آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

کورونا یہ کیا ہو رہا ہے؟ ۔ اوصاف شیخ

مقصد پاکستان میں کورونا کی صورت حال کے پیش نظر چند مخصوص باتوں کا تذکرہ اور بعض تحفظات و شکایات بیان کرنا ہے

- Advertisement -
کورونا تو ہے ۔ لوگ متاثر بھی ہو رہے ہیں ۔ بیمار بھی ہو رہے اور اموات بھی ہو رہی ہیں دنیا کا کوئی خطہ اس سے محفوظ نہیں رہا اس ہر پائے جانے والے شکوک و شبہات اپنی جگہ بلکہ بعض شکوک تو بہت مضبوط ہیں ان تمام کے باوجود بیماری تو ہے جس کا نام کورونا رکھا گیا میں نے اپنے پچھلے کالم میں دنیا بھر میں کورونا کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کا تذکرہ کیا تھا ۔
 
یہ ایک الگ بحث ہے کہ کورونا وائرس ہے ؟ اس کا آغاز کہاں سے ہوا ؟ کیا یہ سراسر قدرتی وباء ہے یا انسان کی اپنے ہاتھوں تباہی کی کہانی ۔۔۔ یہ کیمیائی ہتھیار ہے یا کوئی ناکام تجربہ ؟ یا یہ ایجاد کرنے والوں کی غفلت کی وجہ سے خود ان کے اپنے ہاتھوں سے نکلا ہوا تیر ۔۔۔۔ یہ سب باتیں ۔ یہ سب اندازے ۔ یہ سب الزامات رفتہ رفتہ کھلتے جائیں گے ۔۔۔ سر دست یہ ایک وباء کی صورت دنیا میں تباہی تو مچا رہا ہے
 
اس کالم کا مقصد پاکستان میں کورونا کی صورت حال کے پیش نظر چند مخصوص باتوں کا تذکرہ اور بعض تحفظات اور شکایات بیان کرنا ہے ۔۔۔ پاکستانی میڈیا جو ذرا ذرا سی بات پر طوفان کھڑا کرنے میں پیش پیش رہتا ہے متفقہ ظور پر کورونا وائرس کی حقیقت اور اس کی تباہ کاریوں کی کوریج کر رہا ہے ۔۔۔ لیکن سوشل میڈیا پر آئے دن دکھائے اور بیان کیئے جانے والے بہت سے واقعات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کر پائے۔
 
میڈیا کا ایک حصہ کورونا ۔ لاک ڈاؤن کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے سرگرم رہتا ہے ۔ کوئی حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا رہا ہے تو دوسرا حکومت کے اقدامات کو اہم قرار دے رہا ہے لیکن عوام جو سوشل میڈیا پر تماشا دیکھ رہے ہیں اس پر کوئی میڈیا ۔ کوئی حکومتی ۔ کوئی اہوزیشن کا بندہ بحث نہیں کرتا
بہت سے واقعات میں کورونا کے مرض میں ہونے والی اموات ہر تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کیا گیا ۔۔۔۔ ہسپتالوں میں ہنگامے ہوئے ۔ توڑ ہھوڑ ہوئی اور ورثا کی جانب سے دعوے کیئے گئے کہ ان کا مریض کورونا کے مرض میں مبتلا نہیں تھا ۔۔۔ کسی اور بیماری کے علاج کے لیئے اسپتال لائے اور ہمارے مریض کو زبردستی کورونا میں ڈال دیا گیا ۔ ہم پر ہابندیاں لگائی گئیں ۔۔۔
 
کچھ کیسوں میں مریض ایک گھنٹہ ۔۔۔ چند گھنٹے اور ایک دو دن میں انتقال کر گئے جن کی لاش ڈبلیو۔ایچ۔او کے احکامات یا حکومتی احکامات پر ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی اور اسپتال کے عملہ نے مقامی انتظامیہ کی ہدایت ہر مقامی بلدیہ کی معاونت سے تابوت میں ڈال کر خود دفن کیا ۔۔۔ ابتداء میں تو چار پانچ بندوں سے زیادہ کو جنازہ میں شریک ہونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
 
بہت سی اموات کے حوالے سے ورثاء نے تحفظات کا اظہار کیا کہ کورونا کا مرض نہیں تھا ۔۔۔مرنے والے کو دفنانے والے عملہ کے درشت رویہ کی بھی شکایات عام ہوئیں ۔ عملہ کا موءقف یہ ہوتا ہے کہ انتظامیہ کی سخت ہدایات ہیں ۔۔۔۔ بہت سے ورثاء نے شکایات کیں کہ ان کے مرنے والے کو غسل بھی نہیں دیا گیا اور بعض نےکفن بھی نہ دینے کی شکایات کیں ۔۔
 
میں بھی یہ شکایات سنتا رہا ۔ بہت سے واقعات سوشل میڈیا پر اور کچھ واقعات ورثاء اور عینی شاہدین کی زبانی سنیں ۔۔۔ بہت سے مرنے والوں کو سخت نگرانی میں دفنانے کے بعد آنے والے کورونا ٹیسٹ کے منفی آنے کی شکایات بھی سامنے آئیں
 
گزشتہ دنوں مجھے اپنے شہر ساہیوال میں دو فوتگیوں میں جانے اور جنازہ میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا ۔ ایک مریض میرا سابقہ محلہ دار جس کو شوگر ہائی ہونے ہر اسپتال لے جایا گیاوہاں اس کی سانس خراب ہونے کے سبب دوسرے اسپتال منتقل کر دیا گیا وہاں بھی وقت پر وینٹی لیٹر دستیاب نہیں تھا ۔ مریض کو کورونا کا مریض ڈکلییر کر دیا گیا۔ ورثاء احتجاج کرتے رہے اس مریض کا کورونا ٹیسٹ کے لیئے سمپل لاہور بھجوا دیا گیا لیکن چند گھنٹے بعد مریض انتقال کر گیا ۔۔۔
اس کی لاش ورثاء کو نہیں دی گیی اور متعلقہ عملہ خود تابوت لے کر قبرستان آیا اور نماز جنازہ کے بعد خود اسے دفنایا ۔۔۔ مرنے والے کے بیوی بچے ۔بھایی بہن بیٹیاں قبرستان کے کے باہر بلکتے رہے اور عملہ نے اس کو دفنا دیا ۔۔۔ دو دن بعد اس کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ آئی جس میں اس کا کا ریزلٹ منفی آیا یعنی رپورٹ کے مطابق اسے کورونا نہیں تھا ۔
 
اب اس خاندان کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ کا ذمہ دار کون ہے ؟ دوسرے کیس میں میرے ایک دوست کی والدہ کا بعد از تدفین رزلٹ بھی منفی آیا ۔۔۔ ان کے ساتھ یہ ہو رہا ہے کہ میرے دوست کے بچے باہر کھیلنے گئے تو محلہ کے بچوں نے ان سے دوری اختیار کی کہ ان کی دادی کو کورونا تھا وہ خاندان سخت اذیت سے دوچار ہے
 
یہ واقعات لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ کورونا وباء نہیں یے۔ جا احتیاط نہیں کرنا ۔اس کی احتجاط بھی ضروری ہے اور علاج بھی۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ سسٹم کو ٹھیک کیا جائے ۔ سب کو کورونا میں نہ ڈالا جائے اور اگر کورونا کا شک ہے تو پھر ٹیسنگ کا مرحلہ اتنا سست نہیں ہونا چاہئے کہ بعد میں آنے والی نیگٹو رپورٹ اس خاندان کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی جو اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں غسل نہ دے سکے ہوں۔ اپنے پیاروں کو کفن نہ پہنا سکے ہوں آخری بار اس کا چہرہ نہ دیکھ سکے ہوں اور اپنے پیاروں کو اپنے کاندھوں پر قبرستان لے جا کر اپنے ہاتھوں دفنا نہ سکے ہوں
 
یہ واقعات ہو رہے ہیں لیکن نہ تو حکومت نوٹس لے رہی ہے اور نہ اپنے قائدین کو بچانے والی اپوزیشن کو کوئی غرض ہے نہ چیختا چنگھاڑتا میڈیا اس پر آواز اٹھا رہا ہے یہ بات حیران اور پریشان کرتی ہے
۔
اوصاف شیخ

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین