آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

چين بهارت تنازعہ، المیہء كشمير اور ہم ۔ نبیل شوکت وڑائچ

چین نے خود كو سپر پاور ثابت كرتے ہوئے بهارت كے ساتھ لداخ میں جو ہاتھ كيا ہے وہ بهارت نے کبھی خواب ميں بهى نہ سوچا ہو گا

- Advertisement -
چين نے خود كو دنيا كى ايک سپر پاور ثابت كرتے ہوئے، لداخ ميں بهارت كے ساتھ وه ہاتھ كيا جسكا كبهى بهارت نے خواب ميں بهى نہ سوچا تها.. ہندى محاورے كے عين مطابق، بهارت كو حقيقى معنوں ميں تگنى كا ناچ نچايا گيا- بهارت اور اسكى افواج كى دنيا بهر ميں وه سبكى ہوئى، كہ مودى اپنے عوام كو اور كہيں بهى منہ دكهانے لائق نہيں رہا
 
چين ابهى تک ، اپنى سرحد سے آگے كے آٹھ كلوميٹر “متنازعہ علاقے” ميں موجود ہے جسے بهارت اپنا حصہ كہتا رہا اور چند روز قبل جو اسكے قبضے ميں تها، چين سے تنازعے كے پرامن حل كيلئے كيے گئے مزاكرات بهى تقريبا ناكام ہوچكے، امريكہ كسى مدد كو نہ آيا ( اب امريكى وزير خارجہ محض سفارتى كوششوں كيلئے چين كا دوره كر رہا ہے )، مار كهانے كے بعد فوج كا مورال نيچے آچكا، ميڈيا سوال پوچھ پوچھ كر، الگ لتاڑ رہاہے…ليكن چين كے آگے بهارت كى كوئى تدبير كارگر نہيں ہورہى!
 
…اور تو اور، نيپال جيسا ملک بهى بهارت كو آنكهيں دكها رہا ہے، يقينا اسكے پيچهے بهى چين كارفرما ہے..مگر يہ بهارت كيلئے ايک الگ درد سر بنا ہوا ہے ! حال ہى ميں ايک سرحدى جهڑپ ميں نيپالى فوج نے گولى چلا كر بهارت كے 5 فوجى شديد زخمى كر ديے، جى! آپ نے صحيح سنا، نيپال نے بهارتى سينا پر حملہ كيا…اور چند ہى دنوں ميں پارليمنٹ ميں ووٹنگ كے ذريعے وه بل پاس كر ليا ہے، جس ميں آٹھ متنازعہ علاقے نيپال كا حصہ قرار ديے گئے ہيں~ نيز بهارت كيلئے اس حوالے سے ايک درد سر اور بهى ہے اور وه ہے بهارتى فوج كى بہادر و قابل فخر “گوركها رجمنٹ” جو نيپال كے گوركهوں پر مشتمل ہے.
اگر نيپال- بهارت تعلقات زياده خراب ہوتے ہيں تو اسكا اثر اس رجمنٹ كے پنجتاليس ہزار فوجيوں پر بهى پڑے گا كيونكہ تاريخى و جغرافيائى لحاظ سے گوركهے خود كو نيپالى خيال كرتے ہيں يعنى ان ميں بغاوت ہو سكتى ہے
 
ان حالات ميں بهارت كا مودى تقريبا حواس باختہ ہوچكا ہے، كبهى ٹرمپ كو فون ، كبهى اسرائيل سے سٹريٹيجک دفاعى معاهدے كى بات ، كبهى روس كو راضى كركے اپنا ہمنوا بنانے كى خواہش، كبهى ايل او سى پر كاروائيوں، كشمير ميں قتل عام اور بلوچستان و افغانستان كے حالات خراب كر كے پاكستان پر دباؤ ڈالنے كى كوشش…ليكن عالمى تنہائى و رسوائى ہے كہ بڑهتى جارہى ہے
 
چند روز قبل ہمارى ايجنسيوں نے بهارت كا ايک مذموم منصوبہ ٹريس كيا جس ميں وه آزاد كشمير پر حملہ كرنے كا پلان بنا رہا تها، الحمد لله اس مكروه پلان كو بروقت ناكام بنا ديا گيا!! ليكن اس نے اس ناكامى در ناكامى پر، اپنى خفت مٹانے كا يہ انداز اختيار كيا كہ كشمير ميں نوجوانوں كو پكڑ پكڑ كر فرضى مقابلوں كے ذريعے مارنا شروع كر ديا، كبهى ان پر دراندازى كا الزام لگا كر اور كبهى جہادى عسكريت پسند ہونے كا الزام لگا كر…ليكن ان ميں زياده تر دراصل اپنے ہى گهروں سے چهاپوں كے دوران اٹهائے گئے عام نوجوان تهے.. پهر بهارت كا كشمير ميں ايک اور داخلى منصوبہ بهى ناكام ہوا اور وه تها جعلى دهماكے كے ذريعے اپنے (نچلى ذات كے) فوجى مرا كر الزام پاكستان پر لگان
 
دراصل كشمير ميں آرٹيكل 370 كى واپسى سے ليكر ڈوميسائل لاء كے ذريعے ہندوؤں كو كشمير ميں بسانے اور مسلمانوں كى هند و كشمير ميں نسل كشى، ان سب چالوں كے پيچهے نسل پرست اسرائيل، بهارت كے ساتھ ساتھ پورا شريک ہے ( اور شايد در پرده نسل پرست ٹرمپ بهى)!!۔
 
مسلم دشمنى اور نسل پرستى كو فروغ دينے كے علاوه اسرائيل كا اصل هدف ، دنيا كو اپنے زير تسلط لاكر ، دجالى دور كى تيارى كرنا ہے، جس ميں مسجد اقصى كو گرانا اور ہيكل كى تعمير اسكے منصوبوں ميں شامل ہے جبكہ چين و روس دنيا پر اسرائيل و امريكا كى بجائے اپنى بالادستى چاہتے ہيں، يہ ہے اصل “گريٹ گيم” !! چين پاكستان راهدارى (سى پيک) اسى “گريٹ گيم” كا حصہ ہے اور جب سے پاكستان، سى پيک كے ذريعے اس گيم كا حصہ بنا ہے…اسكے اور چين كے مفادات يكساں ہوگئے ہيں ليكن بهارت، اپنى پاكستان و مسلم دشمنى كى بنا پر اسرائيل و امريكا كا بغل بچہ بن گيا ہے أور يوں ان تينوں كے مفادات بهى يكساں ہوگئے ہيں
يہ ممالک، چين كے علاوه ايٹمى مسلم پاكستان كو بهى اپنے لئے خطره سمجهتے ہيں… ان كا ايجنڈا كشمير و بهارت ميں مسلم نسل كشى اور پاكستان كو معاشى لحاظ سے مكمل مفلوج كرنا ہے…لداخ ميں چين نے جو كچھ كيا وه اسى كا ردعمل ہے يا چين و پاكستان كا مشتركہ پيغام…جوابا اسرائيل كهل كے بهارت كے ساتھ آکهڑا ہوا ہے…اصل ٹكراؤ چين اور اسرائيل (يا امريكا) كا ہونا ہے…كب ہوتا ہے يہ وقت بتائے گا !!۔۔
 
ہميں بحثيت مسلمان اور پاكستانى، جو بات سمجهنے كى ضرورت ہے وه يہ كہ نہ چين ہمارا (يعنى مسلمانوں كا) “ہمدرد” ہے اور نہ كوئى اور .. (چين نے جو كچھ اپنے ہاں ترک نسل كے يغور مسلمانوں كے ساتھ كيا وه كسى سے پوشيده نہيں) البتہ جب تک چينيوں كے اور ہمارے مفادات يكساں ہيں، وه پاكستان كا ساتھ ديتے رہيں گے… ليكن اگر هم يہ سوچيں كہ وه ہميں ہمارى شہہ رگ يعنى كشمير ليكر ديں گے تو يہ ہمارى بهول ہے، اسكے لئے ہميں خود ہى تگ و دو کرنا پڑے گى!۔
 
ياد ركهيں كہ كشمير، ہميں طاقت آزمائے بغير كے نہيں ملے گا…يہ ہم پر منحصر ہے كہ هم كوئى “قدم” كب اٹهاتے ہيں اور اٹهاتے بهى ہيں يا صرف زبانى جمع خرچ ہى كرتے ہيں… تاريخ ميں سب رقم ہو رہا ہے…بيشک مسلمانوں كيلئے اللہ كى “نصرت” كے وعدے اور كافروں كى عارضى كاميابى، دونوں خوشخبرياں سر دهڑ كى بازى لگانے والوں كو ملتى ہيں… چين و تركى كى مثاليں ہمارے سامنے ہيں، ہاتھ پر ہاتھ دهر كے صرف بيانات دينے سے سوائے بهيک كے كچھ حاصل نہيں ہوتا!!۔
 
 نبيل شوكت وڑائچ
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین