آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

خوف اور وسوسوں کے دائرے ۔ اوصاف شیخ

پاکستان میں اس وائرس کی آمد شروع میں بہت کم رفتار سے رہی لیکن آہستہ آہستہ یہاں بھی صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے

- Advertisement -
دنیا بھر میں کورونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں ۔ چین کے شہر ووہان سےشروع ہونے والے مشکوک وائرس نےچند ہفتوں میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب سے زیادہ متاثر سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک ہوئے جن کی دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ سائنس پر بھی گرفت نظر آتی ہے لیکن ایک نہ نظر آنے والے وائرس  کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں ۔
 
پاکستان میں اس وائرس کی آمد شروع میں بہت کم رفتار سے رہی لیکن آہستہ آہستہ یہاں بھی صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے گو دنیا کے مقابلہ میں اس کا تناسب پاکستان میں اب بھی بہت کم ہے ۔ پاکستان بائیس کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جبکہ کرونا کے مریضوں اور جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے یہ اس وقت دنیا میں 17 ویں نمبر پر ہے کورونا نے دنیا میں سب سے زیادہ تباہی دنیا کے سب سے مضبوط ملک سب بڑی معیشت سب سے بڑی جنگی طاقت اور سائنس پر سب سے مضبوط گرفت کے حامل ملک امریکہ میں مچائی ہے.
 
جہاں اس وقت تک کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ بارہ ہزار سے زائد ہوچکی ہے اس کے بعد برازیل ۔ روس ۔ برطانیہ۔ اسپین ۔ بھارت ۔ اٹلی اور دیگر ممالک کا نمبر ہے چین کے بعد کورونا نے اٹلی پر بڑا حملہ کیا اور تباہی مچائی لیکن اب امریکہ ۔ برازیل ۔ روس ۔ برطانیہ اسپین وغیرہ کا نمبر اس سے اوپر ہے.
 
یہ بات تو تقریبا” طے ہو چکی ہے کہ کورونا ایک قدرتی آفت نہیں جیسا کہ زلزلہ اور سیلاب اور حد سے زیادہ بارشیں یا خشک سالی سے قحط ٬ ہے یہ بھی ایک آفت لیکن انسان کے اپنے ہاتھوں بنائی ہوئی ہے ۔ اس بات پر دنیا تقریبا” متفق ہے کہ کورونا ایک انجنیئرڈ وایرس ہے یعنی ایک کم خطرناک وائرس کو انجنیئرنگ سےتباہ کن بنایا گیا ہے اور یہ بات کہ ایسا بنایا کس نے تو پے در پے مختلف بیانات ۔ تجزیوں اور الزامات سے ابہام پیدا کر کے اسے گول کر دیا گیا ۔ کورونا کے ابتداء میں امریکی ودر ٹرمپ نے کورونا کی بجائے اسے چائنہ وائرس کا نام دے کر براہ راست چین ہر الزام عائد کیا تھا اور اب تک امریکی موقف یہی ہے
 
کورونا نیا نام نہیں ہے کئی سال قبل اٹلی قصبہ کورون یا کورونے میں پہلی مرتبہ اس کے اثرات نظر آئے اسی مناسبت سے اس کا نام کورونا رکھ دیا گیا ۔ چند سال قبل ایک انگریزی فلم بنائی گئی جس میں ایک یورپی خاتون اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے ہانگ کانگ جاتی ہے اور وہاں وہ اور اڈ کا بوائے فرینڈ شاید سوءر کے گوشت کھاتے ہیں خاتون واپس یورپ آتی ہے تو اس خطرناک بیماری کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں نس سے اس کی فیملی بھی متاثر ہوتی ہے اس بیماری کا نام کورونا ہی رکھا گیا فلم میں ۔ یعنی کورونا نام نیا نہیں اسے زیادہ ہلاکت خیز بنا دیا گیا ممکن ہے ابتدائی طور پر یہ وائرس چمگاڈر یا کسی پرندے یا کڈی جانور سے ہی آیا ہو لیکن اسے مزید ہلاکت خیز انسان نے ہی بنایا اب کورونا کے ساتھ اس کا کوڈ نام کووڈ 19 رکھا گیا ہے
 
دنیا میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس اس سازش میں ملوث ہیں اور بالآخر ایک ویکسین دیں گے جس کے ذریعے ایک نینو چپ ہر شخص کے اندر داخل کی جائے گی آخر کیوں ؟ کیا ہر شخص کو دنیا کے سات ارب انسانوں کو کنٹرول کرنے کے لئے ؟ کیا یہ دجال کی آمد کی تیاریاں ہیں ؟ لیکن مسلمان کی حیثیت سے دجال کی آمد کی نشانیوں کے حوالے سے ابھی یہ ایک افسانہ لگتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اس وائرس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو کونا چاہیئے تھا اور اگر ایسا ہی کارگر ہے تو پھر دجال نے آ کر کیا کرنا ہے اسی سے سب کنٹرول کیا جائے ۔۔۔۔
 
اور مجھ۔ میں ۔ تھر کے لوگوں میں ۔ غرباء میں ۔ افریقہ کے ننگے بھوکے بے ضرر انسانوں میں چپ داخل کر کے حاصل کیا کرنا ہے ۔ دنیا کی زیادہ آبادی تو غریب ۔ مجبور انسانوں پر مشتمل ہے لیکن ایک بات بل گیٹس کے حوالے سے ضرور کھٹکتی ہے اور وہ ہے کورونا سے دو ڈھائی مسہ قبل بل گیٹس کا ایک وباء یا وائرس سے دنیا میں تباہی کا ۔۔۔۔ کیا امریکہ۔برطانیہ جیسے ممالک بھی بل گیٹس کے سامنے بے بس ہیں جہاں سب سے زیادہ تباہی ۔ ہلاکتیں اور معاشی نقصان ہو رہا ہے
 
یہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ ایک حیاتیاتی ہتھیار بنایا گیا ہو لیکن سوال یہ ہے کہ جس مقصد کے لیئے جس نے یہ ہتھیار بنایا اس پر عمل شروع کر دیا گیا ہے ؟ اگر یہ چین ہی کی ایجاد ہے جیسا کہ امریکی صدر نے الزام عائد کیا تھا تو کیا چین نے اسے پوری دنیا میں استعمال کرنا تھا اور سب سے پہلے اپنا نقصان کرنا تھا ؟ امریکہ اور چین کے سائنسی اداروں میں دونوں طرف سے جاسوس پکڑنے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں ۔۔۔
 
اگر یہ امریکہ سے شروع ہوا اور چین کے خلاف استعمال ہوا تو پھر یقینا” چین نے اسے مزید ہلاکت خیز بنا کر دنیا میں تباہی مچا دی بالخصوص امریکہ اور یورپ میں ۔ لیکن اس تباہی کے اثرات چین کی حلیف بڑی طاقت روس میں بھی بہت زیادہ ہیں ۔ ابتداء میں اس سے چین کو فائدے کی خبریں گردش کرنے لگیں ۔ کیونکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی جنگی ظاقت اور بڑی معیشت امریکہ ہے اور چین نے ابھی اس کے مقابلہ میں جنگی اور معاشی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے معیشت مضبوط کرنے اور معیشت ہر قبضہ کر کے دوسری بڑی طاقتوں کو زیر دام لانا ہو ۔ چین میں دنیا کے سرمایہ کار اپنے کاروبار اونے پونے بیچ کر اور چھوڑ کر بھاگے ۔ یہ نظریہ یا یہ الزام ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔۔
 
لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کسی بڑی طاقت کا بنایا ہوا حیاتیاتی ہتھیار خود اس کے قابو میں نہ رہا ہو ۔ وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے اور اس بے قابو ہتھیار نے ہوری دنیا کو قابو کر کر لیا شروع دن سے کورونا کی ویکسین بنانے کے دعوے ہوتے رہے، کبھی تین دن ۔ کبھی چند ہفتے اور کبھی مہینے کا کہا گیا پھر کہا جانے لگا ویکسین تیار ہو چکی اس کے تجربات جاری ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اکتوبر تک ویکسین تیار کر لے گا ۔۔۔ اب چند دنوں سے دنیا بھر کے میڈیا کے ذریعے یہ بات سنائی جا رہی ہے کہ لمبا عرصہ کورونا کے ساتھ رہنا ہوگا اور شاید ساری زندگی اور یہ بھی کہ دنیا کا ہر انسان اس سے متاثر ضرور یوگا اس کا مطلب دنیا کی سات ارب آبادی ؟ ۔۔۔۔
 
کہتے ہیں کسی کو کم کسی کو زیادہ لیکن ہوگا ضرور ۔۔۔ اگر ایسا ہی ہوا اللہ نہ کرے تو موجودہ تناسب اور اس میں مسلسل اضافہ کے تناسب سے دنیا میں اموات کی تعاد کا سوچ کر لگتا ہے دنیا اپنے آخری دنوں پر آگئی ۔۔۔۔ ؟
 
سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ مان لیا یہ حیاتیاتی ہتھیار ہے انسان کی اہنی تخلیق ہے تو جس نے یہ بنایا کجا اس نے ساتھ ہی اس کا توڑ نہیں بنایا ہوگا ؟ کوئی دوا ۔ کوئی ویکسین ۔۔۔۔یہ بات نا قابل قبول ہے کہ بنانے والوں نے اس کا علاج یا توڑ نہ بنایا ہو ۔ یہ ہتھیار پوری دنیا کو مارنے کے لیئے تو بنایا نہیں گیا یہ تو بڑی طاقت بننے کا کھیل ہے اور بڑی طاقت بننے کے لیئے دنیا کا ہونا بھی ضروری ہے اور اپنی تباہی کے لیئے بھی نہیں بنایا گیا ہوگا تو پھر اس کا علاج ۔۔۔ توڑ ۔۔۔ دوا ۔۔۔ ویکسین ابھی تک سامنے کیوں نہیں آئی ؟
. . . . .
تحریر : اوصاف شیخ

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین