خبر اور تجزیہ

بھارت میں توہین رسالت کیخلاف پر تشدد مظاہروں میں تین مسلمان شہید

بھارتی مسلمانوں اور مسلم ممالک کے مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مذہبی شدت پسند ہندو طبقات کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔

- Advertisement -
اسلام امن اور بین المذاہب رواداری کا مذہب ہے اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں مسلمانوں کی طرف سے ہندو کمیونٹی کے ساتھ دوستانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔  لیکن سیکولرازم کے دیش بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف ہندوتوا کا نفرت آمیز سلوک ، ریاستی جبر اور مذہب کیخلاف توہین آمیز رویے ہندوستانی معاشرے میں اقلیتوں کیخلاف امتیازی سلوک کی عکاسی کرتے ہیں۔
 
بھارت کے شہر بنگلور میں ایم مقامی ممبر اسمبلی کے بھانجے کی طرف سے فیس بُک پر توہین رسالت پر مبنی ایک مذوم پوسٹ کے ردعمل میں پُرتشدد ہنگامے ہوئے ہیں۔ پولیس اور پر تشدد احتجاج کرنے والے مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلور پولیس نے ایک سو سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
 
بھارتی اخبارات کے مطابق کانگریس سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی رکن پارلیمنٹ اکھنڈا سری نواسا مرٹھی کے بھانجے نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی تھی۔ ایک شدت پسند ہندو نوجوان کی اس مذموم حرکت کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے تشدد آمیز احتجاج شروع ہو گیا تھا۔
شہر میں غم و غصہ کی لہر کے بعد مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن پر بھی دھاوا بول دیا اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مظاہرین نے تھانے کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تو پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں ، جن میں کم سے کم ساٹھ کے قریب پولیس اہلکار اور افسر زخمی جبکہ تین مظاہرین جان بحق ہوگئے تھے۔
 
ریاست کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یوراپا نے توہین رسالت کے ملزم کو کڑی سزا دینے کی بجائے پولیس کو اس خیخلاف آواز اٹھانے والے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ امن وامان کو برقرار رکھیں۔ وزیر اعلی کی طرف سے توہین رسالت کے اس مذموم واقعہ کی مذمت کرنے کی بجائے مظاہرین کو چتاؤنی دی گئی ہے کہ حکومت اشتعال انگیزی اور افواہوں کو برداشت نہیں کرے گی۔

پاکستان کا توہین رسالت کیخلاف آفیشل ردِّعمل

پاکستان کے دفترِخارجہ نے بنگلورمیں پرتشدد مظاہروں کی خبریں شائع ہونے پر ایک بیان جاری کیا ہے اور سوشل میڈیا پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی پوسٹ پر شدید احتجاج کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو پاکستان کی تشویش اور عوامی رنج و غم سے آگاہ کردیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی پولیس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے توہین آمیز پوسٹ جیسے مذہبی جرائم کرنے والوں کی سرکوبی کے بجائے مسلمانوں کیخلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور تین
مظاہرین کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا ہے۔

یہ نریندر مودی سرکار کی مسلمانوں اور اقلیتوں کے بارے امتیازی سلوک کی پالیسی ہے کہ شہر میں مسلم برادری سے ناانصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے الٹا مسلمانوں پر پولیس اہلکاروں پر حملے کا الزام لگا کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہندو کمیونٹی کی طرف سے توہین اسلام کی وجہ سے ایسے ہندو مسلم فرقہ وار فسادات معمول ہے ۔ یاد رہے کہ اس سال کے اوائل میں دارالحکومت دہلی میں فرقہ وار واقعات میں 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ ہندوستان اور اسلامی ممالک کے مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسلام دشمن طبقات کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین