خبر اور تجزیہ

فرانس میں مسلم حجاب کے مخالف وزیر اعظم کا استعفٰی، کورونا کرپشن کی عدالتی تحقیقات شروع

سابقہ اور مستعفی ہونے والے موجودہ حکمران فرانس میں اسلامی حجاب پر پابندی لگانے کی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں ۔ جبکہ ان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کی آمد پر بھی پابندی لگائی جائے۔

- Advertisement -
فرانس میں وزیراعظم ایڈوارڈ پلیپ نے استعفیٰ دے دیا ہے ، جبکہ ان کے استعفیٰ دینے کے چند گھنٹے بعد ہی فرانس کی اعلی عدالت نے ان کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے
 

فرانس کی عدلیہ نے مستعفی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے حکومتی اقدامات کی عدالتی تفتیش کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس تفتیش میں مستعفی ہونے والے وزیر اعظم سمیت دو اور اعلیٰ ترین حکومتی اہلکار بھی شامل ہیں۔

 
یاد رہے کہ ایڈوارڈ پلیپ نے جمعے کے روز اپنی کابینہ میں ردوبدل کے دوران اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ایڈوارڈ پلیپ کے استعفیٰ دینے کے چند گھنٹے بعد ہی وزارتی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والی فرانسیسی اعلی عدالت لا کورٹ آف دی ریپبلک کے انکوائیری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس میں مستعفی وزیر اعظم کی حکومت کے کورونا وائرس کیخلاف جدوجہد میں کرپشن اور خلاف ضابطہ امور کی تحقیقات کی جائے گی۔
سابق وزیراعظم کے علاوہ ان تحقیقات میں فروانس کے دو سابق وزرائے صحت کے مالیاتی امور اور ذمہ داریوں کے بارے بھی تفتیش کی جائے گی۔ فرانس کی حکومت کو کورونا وائڑس کی وبا کے دوران طبی آلات کی عدم دستیابی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
 

یورپ میں فرانس وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ساٹھ لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ لیکن مسلمانوں سے تعصب اور نفرت آمیز رویوں کا یہ عالم ہے کہ سابقہ وزیر اعظم کہتی تھیں کہ ” جب مسلمان گلیوں اور سڑکوں پر عبادت کریں تو مجھے لگتا ہے نازی جرمن دوبارہ فرانس پر قبضہ کر چکے”۔

سابقہ اور مستعفی ہونے والے موجودہ حکمران فرانس میں اسلامی حجاب پر پابندی لگانے کی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں ۔ جبکہ ان کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کی فرانس میں آمد پر بھی پابندی لگائی جائے۔ اور وہ اپنے ان عزائم میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ لیکن قدرت کے کھیل کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔ فرانس صرف کورونا ہی نہیں گذشتہ ایک دہائی سے معاشی تباہی اور تہذیبی زوال کا شکار رہا ہے
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین