خبر اور تجزیہ

سانحہ مسجد رحمت اللعالمین – از حافظ شفیق الرحمٰن

عمران خان" سب اچھا " کی صدا لگانے والے خوشامدیوں کے حصار سے باہر نکلو ۔ بادہ ء اقتدار سے خمار آلود بوجھل آنکھیں کھولو ۔ اور دیکھو تا حد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں۔ خیبر سے کراچی تک پورا ملک نقشِ فریادی بن چکا ہے

 اسے صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو سانحہ کل ہو گیا ہے

میں اداس ہوں
سوچ سوچ کر میرا دل خون ہو چکا ہے
کلیجہ منہ کو آرہا ہے
میرا شہر لہو رنگ ہے
داتا کی نگری کے شہری چیخ چیخ کر پوچھ رہے ہیں
داتا کی نگری کو سری نگر اور غزہ کیوں بنایا گیا؟
18 اپریل 2021 ء کی دوپہر چوک یتیم خانہ کو 19 ویں صدی کی دلی کا چاندنی چوک اور 21 ویں صدی کے قاہرہ کے چوک التحریر کے قالب میں کیوں ڈھالا گیا؟
کعبے کی راج دلاری بیٹی مسجد کو مذبح اور مقتل کس استعماری طاقت کو خوش کرنے کے لیے بنایا گیا؟
شہر شہر جنازوں کی سوغاتیں کیوں بھیجی جا رہی ہیں؟
پورا ملک سراپا سوال ہے
 بائیس کروڑ عوام غم و غصہ میں ہیں۔۔۔سراپا احتجاج ہیں۔
سانحہ لال مسجد سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد اب سانحہ مسجد رحمت اللعالمین موجودہ وزارت داخلہ کے دامن پر ایک بدنما داغ بن کر ابھرا۔
شیخ رشید دانستہ پنجاب پولیس کی وردی کو نفرت اور حقارت کا استعارہ بنا رہا ہے۔۔۔خیر، وہ پہلے ہی سے عام آدمی کے لیے خوف، وحشت اور دہشت کی علامت ہے۔
پولیس افسران میں موجود ابن زیاد کے چہیتوں اور معنوی فرزندوں نے امن و سلامتی کے خیموں کو جلا کر خاکستر کردیا ہے
لاہور کو کربلا کا نقش ثانی بنا دیا گیا
عمران خان” سب اچھا ” کی صدا لگانے والے خوشامدیوں کے حصار سے باہر نکلو
بادہ ء اقتدار سے خمار آلود بوجھل آنکھیں کھولو
اور دیکھو
تا حد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
خیبر سے کراچی تک پورا ملک نقش- فریادی بن چکا ہے
ہر شہر مقتل ہے
ہر شہری مجسم اشک ہے

خنجرِ دو دم پہ روشن ہیں لہو کی مشعلیں
کوچہ ء قاتل میں ہے جشن چراغاں آج بھی
اہل حق کے واسطے ہے ہر قدم پر کربلا
چار سو ہے منظر-شام-غریباں آج بھی

ہر عاشق رسول کے ہونٹ پر دعائے جلال ہے

 سنو! ۔ 
دعائے جلال کے استقبال کے لیے اجابت در- حق سے روانہ ہوچکی ہے
کلیاں گریاں ہیں
غنچے ماتم کناں ہیں
شگوفے سیاہ پوش ہیں
کونپلوں کے دامن تار تارہیں
گلابوں کی پنکھڑیاں اشک بار ہیں
روش روش پامال ہے
ہر ڈالی لہو کے چھینٹوں سے گلنار ہے

منتخب جمہوری حکمران ہونے کے دعویدار ملک کی ایک بڑی دینی و سیاسی قوت کے خاتمے کے لیے ترکی کے مصطفی کمال، مصر کے جنرل السیسی اور بنگلہ دیش کی حسینہ واجد کا کردار ادا کر رہے ہیں
پھول سے بچوں
اور
چاند سے بھی روشن چہروں والے نوجوان شہداء کے نعشے صحن-مسجد میں قطار اندر قطار رکھے ہوئے ہیں
زخمی گڑگڑا کر بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں فریاد کر رہے ہیں:
انظر حا لنا یا رسول اللہ
ان کا جرم یہ تھا کہ وہ سرمست و سرشار ہو کر حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن شاہراہ پر سر بہ کف گامزن تھے
ہائے یہ شمع ختم نبوت کے سوختہ جاں پروانے
لبیک لبیک یا رسول اللہ لبیک کا ورد کرنے کے جرم میں گولیوں سے بھون دیے گئے

آج لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنے پر پابندی ہے
مجھے ڈر ہے کل کہیں لبیک اللھم لبیک کہنے پر سلسلہ ء دار و گیر آغاز نہ ہوجائے
آج پورا ملک اداس ہے
سوائے آلِ کوفہ کے
یہ کوفہ سرشت انہیں دہشت گرد قرار دے رہیں
آفریں ہے ان حسینی شہیدوں پر
جو مقامی اور بین الاقوامی یزیدوں کی بندوقوں کی نالیوں کی چھاوں میں نماز عشق ادا کر تے ہوئے رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے

وہ جو تحفظ ناموس- رسالت کی روشن شاہراہ پر مارے گئے۔۔اور ۔۔امر ہوگئے۔۔لیکن ۔۔بے حسوں کو اس کا شعور نہیں
وہ ظالم حکمران جو پر امن اور نہتے شہریوں کے سینوں میں گولیوں کے بیج بوتے، وقت آتا ہے جب ان کے سروں کی فصل کٹتی ہے
فرعونوں کے غرقاب ہونے پر ایک آنکھ بھی نم نہیں ہوتی
جلد عصر حاضر کے فرعون بھی بدنامیوں اور گم نامیوں کے نیل میں غرق ہوں گے
انہیں رسوا سر-بازار عالم
میں بھی دیکھوں گا
آپ بھی دیکھیں گے
دنیا بھی دیکھے گی
۔۔اور ۔۔
شہدائے ناموس-رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ و ازواجہ و بناتہ وسلم کی پاک ارواح بھی جنت کے دریچوں سے دیکھیں گی
قانون مکافات-عمل جلد حرکت میں آئے گا
یہ ظالم اور ان کی نسلیں کیفر کردار کو پہنچیں گی۔۔۔۔تاریخ اپناورق الٹے گی۔۔۔یہیں میدان-حشر سجے گا، حساب کتاب ہوگا، میزان عدل لگے گی اور وقت کا قاضی اپنا فیصلہ سنا کر انہیں عبرت کا نشانہ بنادے گا۔
قریب ہے یارو روز محشر، چھپے گا کشتوں کا خوں کیونکر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر تو لہو پکارے گا آستیں کا

یہ نوحہ 18 اپریل کو افطاری اور نماز مغرب کے فوری بعد لکھا گیا۔

حافظ شفیق الرحمٰن کالم نگار


پاکستان ڈیفنس کے بارے یہ کالم بھی پڑھیں

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

تازہ ترین کالم

احتجاج کا گورکھ دہندہ ! کیا جمہوری نظام میں پاکستان کی بقا ہے ؟

احتجاج ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ جمہوریت کی ناجائز اولاد...

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ...

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی مرحوم

وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق ایک اہم...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

چین نیوز

چین نے ہندوستان کیخلاف ڈیموں کے واٹر بم کی دھمکی دے دی

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین...

چین نے ہندوستان کیخلاف ہولناک مائیکرو ویو ہتھیار استعمال کیے

چین کی رینمن یونیورسٹی کے انٹرنشنل ریلیشن کے وائس...

ترکی نیوز

DEFENCE TIMES

Military Jobs and Defence News

GULF ASIA NEWS

News and facts from Gulf and Asia