خبر اور تجزیہ

ایران کے فوجی مراکز اور ایٹمی تنصیبات میں مسلسل دھماکے

عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ان مسلسل دھماکوں میں ایرانی ایلیٹ فورس پاسداران ایران کے فوجی مراکز، اہم ایٹمی تنصیبات اور تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے

- Advertisement -
عاالمی پریس اینڈ میڈیا کے مصدقہ ذرائع ان خبروں کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ایران کے کیپیٹل سٹی تہران کے مغربی حصے میں جمعہ کی صبح پھر ایک بڑا زوردار دھماکہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق جس علاقے میں دھماکہ ہوا وہاں ایرانی ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب کی اہم فوجی تنصیبات واقع ہیں۔
 
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صدا و سیمائی جمہوری اسلامی ایران نے بھی اس دھماکے کی اطلاع دی ہے تاہم ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اس بارے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ جبکہ دوسری طرف ایرانی صحافی حسن ساری نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں آئی آر جی سی کے میزائل تنصیب یا گودام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ مسلسل تیسرا دھماکہ ہے۔ اس سے ایران کی اہم فوجی تنصیبات اور خوجر اور نطنز کے ایٹمی مراکز میں ہوئے تھے۔
عالمی پریس کے مطابق ایران کے حساس دفاعی مراکز میں یہ تیسرا بڑ ادھماکہ ہے۔ لیکن ایران کے سرکاری ترجمان دارالحکومت  تہران کے مغرب میں جمعرات اور اس سے قبل ہونے والے دھماکوں کی تردید کر رہے ہیں۔ جبکہ وائس آف جرمنی، بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیاں گذشتہ ہفتوں کے دوران ملک بھر میں مسلسل پراسرار دھماکوں کی خبریں نشر کر رہے ہیں۔
 

چاہبہار بندرگاہ اور دوسرے معاشی منصوبوں کے بھارت کے اتحادی ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ملک کے سوشل میڈیا صارفین نے گرمدارہ اور قدس کے شہروں کے قریب دھماکے سنے ہیں۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایران میں ہونے والے ان دھماکوں میں ایران کی اہم ایٹمی تنصیبات اور تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 
جدید سرجری اور میڈیکل امیجنگ کے ایک ہسپتال میں اس جون میں دھماکہ کے بعد آگ بڑھک اٹھی تھی۔ سرکاری چینل پریس ٹی وی کے مطابق مقامی افراد نے بھی تصدیق کی ہے انہوں نے تین سے چار مارٹر یا طیارہ شکن گولوں کے پھٹنے کی زوردار آوازیں سنی ہیں۔ جبکہ انٹرنیشنل پریس کے مطابق اس دھماکے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اس حوالے سے بی بی سی کے تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے شہر گرمدارہ کے چند سوشل میڈیا صارفین نے دھماکوں کی آوازوں کی تصدیق کی۔ اس حوالے سے ان دھماکوں سے لگنے والی آگ اور عمارتوں کی تباہ کاری کی انٹر نیٹ پر حالیہ شائع کی جانے والی تصاویر دراصل پرانے واقعات کی ہیں۔
 

ایران کے شہر قدس کی گورنر لیلہ وسیگھی نے سرکاری نیوز ایجنسی ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکوں کے بعد بجلی کا نظام متاثر ہوا تھا۔ تاہم اس نظام کے متاثر ہونے کا تعلق ایک ہسپتال میں ہونے والے دھماکے سے تھا۔

 
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین