خبر اور تجزیہ

چین لداخ کے علاوہ اروناچل پردیش سکم اور اتر اکھنڈ کے انڈین ایریا میں داخل

چینی فوج لداخ سیکٹرکے علاوہ اروناچل پردیش، سکم اور اتراکھنڈ سیکٹرز میں بھی بھارتی علاقوں میں 40 کلومیٹز اندر تک نقل و حمل کرتی رہی ہے۔

عالمی پریس اینڈ میڈیا اور چینی ذرائع گذشتہ دو ہفتوں سے یہ خبریں دے رہے ہیں کہ چینی فوج پینگونگ تسو جھیل کے بیشتر علاقے، ہلمٹ ٹاپ اور بلیک ٹاپ کی اہم پہاڑیوں چوٹیوں پر قابض ہو چکی ہے۔ جبکہ بھارتی فوج تمام کوششوں کے باوجود یہ قبضہ چھڑوانے اور یہاں چین کی نئی قلعہ بندیوں کی تعمیر روکنے میں ناکام رہی ہے۔
 

اس سلسلے میں غیر جانبدار انٹرنیشنل پریس اور چینی ذرائع کی طرف سے لداخ سیکٹر میں چینی فوجی دستوں کی طرف سے بھارتی کنٹرول کے علاقوں میں مذید آگے بڑھنے، آزادانہ جنگی نقل و حمل اور نئی فوجی چوکیوں کی تعمیرات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

 
کل 9 ستمبر بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انڈین انٹیلی جنس کے مطابق، چینی فوجوں نے گزشتہ دو ماہ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی کئی بار خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق چینی فوج کی طرف سے بھارتی علاقوں کے اندر داخل ہونے کے واقعات اب صرف لداخ سیکٹر تک ہی محدود نہیں ہیں۔ بلکہ چینی فوجی دستے اب اروناچل پردیش، سکم اور اتراکھنڈ میں بھی کئی مقامات پر بھارتی علاقوں میں میلوں تک اندر آئے ہیں۔
ہندوستان ٹائمز میں شائر ہونے والی خبر کا ویب لنک ذیل میں ملاحظہ فرمائیں

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں بھارتی صحافی ہریندر باویجہ کے مطابق چینی فوج ان علاقوں میں کئی مقامات پر بھارتی سرحدوں کے 40 کلومیٹرز تک اندر داخل ہوئی ۔ تاہم اخبار کے مطابق بھارتی علاقوں میں داخل ہونے والے چینی دستے ان بھارتی علاقوں سے واپس چلے جاتے رہے ہیں۔

 
عالمی مبصرین ہندوستان ٹائمز کی اس خبر پر بھارتی فوجوں کی دفاعی نا اہلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ دفاعی مبصرین کے مطابق چینی فوجوں کا بھارتی کنٹرول والے علاقوں میں 40 کلومیٹز اندر تک داخل ہونا اور پھر سلامتی سے واپس چلے جانا دراصل بھارتی فوج کی جنگی صلاحیتوں اور نا اہلیت کا واضع ثبوت ہے۔
 
نریندر مودی سرکار دعویٰ کرتی ہے کہ بھارتی علاقوں کا ایک ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا۔ جبکہ بھارت کے اپنے اخبار کا یہ انکشاف بھارتی افواج کی کارکردگی پر کڑا سوالیہ نشان ہے کہ چینی فوج لداخ سیکٹرکے علاوہ اروناچل پردیش، سکم اور اتراکھنڈ سیکٹرز میں بھی بھارتی علاقوں میں 40 کلومیٹز اندر تک نقل و حمل کرتی رہی ہے۔
 
گذشتہ ہفتوں میں لداخ سیکٹر میں بھارت کی تھاکنگ پوسٹ پر تعینات بھارتی فوج کی کی طرف سے چینی فوج سے اپنے علاقوں کا قبضہ چھڑوانے اور نئی قلعہ بندیاں روکنے میں ناکامی بھی عالمی مبصرین کی کڑی تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔ یاد رہے کہ چینی آرمی نے پینگونگ تسو جھیل ایریا، ہلمیٹ ٹاپ اور بلیک ٹاپ کی جن اہم پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ دفاعی اہمیت کی حامل ان چوٹیوں سے پینگونگ جھیل کے پار بھارتی چشول گیریژن تک فوجی نقل و حمل کا مشاہدہ اور انڈین فوجی تنصیبات پر نظر رکھنا ممکن ہے۔
 
نریندر مودی سرکار اور بھارتی میڈیا ہمیشہ یہی بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ بھارت مشرقی اور مغربی محاذوں ، فضاؤں اور سمندروں میں کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اس کیلئے چینی اور پاکستانی سرحدوں کے قریب جنگی طیاروں کی تعیناتی اور بحیرہ جنوبی چین میں بحری طاقت نمایاں کی جا رہی ہے۔
 
جبکہ نام نہاد بالاکوٹ سرجیکل سٹرائیک میں ذلت آمیز ناکامی کے اگلے روز پاک فضائیہ کے دندان شکن جواب ، چین کے ہاتھوں لداخ میں ہزیمت ناک شکست سے لیکر ہندوستان ٹائمز کے ان تازہ ترین انکشافات تک تمام حقائق بھارتی سرکار کے جھوٹے دعووں اور
بھارتی افواج کے کاغذی شیروں کا سچا احوال بیان کر رہے ہیں۔

نیوز سورس : پاکستان ڈیفنس
ہندوستان ٹائمز

تازہ ترین کالم

احتجاج کا گورکھ دہندہ ! کیا جمہوری نظام میں پاکستان کی بقا ہے ؟

احتجاج ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ جمہوریت کی ناجائز اولاد...

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ...

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی مرحوم

وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق ایک اہم...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

چین نیوز

چین نے ہندوستان کیخلاف ڈیموں کے واٹر بم کی دھمکی دے دی

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین...

چین نے ہندوستان کیخلاف ہولناک مائیکرو ویو ہتھیار استعمال کیے

چین کی رینمن یونیورسٹی کے انٹرنشنل ریلیشن کے وائس...

ترکی نیوز

DEFENCE TIMES

Military Jobs and Defence News

GULF ASIA NEWS

News and facts from Gulf and Asia