائل فون لو ، اور پھر جب چند ماہ بعد اُسی موبائل کمپنی کا نیا موبائل لانچ ہو جس میں رتی برابر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی پر یہ سرمایہ دارانہ نظام آپکو مجبور کرتا ہے کہ جو ڈیڑھ لاکھ کا آپ نے موبائل لیا تھا وہ اب پرانے دور کی نشانی ہے ، نئے دور میں جینا ہے تو ایک لاکھ اور خرچ کرو اور یہ نیا موبائل لو ۔
 
اس نظام کو معلوم ہے کہ ہمارا لاشعور حقیقی خوشیوں کے ناپید ہونے سے آگاہ ہے لہٰذا کوک/پیپسی کی مضر صحت بوتل ہو یا مضر صحت کھانے ۔ یہ اشتہارات میں مسکراتے چہرے و ناچتے جسم دکھا کر ہمیں باور کرواتا ہے کہ یہ فضول اشیاء خریدو اسی میں خوشی ہے اور ہم جانے انجانے میں خوشی کی تلاش میں وہ چیزیں خریدتے ہیں ۔
 
ہمارے کھانے ، کپڑے ، گاڑیاں ، کھیل جو کبھی زندگی بھر کو کافی ہوا کرتے تھے ۔ پر اب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہر چھ ماہ بعد ان میں تبدیلی لازم رکھو ورنہ تم دنیا سے پیچھے رہ جاؤ گے ، پر یہ ریس لگائی کس نے ہے جو ہمارا بھاگتے رہنا لازم ٹھہرا؟
 
سب اس ریس میں بھاگ رہے ہیں کہ کہیں پیچھے نہ رہ جائیں پر کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ یہ ریس ختم کہاں ہوگی؟ شروع ہی کیوں ہوئی؟ تماشہ کون دیکھ رہا ہے ؟ ہم تماشہ کیوں بن رہے ہیں اور فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟
 
ہماری مائیں اپنی شادی کا جوڑا اپنی بیٹیوں کیلئے سنبھالتی تھیں کہ یہ احساس اور محبت کی نشانی تھی پر اب بیٹی کو بڑی بہن تک کا سوٹ نہیں پہننا ، اُسے ایک لاکھ کا وہ لہنگا خریدنا ہے جسے شاید وہ دوسری بار پہنے بھی نا اور یہ سب اُسے سرمایہ دارانہ نظام سکرین کے نشے کے ذریعے سمجھا رہا ہے ۔
ایک پیدائشی گوری ماڈل آکر بتاتی ہے کہ میں کالی تھی پھر یہ کریم لگائی اور گوری ہوگئی ۔
 
سب کو معلوم ہے وہ ماڈل پیدائشی گوری ہے اس میں کریم کا کوئی کمال نہیں پر لوگ وہ دھوکہ کھا رہے ہیں کیونکہ اُنہیں سکرین کے ذریعہ بتایا جارہا ہے کہ کالا رنگ ہونا انتہائی بدصورت ہونے کی علامت ہے ۔
کون بتا رہا ہے یہ؟ کس نے یہ معیار طے کیا ہے؟
 
کسی کو کچھ نہیں معلوم لیکن پھر بھی یہ دجل (جھوٹ فریب) ڈھٹائی کے ساتھ بیچا جارہا ہے اور دنیا اسے ” خوشی” سمجھ کر خریدے جارہی ہے ۔
 
ایسی زبردستی کی لاحاصل اور مشکل چیزوں کو “خوشیاں” بنا دیا گیا ہے جن کے حصول میں بھاگتے بھاگتے ہماری زندگی مشینی ہو چکی ہے ۔
وہ خوشیاں جو کبھی ہمارے آس پاس لمحہ بہ لمحہ موجود رہتی تھیں اُنہیں اب خوشیوں کی کیٹیگری سے ہی نکال دیا گیا ہے ۔
اب مرغی کا سالن بننے کی کوئی خوشی نہیں ہوتی ہے
اب ہاتھی چیونٹی کے لطیفے قہقہہ نہیں پیدا کر پاتے
اب عید پہ کالا چشمہ اور نیا جوڑا خوشی نہیں رہی
مجھے ابھی بھی یاد ہے کے چودھویں کے چاند کو ہمارا پورا محلہ خوشی سے دیکھا کرتا تھا۔ ہفتے کی رات اگر دور کہیں کسی شادی پہ آتش بازی ہورہی ہوتی تو سارا محلہ اپنے چھتوں پہ آکر اُس کا نظارہ کیا کرتا ۔
گرمی کی راتوں میں چھتوں پہ اسٹینڈ والے پنکھے لگا کر سارا گھرانہ یکجا ہوتا ، قہقہے لگتے ، دِن بھر کے قصے سنائے جاتے اور یونہی ہنستے مسکراتے سب سوجاتے ۔
 
لیکن اب….
 
اب ہمارے دل مردہ (سخت) ہوتے جارہے ہیں ۔ اور اگر اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں ذہنی غلام بنے رہے تو قوی اُمید ہے ہمارے اندر کی انسانیت بھی مرتی جائے گی اور ہم وہ غائب دماغ زومبی بن جائیں گے جسے بے سر و پا چیزوں میں خوشیاں دکھائی جارہی ہیں ، جب وہ اُنہیں حاصل کرلیتا ہے تو بتایا جاتا ہے یہ تو خوشی کا پرانا معیار ہو چکا نیا معیار تو دو منزل آگے ہے ..
 
اور اس دو منزل آگے والی خوشیوں کے اندھے حصول میں آج کا ” جدید انسان” اپنے قریبی رشتے اور ہزاروں چھوٹی چھوٹی اصل خوشیاں روندتا چلا جارہا ہے جو اُسے حقیقی معنوں میں خوشی دے سکتی تھیں اور ہمیشہ سے اُسکی دسترس میں ہی تھیں .
اگر آپکو لگتا ہے کہ ہر ماہ آنے والا نیا موبائل ، جدید گاڑی ، برانڈڈ سوٹ و جوتے ، الیکٹرانک گیجٹس ہی آپکی اصل خواہش / خوشی ہیں تو یقین جانیے آپ سرمایہ دارانہ نظام کے بدترین نشئی و ذہنی غلام بن چکے ہیں ، آپکو ہوش میں آنے کی سخت ضرورت ہے !!
 
ملک جہانگیر اقبال

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین