آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

نظام کی پسماندگی، ریاست اور نیا راستہ ۔ محمد رضوان اسد

یہی دراصل حقیقی ترقی، پسے ہوئے اکثریتی طبقات کی خوشحالی اور استحصال سے پاک آسودہ حال معاشرے کے قیام کیلئے نیا راستہ ہوگا

- Advertisement -
انسانی معاشرے کے ارتقاء اور فلاحی ریاست کے قیام کی طرف سفرمیں معیشیت اور طبقاتی کشمکش ہمیشہ سے ہی اہم رہے ہیں۔ قدیم قبائلی معاشرے کے دوران زراعت کی شکل میں زرائع پیداوار مکییں اضافہ کے ساتھ ریاست کا تصور وجود میں آیا۔ یہ مسلسل تبدیلی قدیم یونان کی غلامانہ نظام ریاستوں سے ہوتی ہوئی یورپ کے کلاسیکل جاگیردارانہ سماج اور پھر اس کے بعد امریکی جنگ آزادی اور انقلاب فرانس سے ہوتے ہوئے موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
 
ہر ناکام اور متروک شدہ نظام کی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی شروع میں ترقی پسند بنیادوں پر قائم تھا، بڑے پیمانے پر صنعتوں کے قیام اور زرائع پیداوار میں بھرپور اضافے کیساتھ ساتھ بہت کم وقت میں بڑھتی ہوئی شرح منافع، ذرائع پیداوار کے نجی ملکیت میں ارتکاز اور سرمایہ دار کی مزدور طبقہ (جو پیداوار کا ضامن ہے) کے ساتھ طبقاتی کشمکش نے بہت جلد ہی اس کے اندرونی تضادات کو واضح کیا اور اسکے ترقی پسند پہلو کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔
 
جنگ، آفت یا ان جیسا کوئی بحران ہی ترقی کے کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کرتا ہے۔ موجودہ وبا یعنی کرونا وائرس نے سرمایہ دارانہ ریاست کی ترجیحات کو عیاں کر دیا ہے۔ سرمایہ داری اور نجی ملکیت کے علمبردار ممالک میں بنیادی طبی سہولیات کا ڈھانچہ بیٹھ چکا ہے اور اسکی وجہ بیمار افراد کی زیادہ تعداد نہیں بلکہ عوامی اہمیت کے منصوبوں میں حکومتوں کی عدم دلچسپی ھے۔
 
 
ریاستوں نے پرائیویٹائزیشن کی پالیسی اپناتے ہوئے عوام کی اکثریت کا مستقبل مٹھی بھر سرمایہ داروں کے ہاتھ گروی رکھ دیا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آزاد منڈی کی معیشیت میں حکومت کس طرح سرمایہ دار سے یہ امید کر سکتی ہے کہ وہ معیاری تعلیم، سستی صحت اور مفاد عامہ کے کاموں میں سرمایہ کاری کرے۔
 
یہ تو سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی قانون یعنی منافع کے خلاف ھے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ بہترین سہولیات دینے والے ہسپتال یا تعلیمی ادارے نجی ملکیت میں ہیں جن کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی طالبعلم ان میں پڑھنے کی خواہش کرتے ہوئے عمر گزار دے یا اس ہسپتال میں علاج کی آس لئے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے۔ اور اگر کوئی فلاحی تنظیم بھی یہ بیڑا اٹھاتی ہے تو وہ آبادی کے کتنے فیصد حصے کو صدقہ و خیرات کی مد میں سہولیات فراہم کر سکتی ہے؟
 
حقیقت یہ ہے کہ نجی ملکیت پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام میں پیداوار لوگوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں بلکہ منافع کی بنیاد پر کی جاتی ھے۔ جیسے ہسپتال میں علاج کا حق خرابی صحت سے مشروط نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کی فیس اور ہپستال کے کمرہ کا کرایہ موجود ہونا شرط ہے۔ اور یہی صورتحال تعلیم جیسی دوسری بنیادی ضرورت کے حصول میں بھی درپیش ہے۔
 
مزدور طبقہ (ان پڑھ یا اعلی تعلیم یافتہ) چونکہ فیکٹری یا انڈسٹری مالک کے منافع کے رحم و کرم پر ھے تو اس صورتحال میں تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتیاں اور حتی کہ ملازمتوں کو بھی خطرہ لاحق رہتا ھے۔ اب ریاست بھی انگلیاں دانتوں تلے دبائے اس سوچ میں مگن ہے کہ لاک ڈاؤن کیوجہ سے ہونیوالا معاشی خسارا یا وائرس؟ زیادہ اموات کی وجہ کون ہوگا؟؟؟
 
آج ایٹمی ریاست کے سربراہان پرائیویٹ اداروں سے امداد کی مد میں ماسک وصول کر رہے ہیں حالانکہ امداد دینے والوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہی مارکیٹ میں 5 روپے قیمت والا ماسک ساٹھ روپے میں اور ساٹھ روپے والا ماسک تیرہ سو روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ چند مٹھی بھر اشرافیہ کے لئے کروڑوں روپے کی گاڑیاں اور اربوں ڈالر کی فلک پوش عمارتیں بنا کر ترقی پسندی کے دعویداروں کے پاس وینٹیلیٹر اور جان بچانے والی سستی ادویات بنانے کے فارمولے اور پیسہ نہیں؟ یا اس کی وجہ کم منافع ہے؟
 
اس وبائی بحران سے قبل بھی صحت کی سہولیات انتہائی کشیدہ تھیں۔ ریاستی عدم توجہی کہ بنا پر صاف پانی کی عدم فراہمی، ٹی بی، سانس کی تکالیف، زچگی، حادثات، بھوک و غربت سے ہونیوالی سالانہ اموات جنگوں اور دہشت گرد حملوں میں ہونیوالی اموات سے بھی زیادہ ہیں۔ اس وبا نے تو ریاستوں کی کھوکھلی ترقی اور عوام دوستی کے نعروں کو بے نقاب کیا ہے۔
 
اس تمام صورتحال کے برعکس چین اور دوسری منصوبہ بند سوشلسٹ معیشتوں پر تعمیر معاشروں کا کردار بھی سب کے سامنے ہے۔ اگر ریاست معاملات سے بیگانہ نا رہے اور ذرائع پیداوار نجی ملکیت کی بجائے اجتماعی کنٹرول میں ہو تو دس دن میں غریب ممالک میں موجود سب سے بڑے ہسپتال سے بھی بڑا ہسپتال مکمل ہو سکتا ہے، کروڑوں کی آبادی والے شہر میں معیشت کا پہیہ رکنے کے باوجود شہریوں کو بنیادی اشیاء ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کے ساتھ ساتھ موافق طبی سہولیات فراہم کر کے وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
 
آج سب سے اہم ضرورت ریاست کے کردار کو بدلنے کی ہے کہ وہ لوگوں کی بنیادی ضروریات کی ضامن بنے، تعلیم صحت رہائش اور روزگار ریاستی کنٹرول میں رکھ کر پرائیویٹ پراپرٹی یا نجی ملکیت پر قدغن لگا کر ہی بحران سے نکلنے کا راستہ ہموار ہوگا۔ یہی اصل ترقی اور پسے ہوئے اکثریتی طبقات کی خوشحالی اور استحصال سے پاک نیا راستہ ہوگا۔
 
محمد رضوان اسد

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین