آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

کرونا تحقیق اور سنجیدہ رویوں کا فقدان – صہیب جمال

ہم اس کرونا وبا کی تحقیق میں بے بس اور دنیا سے کتنے پیچھے اور کتنے دور کھڑے ہیں

- Advertisement -

ہمارے ملک کے میڈیکل ادارے ، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف ، ریسرچ اتھارٹیز اور اربابِ اختیار کرونا کی عالمی وبا کے حوالے میں مکمل بے ربط اور بے بس نظر آتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ ہم  یماری تحقیق ، حکمت عملی اور رویے کتنے دقیانوسی ہیں۔ ہم دنیا سے کس قدر پیچھے اور دور کھڑے نظر آتے ہیں۔ ڈھائی مہینے ہونے کو ہیں لیکن افسو کہ ہم ابھی تک یہ بھی طے نہیں کرسکے کہ اس جان لیوا بیماری کی ہمارے ملک میں ہمارے ماحول میں شدّت کیا ہے اور ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔

ابھی تک ہم مختلف عمر اور مختلف کیفیات پر ، بیماری میں مبتلا کرونا مریضوں پر تحقیق نہیں کر سکے ، ابھی تک یہ بھی نہیں بتا سکے مریض کیسے صحتیاب ہو رہے ہیں ؟ گھر میں آئسولیٹ مریض کیسے صحیح ہو رہا ہے ؟

اس عالمگیری وبا کے حوالے سے ہماری تحقیق اور حلمت علمی بھی صفر ہیں ۔ دوسری طرف ہما پیشہ ور میڈیا ہے ، کہ جس کو رمضان میں بھی اس حساس صورت حال میں تماشوں سے فرصت نہیں ہے۔ میڈیا اس موضوع پر اپنی شو بازی کی دکان چلاتا اور دن بھر کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے نعرے لگاتا رہتا ہے ۔

ابھی تک ہماری طرف سے ایک آئیسولیشن سینٹر پر تحقیق نہیں کی گئی ، لیکن ہاں یہ ضرور بتاتے ہیں کہ فلاں علاقے میں اتنے مریض نکلے مگر مجال ہے کہ پندرہ سولہ دن کے بعد وہاں جائیں پتہ کریں کہ واقعی کرونا تھا بھی یا نہیں ؟ صحتیاب مریض کا ہی انٹرویو کرلیتے۔ سچ یہی ہے کہ اس وبا میں ہمارے تمام ادارے مکمل ناکام نظر آئے ہیں ۔

اب جبکہ بازار کھلے ایک دکان میں جہاں دس گاہکوں کی جگہ تھی تیس موجود تھے کم از کم ایک دن میں تیس لاکھ خریدار بیک وقت گھر سے باہر تھا نہ مریض بڑھے نہ اموات میں شدید اضافہ ہوا ۔

اب جبکہ میڈیکل کے عالمی دیوتا ڈبلیو ایچ او نے کہہ دیا ہے کہ یہ وائرسی وبا دنیا سے ابھی ختم ہونے والی نہیں ہے تو کم از کم ہمارے محکمہ صحت اور ریاست چلانے والے مقتدر ادارے اس حوالے سے کوئی سرکاری اور عمومی حکمت عملی تو بنائیں اور اس حوالے سے مکمل ریسرچ کے ساتھ طے کریں آگے اس وائرس کے ساتھ زندگی کیسے گذارنی ہے کوئی طریقہءِ کار ابھی سے وضع کریں

ہمارے ارباب اختیار اور صحت کے ادارے کچھ کریں یا نہ کریں، دنیا میں جون کے آخر تک اس کرونا اپڈیمک کا ڈراپ سین مجھے کسی فساد کی شکل میں نظر آ رہا ہے ۔ پاکستان اس بیماری اس وبا کے کھیل سے جتنی جلدی ممکن ہو نکل جائے ، جلد از جلد آگے کی زندگی اور رہن سہن کا باقاعدہ قانون بنا لیا جائے ۔

تحریر : صہیب جمال

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین