خبر اور تجزیہ

جارج فلائیڈ کی موت نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کو تبدیل کردیا

نسلی مساوات کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ جارج فلائیڈ ایک مرتبہ پھر برابر کے شہری حقوق کے مطالبے کی علامت بن کر ابھرا ہے۔

- Advertisement -
امریکہ کے شہر میناپولس میں پولیس کی تحویل میں ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی موت پر ملک میں نسل پرستی کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔ اس سانحہ سے نہ صرف امریکہ کے اندر گویا ایک لاوا ابل پڑا بلکہ دنیا کے بہت سے شہروں میں بھی نسل پرستی کی سوچ کی بھرپور مذمت کی گئی۔
 
تجزیہ کاروں اور شہری حقوق کے سرگرم کارکنوں کے مطابق، اس کا تعلق محض ایک خاص واقعہ اور چند ایک ایسے ہی واقعات سے نہیں بلکہ اس کی جڑیں صدیوں پر محیط غیر انسانی سلوک اور استحصالی نظام میں پیوستہ ہیں۔
 
ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق صدیوں پرانی عصبیت اور مخصوص ذہنی تربیت اور اس کے نتیجے میں پروان چڑھنے والی سوچ سے ہے۔
 
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ امریکہ میں غلامی کا چلن اور اس کے خلاف صدر ابراہم لنکن سے لے کر جدید دور تک کی جدوجہد اور نسلی مساوات کے لئے کی جانے والی کاوشیں، اور اس کی خاطر دی جانے والی قربانیاں تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں، جن کے بہت سے پہلو افسوسناک بھی ہیں اور ساتھ ہی ولولہ انگیز بھی۔
 

نسلی مساوات کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ جارج فلائیڈ ایک مرتبہ پھر برابر کے شہری حقوق کے مطالبے کی علامت بن کر ابھرا ہے۔

 
اس پس منظر میں امریکہ میں پولیس کے اندر اصلاحات اور تعزیری قوانین کے نظام میں بہتری لانے کے دیرینہ مطالبات کی زبردست باز گزشت سنائی دے رہی ہے۔ بہت سی ریاستوں اور متعدد شہروں اور خود کانگریس سے بھی سلسلہ جنبانی دیکھنے میں آرہا ہے۔ پولیس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں مبینہ طور پر امتیازی سلوک سے کام لیتی ہے۔
ایسے میں موضوع پر بحث و مباحثہ جاری ہے وائس آف امریکہ کے لئے مارش جیمس اور گیبرئیل وائس نے ایک سابق سیاہ فام خاتون پولیس افسر سے ان کی رائے معلوم کی۔ ٹریسی سیمنس اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ انھوں نے پولیس اکیڈمی سے گریجویشن کی اور میٹرو ٹرانزٹ پولیس ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہوگئیں۔
 
انھوں نے بتایا کہ جب سارجنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی تو اس گروپ میں وہ واحد سیاہ فام خاتون تھیں۔ انھوں نے ملازمت کے دوران اپنی حیثیت منوانے کے لئے انتھک جدوجہد اور مسابقت کا بھی ذکر کیا۔ ٹریسی نے بتایا کہ مختلف حیثیتوں میں انھوں نے پچیس سال خدمات انجام دیں اور محکمے میں ڈپٹی چیف کے عہدے پر ریٹائرہوئیں۔ اس عہدے پر پہنچنے والی وہ واحد سیاہ فام خاتون تھیں۔
 
ان کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان خاتون خاص کر سیاہ فام عورت ہونے کی وجہ سے انھیں بڑا چیلنج درپیش رہا۔ ان کے مطابق، پولیس کے محکمے میں جنسی اور نسلی معاملات عام تھے۔ انھوں نے یہ بھی شکایت کی کہ نمبر شماری کے وقت ایسے ریمارکس بھی سننے پڑتے تھے جنھیں دہرانے کا حوصلہ بھی نہیں۔ لیکن سفید فام مردوں کی اکثریت کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے اصلاح احوال اور تبدیلی کے لئے آواز بہرحال بلند کرنی تھی جو میں نے کی۔
تاہم، ٹریسی سیمنس کہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طور پر نسل پرستی تو جاری رہے گی۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کا پردہ چاک ہوتا رہے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ پرامید ہیں۔ لیکن موجودہ سوچ میں بہتری کے لئے مخصوص طریقے اپنانے ہوں گے اور ایسے لوگوں کو سبکدوش کرنا ہوگا جو پرانی سوچ سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تبدیلی ناگزیر ہے۔
 
ٹریسی سیمنس نے اعتماد سے کہا کہ جارج فلائیڈ کی موت ہمارے لئے ایک میراث ہے۔ اس نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو تبدیل کردیا ہےاور اس کی موت کا المیہ خلا میں تحلیل نہیں ہوجائے گا۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اپنے بیٹے کے لئے جب وہ رات میں گاڑی چلا رہا ہوتا ہے، ایک انجانا خوف بہرحال ان کے ذہن پر اب بھی چھایا رہتا ہے۔
۔۔۔
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین