آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

کورونا اور حکومتی امداد کا گورکھ دھندا – فاروق درویش

پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ عوام کو لاپرواہی کی ترغیب دینے والی سازشی تھیوریاں بھی ہیں

- Advertisement -
گمراہ کن سازشی تھیوریوں کی یلغار میں دو ہزار کے قریب اموات اور ایک لاکھ سے زائد کورونا کیسوں کے ساتھ  پاکستان دنیا کا بیسواں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ یہاں کورونا متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن چاٹ اور سموسوں کے ٹھیلوں یا میک اپ کی دوکانوں پر رش میں کمی ابھی بھی نہیں ہے۔ ہاں یہ الگ موضوعات ِ بحث ہیں کہ کورونا وائرس کی عالمگیری وبا عالمی مافیوں کی سازش ہے ، یہ کوئی بائیالوجیکل ہتھیار ہے یا پھر قدرتی پیدا ہونے والا کوئی جرثومہ ہے۔ لیکن اس کے مہلک وجود اور ہلاکت خیزی سے انکار میری نظر میں صرف کم علمی اور ضدی جہالت ہے۔ ابھی خبر ملی ہے کہ آج تحریک انصاف کی ایک رکن صوبائی اسمبلی محترمہ شاہین رضا صاحبہ کورونا کے شدید حملے میں زندگی ہار گئی ہیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
افسوس کہ حالات سے بے نیاز یا سازشی تھیوریوں کے ماسٹرز کی خطرناک افسانہ نگاری کو حقیقت سمجھنے والے کئی معصوم اور بھولے بھالے لوگ اسے ابھی تک محض ایک فرضی داستاں اور افسانہ ہی سمجھتے رہے۔
  کورونا سے متاثرہ پاکستان کی حکومت سنبھالنے سے قبل جن سیاسی انقلابیوں کا دعوٰی یہ تھا کہ ان کی حکومت اس قدر فلاحی اور خوش حالی ہو گی کہ برطانیہ اور یورپ کے لوگ بھی ملازمتوں کیلئے پاکستان آئیں گے۔ ان کے حکومتی دور میں سرکاری خزانے کی لوٹ مار اور ہر شعبہء وزارت میں کھلی کرپشن نے پاکستانی معیشت ، بیروزگاری اور عام آدمی کی زندگی کو جس ابتری کی حالت پر پہنچا دیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، ان دو سالوں میں معیشت سے زراعت اور عوامی فلاح سے روزگار تک ہر شعبہء زندگی میں جو مسلسل ابتری کی صورت حال ہے اس پر اب اس حکومتی گروہ کو ووٹ اور سپورٹ دینے والے بھی ماتم کناں ہیں۔
یہاں کورونا وبا سے پہلے دو سالہ حکومتی دور میں بھی عام لوگ فاقہ زدہ تھے۔ اور آج اس وبائی عذاب کے بعد بھی ان دہاڑی دار مفلسوں کے آنسو ان کی محروم زندگیوں کی غمناک کہانیاں سنا رہے ہیں۔ اس بین الاقوامی وبائی بحران میں جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔ وہاں پاکستاان جیسے ترقی پذیر مملک کی معیشت کا متاثر ہونا عین لازم امر تھا۔ لہذا معیشت کا پہیہ مکمل جام ہوتے دیکھ کر اس بڑھک مار حکومت نے اب اگر شاپنگ مالز، بزنس، ٹرینوں، گھریلو پروازوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کھول کر لاک ڈاؤن میں جو نرمی کی ہے، اس کے علاوہ حکومت کے پاس اور کوئی چارہ تھا ہی نہیں۔
 
خطرے کی مسلسل بجنے والی گھنٹی کی آواز بلند تر ہو رہی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، دیگر عالمی اداروں، اسلامی ممالک کے آزاد تحقیقی فورموں اور امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی ، سب کے ہی اعداد و شمار کے مطابق 188 متاثرہ ممالک میں  پاکستان بیسویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ اسی ہفتے میں ایک لاکھ کیسوں کے ساتھ بھارت بھی دنیا میں گیارویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔  میرے مطابق بھارت اور پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کی رفتار میں اضافہ کی بڑی وجہ ان دونوں ممالک میں عام لوگوں کی لاپرواہی ، شعور و آگہی کی کمی اور ضدی مزاج جہالت کے ساتھ ساتھ خود ساختہ سازشی تھیوریاں بنا کر عوام کو گمراہ کرنے والے نام نہاد دانش وروں کی بہتات بھی ہے۔
 
 سنتے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ضرورت مند خاندانوں اور ملازمت سے محروم افراد کی مدد کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ مگر اس بارے حقائق اور دکھائی دینے والی صورت حال ان فنڈز کی تقسیم میں سیاست دانوں کی ظالمانہ کرپشن ہی کرپشن ہی نظر آتی  ہے۔ ان امدادی فنڈز سے مستحق لوگوں کو فائدہ صرف 10 فیصد ہی ہوا ہے۔  جبکہ 90 فیصد امدادی فنڈز حکومت میں موجود وہ پیشہ ور کرپشن مافیے ہڑپ کر چکے یا کر رہے ہیں جو ہر حکومت کے دہاڑی دار درباری ہوتے ہیں۔ کرپشن سے پاک نیا پاکستان بنانے اور روزگار میں بہتری کی بڑھکوں کے شور میں وجود میں آنے والی موجودہ حکومت کے اس دور میں مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح پہلے سے بدتر ہو چکی تھی۔ پاکستانی معشیت کی اس خستہ حالی کو کورونا کے اس عذاب نے جو شدید ضرب لگائی ہے، اس سے نکلنا موجودہ نا اہل حکومت کے بس کا روگ نہیں لگتا ۔
اس حکومت کے وجود میں آنے کے بعد بے روزگاری کی شرح میں جو مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس میں کورونا وائرس کے بعد صرف دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے باعث دو کروڑ سے زائد بے روزگاروں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اور ابھی خدشہ ہے کہ یہ اضافہ تین کروڑ بے روزگاروں تک پہنچ جائے گا۔
ملازمتوں سے محروم ہونے والوں، روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدوروں اور غریب خاندانوں کی مدد کیلئے عمران خان نے گذشتہ ماہ آٹھ ارب امریکی ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ دعووں اور کاغذوں میں یہ رقم فاقہ کشوں کی مالی امداد، چھوٹے کاروباروں کی مدد اور ٹیکس میں چھوٹ کیلئے بھی استعمال کی جانی تھی۔ لیکن اس سارے امدادی پروگرام میں سوائے میڈیائی تشہیری پروگراموں کے کہیں عملی طور پر کچھ خاص نظر نہیں آیا ہے۔ لہذا آج معاشی ابتری اور افلاس کا شکار بھوکے لوگ کورونا کے اس
جان لیوا ماحول میں بھی صرف دو وقت کی روٹی کیلئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کاموں پر جانے کیلئے تیار ہیں۔۔
 
اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم نے 2 مئی کو بے روزگاروں کے لئے امدادی اسکیم شروع کی ہے۔ جس میں اب تک 35 لاکھ سے زیادہ بے روزگاروں نے نقد امداد کے لئے درخواستیں دی ہیں۔ حکومت کی طرف سے ملازمت سے محروم افراد کیلئے 12 ہزار فی خاندان کے احسان ایمرجنسی کیش کی فراہمی کا باضابطہ آغاز کیا گیا ہے۔ آج کل سرکاری پریس اور کرایہ کے میڈیا پر اس حکومتی مدد کے تشہیری پروگرام اور حکومت کی قصیدہ گوئی جاری ہے۔ لیکن اس حوالے سے اس رقم کا لوگوں میں تقسیم کرنے کی فوٹوگرافی یا ویڈیو بنا کر اخباری اور میڈیا میں تشہیر کرنے سے زیادہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ رقم حکومت میں موجود پیشہ ور کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں خرد برد نہ ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ مستحقین تک پہنچے ۔۔
 
عوامی فلاح اور خوش حالی کے ناقابل یقین بلند بانگ دعووں، ائی ایم ایف سے ازلی چھٹکاروں کی بڑھک بازی کے ساتھ مسند حکومت سنبھالنے کے بعد ہر شعبہ میں نااہل اور ناکام ثابت ہونے والی حکومت نے قوم کو کاسہ و کشکول کا اسیر بنا دیا ہے۔ نیے پاکستان کے کاغذی انقلابی وزیراعظم نے مخیر حضرات اور تاجر برادری سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ بے روزگار اور غریب عوام کی مدد کے لئے وزیر اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ میں فراخدلی سے عطیات کریں۔
وزیر اعظم نے نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ بےروزگاروں کیلئے احسان ایمرجنسی کیش میں لوگوں کی طرف سے عطیہ کردہ ہر ایک روپیہ کے ساتھ چار روپے حکومت دیتی ہے۔ مگر اس وقت عوام کو بچانے کیلئے فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مخیر اور تاجر حضرات کی طرف سے ایک روپیہ آنے کے انتظار سے پہلے خود اپنے حصے کے چار روپوں کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کی فوری شروعات کرے۔
قصہ مختصر
ریاستی ادارے اور معزز عدلیہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ وزیر اعظم صاحب کا ہر امدادی پروگرام ماضی میں زلزلہ زدگان یا سیلاب زدگان کیلئے ملنے والے امدادی فنڈز میں خرد برد کا گورکھ دھندا کرنے والے ان سدا بہار کرپشن مافیوں سے محفوظ رہے گا جو آج اس حکومت میں بھی سرکاری نشتوں پر بیٹھے ہیں۔۔۔
 
فاروق درویش
 

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین