آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

وفاقى بجٹ، معاشى چيلنجز اور ہمارى ترجيحات – نبیل شوکت وڑائچ

ریاست مدینہ کے داعی سودی نظام کے سہارے تلاش کر رہے ہیں۔ سود میں اضافہ اور سود پر لئے گئے بهارى قرضوں كى وصولى جارى رہى تو امير و غريب ميں فرق بڑهے گا، امير زياده امير، غربب زياده غريب ہوں گے

- Advertisement -
سال 2020-21 كا وفاقى ميزانيہ، فنانس بل 2020ء كى صورت ميں، 15 جون كو قومى اسمبلى ميں پيش كر ديا گيا ہے، اسمبلى اور پهر سينيٹ سے اسے پاس كرانے ميں ابهى كافى مراحل باقى ہيں…اگرچہ ايک اهم اتحادى جماعت كے عليحده ہونے سے، بظاہر حكومت كو دهچكا لگا ہے ليكن ان مشكلات كے باوجود توقع يہى ہے كہ حكومت اپنى عددى اكثريت كى بنياد پر يہ بل، دونوں ايوانوں سے منظور كروا لے گى
 
حسب معمول، حكومت اس بجٹ كو عوام دوست اور ٹيكس فرى قرار دے رہى ہے جبكہ اپوزيشن جماعتيں، اس كو آئی ایم ایف اور ديگر عالمى اداروں كے دباؤ ميں تياركرده، انهى كے مفادات كا محافظ، عوام دشمن بجٹ كہہ رہى ہيں…بادى النظر ميں حقيقت بهى يہى معلوم ہوتى ہے، آئيے معروضى حقائق اور شواهد كى روشنى ميں اس بجٹ كا غيرجانبدارانہ جائزه لينے كى كوشش كرتے ہيں~
 
اس سال حكومت، كل 7132 ارب روپے خرچ كريگى، اگر ہم كل اخراجات سو برابر حصوں ميں تقسيم كركے ديكهيں تو ہميں پتا چلتا ہے كہ حكومت بجٹ كے 41 فيصد حصے بيرونى قرض كى ادائيگى پر خرچ كريگى، 18 فيصد حصہ دفاع پر، تقريبا ساڑهے 6 فيصد پنشنز اور اتنا ہى حكومتى اخراجات پر، 13 فيصد گرانٹس اور صوبوں كو ٹرانسفرز پر، 12 فيصد ترقياتى اسكيموں وغيره پر، 3 فيصد سبسڈيز كى ادائيگى پر ، يوں يہ كل 100 حصے بن جاتے ہيں۔
 
 اٹھارويں ترميم كے بعد چونكہ تعليم و صحت صوبائى دائرے ميں آگئے ہيں ، اسلئے ان پر عليحده سے كچھ نہيں ركها گيا بلكہ گرانٹس ميں سے ہى خرچ كيا چائے گا ، جس ميں تقريبا دس فيصد صحت و كرونا سے نمٹنے كيلئے اور پانچ فيصد اعلى تعليم وغيره پر…اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ ان اخراجات كيلئے پيسہ كہاں سے آئے گا، تو اسكى تفصيل كچھ اسطرح ہے كہ
 

حكومت كل آمدن كا 77 فيصد اپنے وسائل مثلا ٹيكس ريونيو، سٹيٹ بنک اور ديگر قومى اداروں كى آمدن سے جبكہ 23 فيصد بجٹ بيرونى قرضوں اور گرانٹس سے حاصل كريگى…يعنى ہمارے بجٹ كا خساره 23 فيصد ہے !

بجٹ اور اكنامک سروے آف پاكستان كى روشنى ميں، حكومت كى مجموعى معاشى كاركردگى كا جائزه يہ ہے كہ صرف ايک شعبہ ايسا ہے جس ميں واضح بہترى نظر آئى اور وه ہےجارى حسابات كا خساره يا كرنٹ اکاؤنٹ ڈيفيسٹ جو كافى حد تک كم ہوا اسكے علاوه كوئى ايسا شعبہ نہيں جس پر حكومت واضح بہترى كا دعوى كر سكے!! ٹيكس كے حصول اور برآمدات كے شعبوں ميں كرونا وبا سے قبل کچھ بہترى كے آثار پيدا ہوئے ليكن پهر كرونا نے اپنا اثر دكهايا اور يوں وه كاركردگى بهى منفى ميں چلى گئى،،،
 
ٹيكس كے حوالے سے حكومت كہہ سكتى ہےكہ اس نے كوئى ٹيكس نہيں بڑهايا يا كوئى نيا (براه راست) ٹيكس نہيں لگايا ليكن حقيقت يہ ہے كہ ان ڈائريكٹ يا بالواسطہ ٹيكسز (مثلا سيلز ٹيكس، پٹروليم ليوى وغيره) پہلے ہى غريبوں كى كمر توڑ رہے ہيں كيونكہ يہ ٹيكسز غريبوں اميروں پر يكساں شرح سے لاگو ہوتے ہيں… خصوصا پٹرول وغيره ايک لٹر پر عوام پہلے ہى 41 روپے ٹيكس دے رہے ہيں اور اب حال ہى ميں عالمى ماركيٹ ميں ذرا قيمتيں بڑهنے سے دوباره اچانک 25 روپے فى ليٹر قيمت بڑها كر بم گرا ديا گيا ہے…جو سراسر زيادتى اور پٹروليم مافيا كے آگے ہتهيار پهينكنے كے مترادف ہے اور انكے اپنے سابقہ دعوؤں كى نفى ہے!
 
بيرون ملک مقيم پاكستانيوں كى ترسيلات زر ميں بهى اس سال (كرونا بحران كى وجہ سے) كچھ اضافہ ہوا ہے ليكن اس ميں حكومت كا كوئى عمل دخل نہيں اور اس ضمن ميں آئنده سال 20 فيصد كمى كى پشين گوئى كى جا رہى ہے!! گويا هم بجٹ كے حوالے سے، حكومت كى كاركردگى كى اس سارى بحث كا خلاصہ بيان كريں تو وه ايک جملہ ميں يہ ہوگا: *”ايک حقيقت…سو افسانے”* ، مطلب يہ كہ بجٹ خسارے ميں بہترى ايک حقيقت ہے باقى سب افسانے اور كہانياں ہيں~~
 
غربت كے خاتمے اور فلاحى رياست كے قيام كے حوالے سے ايک منصوبہ ‘احساس كفالت پروگرام” كے نام سے شروع كيا گيا ، جسكا بہت چرچا كيا گيا ليكن اس سارے پروگرام يا دوسرے فلاحى منصوبوں كا حصہ بجٹ اور معيشت ميں بہت كم ہے.. جبكہ غربت كے خاتمہ، روزگار ، ہاؤسنگ كا كوئى جامع ايک منصوبہ پيش نہيں كيا جا سكا، اگرچہ اس حوالے دعوے بہت ہيں، جو حكومت كى ناہلى يا ناتجربہ كارى كو ظاہر كرتا ہے لہذا يہ بجٹ فلاحى بجٹ كہلانے كا حقدار نہيں..
 
ايک طرف رياست مدينہ كى بات كى جاتى ہے اور دوسرى طرف سود پر مبنى معاشى نظام كو بهى جارى ركهے ہوئے ہيں، يہ ايک كهلا تضاد ہے جو ملک كو معاشى طور پر تباه كر سكتا ہے… اس حوالے ہميں حكومت كو اپنى معاشى ترجيحات كا جائزه ليكر، انہيں بدلنے كى ضرورت ہے!! حكومت نے كرونا حالات كى وجہ سے، شرح سود كو كم كرنے كى كوشش تو كى ليكن اب بهى يہ سات فيصد ہے جو موجوده عالمى وبائى حالات اور ديگر علاقائى ممالک كے لحاظ سے بہت زياده اور تعليمات اسلام كى رو سے ناقابل قبول ہے..!! كئى غير مسلم ممالک كى طرح ہميں يہ سودى شرح صفر يا منفى كرنے كى ضرورت ہے، كيا عالمى ادارے اسكو گوارا كر ليں گے؟
اب ہم جائزه لينے كى كوشش كرتے ہيں كہ دو سالہ دور ميں حكومت كى معاشى ترجيحات كيا رہيں.. سولہ معاشى اشاريوں يا معيارات پر اگر حكومتى ترجيحات كا جائزه ليں تو ہميں نظر آتا ہے كہ اس حكومت اور گزشتہ حكومتوں كى ترجيح اول، ڈیبٹ سروسنگ يعنى ادائيگئ قرض ہے تاكہ آئي ايم ايف و ديگر عالمى ساہوكار ادارے ہميں ديواليہ يا ڈيفالٹ قرار نہ ديں كيونكہ اگر ملک ڈيفالٹ كر جائے تو آئنده سودى قرضے ملنا بند ہوجاتے ہيں…
 
يہ ايک ايسا شعبہ ہے جسے ہمارے تمام معاشى مينيجرز (جو ہر حكومت ميں تقريبا وہى ہوتے ہيں) اور تمام سابقہ حكومتيں، خوش اسلوبى سے كرتى چلى آئى ہيں… واقعى عالمى دجالى مالياتى اداروں كى گرفت اتنى سخت ہے كہ اس كام كو اپنى ترجيح اول بنائے بغير بظاہر ہمارى سانس نہيں چل سكتى…ڈيفالٹ ہونا كوئى آپشن نہيں ليكن مزيد سودى قرض ليكر، سابقہ قرضے اتارنا اور نيا سودى قرض چڑها لينا ہى ايک آپشن ہے..؟ وه ٹيكس نيٹ و برآمدات بڑهانے، كرپشن كو زيرو كرنے، مافياز كو لگام دينے، عالمى سرمايہ كارى اور لوٹا ہوا پيسا لانے، نيز سادگى اختيار كرنے كے دعوے كيا ہوئے؟!
 
خدشہ ہے كہ اگر آئى ايم ايف، ورلڈ بنک جيسے صيہونى اداروں كا شكنجہ نہ ٹوٹا اور انكى پاليسيوں كے زير اثر ہم اور ہمارے مالياتى اور رب و بنک يونہى سود كا لين دين كرتے رہے، شرح سود اور سود پر بهارى قرضوں كى وصولى جارى رہى تو امير و غريب ميں فرق بڑهے گا، امير زياده امير، غربب زياده غريب ہوں گے، جى ڈى پى اور شرح نمو مزيد كم ہوگى، مہنگائى اور افراط زر ميں اور اضافہ ہوگا نتيجتا روپے اور زر مبادلہ كے ذخائرز (يعنى ملک مبں موجود ڈالرز) پر دباؤ آئے گا اور هم نہ چاہتے ہوئے بهى ڈيفالٹ ہونے كے فريب پہنچ جائيں گے (خدا نہ كرے)،،
 
كرونا وبا كى وجہ سے كاروبار وغيره اور معيشت كے حالات پہلے ہى دگرگوں ہيں، اگرچہ ائى ايم ايف نے تين سال كيلئے اپنے قرضے رى شيڈول كيے ہيں، نيز ديگر فورمز سے وبا كے مقابلہ كيلئے سوفٹ قرض يا گرانٹس ملى ہيں ليكن يہ سب معيشت كو مستقل سہارا دينے كيلئے ناكافى ہيں ، ہم اس موقع پر ضرورى سمجهتے ہيں كہ معيشت كى فورى اور ديرپا بہترى كيلئے كچھ تجاويز پيش كر ديں…
 
فورى حل كيلئے ضرورى ہے كہ حكومت پاكستان اپنے معاشى مينجرز كى ٹيم كو ان لوگوں سے تبديل كرے جو اصلا پاكستانى صاحبان ايمان ہوں، اعلى درجے كے ماہرين، مخلص ، ديانتدار اور محب وطن ہوں… ايسے قابل ترين لوگ ہميں اسى ملک سے مل سكتے ہيں، بيرونى ممالک يا ايجنسيوں سے درآمد كرنے كى ضرورت نہيں!!
معاشى حالات ميں لانگ ٹرم يا دير پا بہترى كيلئے ضرورى ہے كہ حكومت ، اپوزيشن ، تاجر ، صنعتكار اور تمام اسٹيک ہولڈرز (بشمول فوج) كے نمائندے مل بيٹھ كر ايک “چارٹر آف اكانومى” طے كريں جس ميں خودانحصارى اور خود كفالت كا ايک قابل عمل معاشى منصوبہ قوم كے سامنے پيش كيا جائے ، جس كے بنيادى نكات يہ ہوسكتے ہيں؛
اسلام كے عادلانہ معاشى نظام كو بتدريج لاگو كرنا
ٹيكس كے فرسوده نظام ميں اصلاحات اور نظام زكوة كى توسيع و نفاذ
غير ملكى قرضوں پر انحصار كو كم ترين سطح پر ليجانے كيلئے عملى اقدامات
تركى أور ملائيشيا كى معاشى ترقى سے سبق سيكهنا اور پورے معاشى ڈهانجے كو مضبوط بنيادوں پر از سرنو ترتيب دينا
 
اگر حكومت اسطرح كا كوئى متفقہ معاشى چارٹر اور اصلاحات لانے ميں كامياب ہوتى ہے تو پهر اس سے كوئى بہترى كى توقع كى جاسكتى ہے بصورت ديگر كسى بہتر حكومت كيئے كوشش اور انتظار كرنا پڑے گا.
 

تحرير: نبيل شوكت وڑائچ

- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین