خبر اور تجزیہ

بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ایم کیو ایم کے وحشیانہ آتشی قتل عام کی رپوٹ شائع

ایم کیو ایم کے ہاتھوں وحشیانہ قتل عام اور سفاک دہشت گردی کے اس خون ناک واقعہ کی جے آئی آٹی رپورٹ کا پانچ سال تک منظر عام پر نہ آنا بھی بڑا اہم سوالیہ نشان ہے

- Advertisement -
پاکستان کے روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں آٹھ سال قبل آتش زدگی کے افسوس ناک واقعہ کی جے آئی ٹی رپورٹ پانچ برس تک دبائے جانے کے بعد منظرعام پر آ گئی ہے۔
 
صوبہ سندھ کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر اس جے آئی ٹی رپورٹ تک رسائی پانچ برس تک پردوں میں رہی۔ لیکن اب اس رپورٹ تک ویب رسائی اور بروزنگ مکمل طور پر بحال ہوچکی ہے۔
 
فیکٹری میں آتشزدگی کے افسوس ناک واقعے کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ نہیں بلکہ قتل عام کیلئے ایک منظم سنگین دہشت گردی تھی۔ جس میں مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی مرکزی کردار تھے، اور انہیں کی ایما پر ایم کیو ایم کے مجرمانہ کردار بھتہ خور اور ٹارھٹ کلر مافیہ کارکنوں نے یہ سفاک اقدام اٹھایا تھا۔
جے آئی ٹی نے پولیس کی تحقیق پر بھی کئی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ تحقیق غیر پیشہ وارانہ طریقے سے کی گئی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایم کیو ایم کے سیاسی اور طاقتور اثر رسوخ کی وجہ سے تحقیقات کا عمل غیر شفاف تھا۔
 
یاد رہے کہ صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ پر واقع ڈینم گارمنٹس فیکٹری میں آٹھ برس قبل 11 ستمبر 2012 کو ہولناک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ فکٹری مالکان کی طرف سے متحدہ قومی موومنٹ کے بھتہ خور مافیہ کو بھتہ دینے سے انکار پر انتقاماً لگائی گئی اس ہولناک آگ میں جھلس کر 259 مزدور جاں بحق اور 50 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
 

واقعے کے ڈھائی برس بعد یعنی جون 2015 میں بنائی جانے والی اس جے آئی ٹی کی رپورٹ پانچ برس بعد منظر عام پر آئی ہے۔ اس سفاک دہشت گردی کے واقعہ کی جے آئی آٹی رپورٹ کا پانچ سال تک منظر عام پر نہ آنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف آئی آر بے ایمانی سے دائر کی گئی اور اس میں سیاسی اور حکومتی سطح پر اندرونی و بیرونی دباؤ کا واضع عمل دخل رہا ۔ جس کی وجہ سے سفاک دہشت گردی کے ہولناک قتل عام کو ایک عام قتل کی شکل دی گئی۔
 
جے آئی ٹی رپورٹ کو سفارش کی گئی ہے کہ پہلے سے دائر ایف آئی آر واپس کی جائے اور نئے سرے سے حقائق پر مبنی ایف آئی درج کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق غلط ایف آئی آر اور غیر منصفانہ تحقیقاتی رپورٹ سے بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعہ میں، مجرمانہ طور پر ظالم کو مظلوم بنا دیا گیا

جے آئی ٹی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ نئی ایف آئی آر میں متحدہ قومی مووومنٹ کے ذمہ داران اور کارکنان رحمان بھولا، حماد صدیقی، زبیر چریا، ان کے چار نامعلوم ساتھیوں، عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، علی حسن قادری، اقبال ادیب خانم کو شامل کیا جائے۔

- Advertisement -

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین