آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

کس کو کورونا ‘ کس کو نہیں؟ ۔ ڈاکٹر شکیل فاروقی

یہ تمام حقائق مستند تحقیقی مقالہ جات اور نصاب میں موجود ہیں اور راقم اس کا مستند حوالہ پیش کرنے کا ذمہ دار ہے

- Advertisement -
کورونا وائرس ایک حقیقت ہے لیکن یہ نظر نہیں آتا -خرد بین بھی اسے نہیں دیکھ سکتی۔  یہ انتہائی باریک ذرہ ہے جو ایک انتہائی مہین لبادے میں لپٹا ہوا- یہ بے حد مختصراور نادیدہ آبی قطرات اور لعابی چھینٹوں میں پوشیدہ ہوا کے دوش پر سفر کرتا ہے- اور سانس کے ساتھ پھیھڑوں کی تنگ نالیوں میں پہنچ جاتا ہے- وہاں پہنچ کر یہ ان نالیوں کے اندرون واقعہ استر سے چپک جاتا ہے اور موقع ملتے ہی اپنا لبادہ سطح پر چھوڑ کر عریاں حالت میں استر بنانے والے خلیوں میں داخل ہوجاتا ہے
 
خلیوں میں داخل ہوکر کورونا وائرس سب سے پہلے خلیوں کے اندرونی انتظام و انصرام کو اپنے قابو میں کرتا ہے اور خود اپنی پود بڑھانا شروع کردیتا ہے یعنی کہ آدمی کا اپنا خلیہ اس کا اپنا ساتھ چھوڑ کر کورونا وائرس کے کام میں جت جاتا ہے
 
جب ایک خلیے میں ان ذرات کی تعداد ایک خاص نہج تک پہنچتی ہے تو خلیہ پھٹ جاتا ہے اور بے شمار ذرات خلیے کی رطوبت کے ساتھ دوسرے سینکڑوں اور ہزاروں خلیوں تک پہنچ جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں
 
اس عمل میں دو چار سے پندرہ بیس دن لگتے ہیں لیکن تب تک بات ہاتھ سے نکل چکی ہوتی ہے- خلیوں میں پہنچے ہوئے کورونا وائرس کو مارنے کا کوئی طریقہ نوعِ انسانی اب تک نہیں جانتی-۔ اس طرح پھیپھڑوں کی تنگ نالیوں کے استر میں مردہ پھٹے ہوئے اور زخمی خلیوں کی مرمت کی بھی کوئی صورت نہیں
 
کورونا وائرس کی تباہ کاریاں ایسی ہیں کہ فشارِ خوں، عارضۂ قلب، دمہ، نظامِ تنفس کے دیگر امراض میں مبتلا امراضِ گردہ کا شکار اور ذیا بیطس کے مریض مقابلہ کر نہیں پاتے اور ان کے لیے اس وائرس کا حملہ جان لیوا ہوجاتا ہے-ایسے افراد میں اس مرض کے اثرات پھیپھڑوں کے علاوہ دل، دماغ اور دیگر اعضأ تک پھیل جاتے ہیں – خون میں موجود آہنی ذرات اور دیگر عناصر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے- مریض کے لیے از خود سانس لینا ممکن نہیں رہتا اور پھیپھڑوں میں زہر آلود رطوبتیں بننا شروع ہوجاتی ہیں
 
قدرتی طور پر بعض افراد میں کسی حد تک اس مرض کی مدافعت پائی جاتی ہے- کہیں وائرس کے ذرّات خلیے میں داخل نہیں ہوپاتے، کہیں داخل ہوجاتے ہیں لیکن ان کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو پاتا اور کہیں خون میں ردِوائرس اجسام بنتے ہیں جو ان ذرّات کو ختم کردیتے ہیں- سائنسدان تاریخی مشاہدات اور تجربے کی بنیاد پر توقع کررہے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قدرتی مدافعت انسانوں میں پھیل سکتی ہے- کب تک؟ فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا
 
اس وقت معالجین کے پاس کوئی تیر بہدف نسخہ موجود نہیں- مختلف ہسپتال صرف کوشش کررہے ہیں کہ مریض کو سنبھالا جاسکے اور جن کا مرض اس نہج تک پہنچ جائے کہ وہ سانس نہ لے سکیں تو انہیں ہوادان کی سہولت مہیا کی جائے- جو لوگ صحتیاب قرار دیے جاتے ہیں اگر انہیں واقعی کورونا وائرس نے آن گھیرا تھا توغالب امکان یہ ہے کہ یہ ان میں موجودقدرتی مدافعت کے باعث ہوگا
 
کورونا وائرس کی تشخیصی جانچ انتہائی ناقص طریقے سے کی جارہی ہے- نہ ہی جانچ کرنے والے عملے میں اہلیت ہے نہ تشخیص کی روداد لکھنے والے میں- ہسپتالوں کی انتطامیہ اور تشخیصی جانچ کرنے والے ادارے بے حد ابہام پیدا کررہے ہیں جو دراصل ان کی اپنی کم مائیگی چھپانے کے لیے ہے-اس لیے عام لوگوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں -یہ مسئلہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بعض دیگر ممالک میں بھی ہے
 
راقم مختلف حوالوں سے کورونا وائرس کے متعلق تفصیل ماہِ فروری سے آج تک اپنے نصف درجن مضامین میں تفصیل سے بیان کرچکا ہے جو پچھلے شماروں اورسماجی ابلاغ کے مختلف ذرائع پر موجود ہیں- میری التجا ہے کہ خدارا انہیں غور سے پڑھ لیجیے آج یہ تفصیل لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پھرکسی نے یہ سوال اٹھادیا کہ کیا کورونا وائرس ایک فرضی کہانی ہے؟
 
اس پر پڑھے لکھے لوگوں نے بھی عجیب و غریب شکوک و شبہات کا سہارا لیا مثلا اتنے لوگ تو نہیں مر رہے جتنے بتائے جارہے ہیں یا پیسہ بنانے کا چکر لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ- حکومت کی نااہلی اپنی جگہ، ہمارے ڈاکٹرز کی کوتاہ دستی ایک طرف، ہمارے نام نہاد سائنس دانوں کی کج فہمی سے صرفِ نظر،حقیقت یہ ہے کہ یہ وائرس بے انتہا خطرناک ہیں اور نوعِ انسانی اس خطرے کے سامنے فی الوقت بے دست و پا ہے-
 
اس مضمون کے مندرجات ہر گز طبع زاد نہیں بلکہ سائنسی حقائق ثبوت و شواہد پر مبنی ہیں- یہ تمام حقائق مستند تحقیقی مقالہ جات اور نصاب میں موجود ہیں اور راقم اس کا مستند حوالہ پیش کرنے کا ذمہ دار ہے- قارئین سے بھی درخواست ہے کہ ذہن میں سر اٹھانے والے خیالات کو سوال کے قالب میں ڈھالیں جواب یا دعوے کے نہیں- مسئلہ یہ ہے کہ لوگ پرہیز اور پابندی قبول کرنے تیار نہیں اور تیز ی سے اپنے انجام کی طرف بڑھانا چاہتے ہیں
 
انسان کی کچھ فطرت یہی ہوگئی ہے کہ اعصاب کمزور ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ بس نتیجہ دو- نتیجے کا انتظار کرنا سوہاِّ روح ہے اور یہاں صورتحا ل یہ ہے کہ لوگ حیا نہیں بے باکی پسند کرتے ہیں اس لیے دعوے اور بڑی بڑی باتیں جلد اپنی جگہ بناتے ہیں ، حقائق نہیں
 
راقم کی تعلیم متعلقہ مضمون میں ہے اور بیرونِ ملک جو تھوڑا بہت اس بارے میں پڑھا ہے یا عملی تجربہ ہوا ہے اس بنیاد پر یہ تحریر آپ کے سپرد ہے- میری یہ التجا ہے کہ کورونا وائرس ہرگز فرضی نہیں بہت خطرناک ہے اس لیے تادمِ تحریر لا علاج ہے 
 
سخت احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور گھر سے باہر ہر فرد اور گھر میں نزلہ زکام کھانسی کی علامات رکھنے والے افراد کے سامنے محض فاصلہ ہی نہیں ناک اور منہ ڈھکنا بھی ضروری ہے- اس سلسلے میں کوئی غفلت نہ کریں ہاتھ صاف رکھیں یا دستانے پہنے – ایک جانب کورونا ہے اور دوسری جانب لاپرواہی- کس کو روئیں کس کو نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی
پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین