آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

جاکو راکھے سائیاں’ مار سکے نہ کوئی – ملک جہانگیر اقبال

اکیلا خوف ہی دنیا میں اب تک آنے والی تمام خطرناک وباؤں سے ہزار گنا خطرناک تر جان لیوا " وباء" ہے

- Advertisement -

حفیظ الدین صاحب ڈاکٹر کے پاس رپورٹس لیکر کلینک گئے ، رپورٹ دیکھ کر ڈاکٹر نے حیرت سے حفیظ الدین صاحب کو دیکھا اور کہا ” ارے آپکے دل کے تو وال ہی بند ہیں، مجھے حیرت ہے آپ یہاں تک چل کر کیسے آئے؟ “۔ ڈاکٹر نے فوراً اُنہیں باہر بیڈ پہ لیٹنے کا کہا ۔۔ اس دوران حفیظ الدین صاحبِ نے سہمی ہوئی آواز میں گھر فون کر کے اپنی حالت بابت بتایا ، گھر والے پہنچے اور تھوڑی ہی دیر میں حفیظ الدین صاحب خالق حقیقی سے جا ملے۔ گھر والے پریشان تھے کہ ابھی کچھ دیر قبل ہی تو بالکل ہشاش بشاش تھے یہ اچانک کیسے ہوگیا؟

یہ واقعہ ہے رمضان المبارک کا ۔ حفیظ الدین صاحب کراچی کے علاقے تین ہٹی میں قائم رہبر اسلام فاؤنڈیشن کے ملازم تھے ۔

آپکو کیا لگتا ہے کہ حفیظ صاحب کی موت کیوجہ کیا بنی؟
دِل کی بیماری؟

نہیں !

حفیظ صاحب کی موت “خوف” کے باعث ہوئی ۔

اپنے ایک قریبی دوست ہی کی مثال دیتا ہوں جو کورونا کے باعث اس قدر خوف میں مبتلاء ہو چکا کہ چھالیہ کھانے سے قبل اُسکی پنی(ریپر) کو بھی سینیٹایزر سے صاف کرتا ہے ۔ حالانکہ میں نے اُسے کہا بھی کہ تو دنیا کا پہلا انسان ہوگا جو خود کو کورونا کے وائرس سے اسلئے بچا رہا تاکہ منہ کا کینسر بحفاظت مقام مقصود تک پہنچ سکے ۔

مجھے لگتا ہے کہ انسان کو بیماری شاید محض بیس فیصد ہی مارتی ہے ، باقی بیس فیصد اُسکے مرنے میں بد احتیاطی کا عمل دخل ہوتا ہوگا جبکہ یقیناً ساٹھ فیصد اس میں خوف کا ہاتھ ہوتا ہے جو پہلے آپکی ہمت مارتا ہے اور پھر قوت مدافعت . آخر میں ملک الموت کو محض روح نکالنے والی فرمیلیٹی پوری کرنا پڑتی ہے اور یوں آپکا موت کا عمل مکمل ہوجاتا ہے ۔

عید کے بعد سے ہی کورونا نامی وباء پاکستان میں مزید تیزی سے پھیلنے لگی ہے ، کچھ یار دوست اب بھی محض اسے سازش ہی سمجھتے ہیں جو ان کا جمہوری حق ہے اور یقیناً جب تک اُنہیں یہ ہو نہ جائے تب تک یہ سازش ہی لگے گا لہٰذا اگر “واقعی” یہ بیماری وجود رکھتی ہے تو دعا ہے کہ انہیں ہوجائے تاکہ یہ قوم کو آگاہ کرسکیں اور اپنے گھر والوں پہ رحم کھا سکیں ۔

ہاں تو بات ہورہی تھی خوف کی ۔

میں کچھ اعداد و شمار بتاتا ہوں جو کل جمع کیے ہیں۔

کل مورخہ 30 مئی تک پاکستان میں کورونا کی تشخیص کے 500,000 ٹیسٹ کیے جا چکے تھے (جو کہ ہماری کُل آبادی کا 0.25 فیصد ہے) جن میں کورونا پازٹیو مریضوں کی تعداد 66000 تھی ۔

یعنی ٹیسٹ پوزیٹو ہونے کی شرح 13.2 فیصد ۔ اگر یہ تصور کریں کہ پوری پاکستانی آبادی کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے تو اس شرح کے حساب سے دو کروڑ افراد کورونا پوزیٹو ہونگے ، بچے اور وہ لوگ نکال لیں جنہیں اس بیماری پہ یقین ہی نہیں تو پھر بھی کم و بیش ایک کروڑ لوگ اس مرض سے متاثر ہونگے ۔

یعنی اس وقت بھی ممکن ہے کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق پچاس لاکھ لوگ تو متاثر ہونگے ہی ، اور لگ بھگ اتنے ہی کورونا کا شکار ہوکر ٹھیک بھی ہو چکے ہونگے لیکن اُنہیں معلوم ہی نہیں ۔

اسکی سادہ مثال میں اپنے محلے سے دونگا جہاں ابو کے دوست امیر بنگش انکل جو اٹامک انرجی میں ملازمت کرتے ہیں اُن کا ادارے میں ہی دیگر ملازمین کے ساتھ کورونا کا ٹیسٹ کیا گیا جہاں اُنہیں معلوم ہوا کہ وہ کورونا پوزیٹو ہیں۔ عید سے قبل جب میری اُن سے فون پہ بات ہوئی تو جناب کورونا اور چین کی شان میں قوالیاں گاتے ہوئے بتا رہے تھے کہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں نہ کوئی درد نہ کوئی بخار ہے ۔ دو ہفتے قرنطینہ میں گزرنے کے بعد گزشتہ روز دوبارہ اُن کا ٹیسٹ ہوا ہے ، اُمید ہے کل تک وہ گھر واپس آجائیں گے ۔ اِن شاء اللہ

امیر بنگش انکل کیطرح لاکھوں کروڑوں پاکستانی ہونگے جو بنا کسی علامت و تکلیف کے یہ وبائی مرض خود پر سے بھگتا بھی چکے ہونگے اور اُنہیں پتا بھی نہیں ہوگا ۔

ورنہ جہاں تک بات لاک ڈاؤن اور میل ملاپ سے احتیاط کی ہے تو یہ ہم سب کو ہی پتہ ہے کہ لاک ڈاؤن محض اس حد تک ہی ہے کہ باہر دکانیں و کاروبار بند ہے باقی گلی محلوں اور آپسی رشتے داریوں میں احتیاط اور لاک ڈاؤن کا اتنا ہی احترام رکھ رہے ہیں جتنا بریانی میں الائچی کا رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی آپکو اُس لیول کا خطرہ نہیں دکھائی دے رہا ہے جو اٹلی ، امریکہ یا سپین و برازیل میں دکھائی دے رہا ہے ۔ حالانکہ ہماری حد درجے بد احتیاطی کیوجہ سے اب تک ہم باقی دنیا کے کل مریضوں کی تعداد سے بھی آگے جا چکے ہوتے ۔

پر ایسا کیوں نہیں ہوا؟

اس کا آسان جواب تو یہی ہے کہ ہم میں سے اکثریت کا مدافعتی نظام بہت طاقتور ہے لیکن ..

لیکن ہمیں پھر بھی احتیاط برتنی ہے کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ کون سے کچھ لوگ ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے ۔ جن میں بزرگ اور پہلے سے دیگر بیماریوں کے شکار افراد بھی شامل ہیں ۔

آپ یہ بات دماغ میں بٹھا لیں کہ خوف اس مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی مکمل لاک ڈاؤن اس مسئلے کا حل ہے۔ کراچی میں ہماری رہائش ایک مڈل/ لوئر مڈل علاقے میں ہے جہاں لوگ فیکٹریوں میں روز کی دیہاڑی پہ کام کرتے ہیں یا پھر سبزی فروٹ کا ٹھیلہ یا کھلونوں کا سٹال لگا کر دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتے ہیں ۔ اب یہاں لوگوں کی معاشی حالت جواب دینے لگی ہے ۔ اگر ایک ڈیڑھ ہفتے تک لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کی گئی تو آپ عوام کو بپھرنے سے نہیں روک سکیں گے۔ ڈاکٹرز حضرات کا خوف بجا ہے کہ وہ اس جنگ میں فرنٹ لائن کے سپاہی ہیں پر ڈاکٹر حضرات بھی ہسپتال میں بیٹھ کر محض اپنے نقطہ نظر سے حالات دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ یہاں ان علاقوں میں آ کر لوگوں کے حالات دیکھیں تو انہیں اندازہ ہو کہ عوام جاھل نہیں بھوکی ہے ۔

عوام اور ڈاکٹر اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ اب ہمیں اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنا ہوگا۔ محض کاروبار کی بندش اب بھوک سے منسلک کورونا سے ہزار گنا زائد خطرناک مسائل کو بڑھانے کا باعث ہی بنے گی۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں احتیاط برتیں تو بھائی میل جول اور صاف صفائی کا خیال رکھیں ، حکماء کہتے ہیں کہ اپنی خوراک میں ادرک لہسن اور ہلدی کا استعمال بڑھائیں تو بھئی یہ بھی ضرور کرلیں۔

اسکے علاوہ آپ کچھ نہیں کرسکتے ۔ باقی جہاں تک بات رہی خوف کی تو یقین جانیں اکیلا خوف ہی دنیا میں اب تک آنے والی تمام خطرناک وباؤں سے ہزار گنا خطرناک ” وباء” ہے۔ نہ اسے خود پہ حاوی ہونے دیں اور نہ اسے آگے پھیلائیں ۔ اور اگر آپ خوف کے باعث ہمت ہارنے لگے ہیں تو آنکھیں موندیے اور زیر لب کہیے

” جاکو رکھے سائیاں ، مار سکے نہ کوئی “

ملک جہانگیر اقبال

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین