آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

بجٹ پاس ۔ ۔ ۔ ڈرامہ کیوں! – اوصاف شیخ

کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ دو سال حکومت کے ساتھ رہنے والی مینگل جناعت عین بجٹ کے وقت کیوں چھوڑ کر گئی

- Advertisement -
گزشتہ دنوں وفاقی بجٹ پیش کیا گیا ۔ وفاقی بجٹ پیش کیئے جانے اور بجٹ کے قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے درمیانی دنوں میں ایک عجیب سیاسی بے چینی نظر آئی ۔ یوں لگتا تھا کہ شاید حکومت وفاقی بجٹ پاس نہ کروا سکے اور یہی ایک طرح سے ریفرنڈم ثابت ہوتا ۔۔۔
 

وفاقی بجٹ کا اسمبلی سے پاس ہونا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طاقت کا مظاہرہ بن گیا ۔۔۔ پی ٹی آئی حکومت کو قومی اسمبلی میں صرف چھ نشستوں سے برتری حاصل ہے اور یہ برتری اتحادیوں کو ملا کر بنتی ہے ۔

 
بی این پی مینگل کا حکومت کو چھوڑنا ۔۔۔ مسلم لیگ ق کا نخرے دکھانا اور حتی’ کہ آخری رات حکومت کی جانب سے دیئے گئے کھانے میں بھی شریک نہ ہونا ۔ ایم کیو ایم کا منہ بسورنا یہ ایسے عوامل تھے کہ عوامی حلقوں میں اور سوشل میڈیا کے علاوہ ملکی و غیر ملکی الیکٹرک اور پرنٹ میڈیا پر سب سے گرم خبر بنی رہی جو حالات نظر آ رہے تھے ان کے پیش نظر بجٹ ہاس ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا اور اس سے قبل ان ہاؤس تبدیلی کی جو خبریں گردش کر رہی تھیں اور کوششیں جاری تھیں اس پر عمل ہوتا نظر آ رہا تھا ۔۔۔
لیکن دوسری طرف سابقہ تجربات و مشاہدات بھی نظر میں تھے ۔ عوامی نمائندوں بالخصوص چھوٹی حکومتی اتحادی یا حلیف جماعتوں کا ہمیشہ سے حکومت کے ساتھ رویہ اور ایسے ہی اہم مواقعے پر اپنے مطالبات منوانا اور اور بڑی رقم یا ذاتی مفاد حاصل کرنا شامل رہے ہیں۔ رقم اور ذاتی مفاد کا تذکرہ اور ثبوت تو عوامی حلقوں میں خوب گھومتے ہیں.
 
لیکن ظاہر ہے اس کا باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہوتا یہ تو چند سال بعد پورے ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر بھی آ جاتے ہیں لیکن پاکستان کے بھولے عوام پر کبھی اس کا اثر نہیں ہوا جیسے آئی جے آئی کا بنایا جانا ۔ سیاستدانوں میں رقوم تقسیم ہونے کے ثبوت سامنے آنا ۔ مختلف چھوٹی جماعتوں کا مختلف جماعتوں سے ذاتی مفاد حاصل کرنا اور رقم لینا جیسے واقعات اکثر اوقات سامنے آتے رہے۔
 
اس مرتبہ بھی اسمبلی وہی تھی ۔ اراکین اور زیادہ جماعتیں بھی وہی تھیں اگر کچھ شکلیں تبدیل بھی ہوئی ہیں تو بھی رویے وہی ہیں تو اس مرتبہ بھی کیسے سوچا جاسکتا تھا کہ تمام تر برے حالات کے باوجود بجٹ پاس نہ ہوتا ۔۔۔ کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ دو سال حکومت کے ساتھ رہنے والی مینگل جناعت عین بجٹ کے وقت کیوں چھوڑ کر گئی ۔ ہمارے جمہوری سسٹم میں یہی تو مواقعے ہوتے ہیں کمائی اور بلیک میلنگ کے ۔
 
لیکن یہاں ایک اور بات بھی قابل غور اور قابل فکر ہے کہ چلیں ق لیگ اور ایک کیو ایم تو واپس آ گئیں اور آنا ہی تھا بلکہ وہ گئی ہی نہیں تھیں لیکن اپوزیشن کے بہت سے اراکین کو کیا ہوا ؟ بجٹ پاس ہونے کے اجلاس سے قبل تک دعوے ۔ دھمکیاں ۔ حکومت کے جانے کے اشارے وغیرہ لیکن اپوزیشن ہی اپنے پورے اراکین اسمبلی میں نہ لا سکی۔۔۔۔
 
کیا یہ صرف اپوزیشن جماعتوں بالخصوص ن لیگ اور پی پی کے اراکین کی اپنی مرضی تھی ؟ نہیں ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ۔۔۔۔گو متعدد مرتبہ ایسا بھی سنا گیا ہے کہ ن لیگ اور پی پی کے کچھ اراکین جن کی تعداد بیس سے اوپر ہے ہر وقت حکومتی جھولی میں بیٹھنے کو تیار ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن یہاں کچھ اور نظر آ رہا ہے ۔۔۔
ن لیگ اور پی پی کے کچھ اراکین اسمبلی جن کی تعداد پینتیس تک بتائی جاتی ہے یا ہو سکتی ہے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی جماعتوں کی مرضی سے ایوان میں نہیں آئے تاکہ بجٹ کے خلاف ووٹ نہ کاسٹ کرنا پڑے ۔۔۔ اڈ کا سارا مفاد انہی دو جماعتوں کے سربراہان نے سودے بازی میں لیا ۔ اور چند دن کے ڈرامہ کے بعد اسمبلی میں بجٹ اکتالیس ووٹ کی اکثریت سے پاس ہو گیا اور یہ اکثریت پچھلے سال سے بارہ ووٹ زیادہ ہے حالانکہ حکومت کا حال برا نظر آ رہا تھا۔
 
یہی وہ بات ہے نو عوام کے سمجھنے کی ہے لیکن نہ عوام پہلے کبھی سمجھے نہ اب سمجھیں گے کہ ان کی قیادت اپنے ذاتی مفادات کو اہمیت دیتی ہے ۔۔۔ اس بجٹ پر ہچھلے سال کے بجٹ کے مقابلے میں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں زیادہ سختی کا شکار ہیں ۔۔۔
 
کیسز زیادہ آگے جا چکے ہیں ۔ کرہشن کے نئے ثبوت حاصل کیئے جا چکے ہیں ۔ حکومت اور اداروں کی ان پر گرفت زیادہ مضبوط ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔ شہباز شریف کے گھر چھاپہ بھی گرفتاری کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک سخت پیغام تھا جو تجربہ کار شہباز شریف با آسانی سمجھ گئے تھے ۔

لیکن نہیں سمجھے تو عوام نہیں سمجھے نہ سمجھیں گے کہ عمران حکومت کو ناکام کہنے والے۔ ملک کے لیئے خطرہ قرار دینے والے وقت آنے پر میسر ظاقت کا مظاہرہ بھی کیوں نہیں کر سکے ۔۔۔

عوام کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر تقریر میں شور ڈالنے والے وزیر اعظم کی تقریر خاموشی سے کیسے سنتے رہے۔۔۔ جب تک عوام نہیں سمجھیں گے تب تک ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے
 
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین