آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

تحصیلِ علم و ہنر کا آصف – ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

ہمارا خالق بھی تو تنہا ہے، یکتا ہے۔ آصف اپنے خالق کے پاس پہنچ گیا۔ اب وہ تنہا نہیں۔ دیکھیے کتنے لوگ اسے یاد کررہے ہیں؟

- Advertisement -
آج کہیں جا کر ایک سال مکمل ہوا ہے۔ جامعہ کراچی کی جامع مسجد میں ایک گوشے میں آصف فرخی کھڑے نظر آئے۔ نمازِ عصر کے لیے سب جمع ہو رہے تھے۔آنے والوں کی تعداد آج معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ نمازِ عصر کے بعد سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر معصوم علی ترمذی کی نمازِ جنازہ ادا ہونی تھی۔ پورا ایک سال بیت گیا۔ آصف فرخی رشتے میں ان کے بھانجے تھے۔
 
یہ بھی کیا اتفاق ہے کہ ترمذی صاحب مرحوم، آصف فرخی مرحوم اور ان کے والد ہمارے بزرگ پروفیسر ڈاکٹر اسلم فرخی مرحوم اسی جون کے مہینے میں ہم سے جدا ہوئے۔
 
سب سے پہلے 15 جون 2016 میں اسلم فرخی صاحب داغِ مفارقت دے گئے۔ میں جب جامعہ کراچی انجمنِ طلبہ کا 1984 میں صدر منتخب ہوا تو پروفیسراسلم فرخی صاحب کے پاس رجسٹرار کا عہدہ بھی تھا اور وہ ہمارے ساتھ سنڈیکیٹ میں بھی تھے۔
 
12 جون 2019 کے دن پروفیسر معصوم علی ترمذی صاحب رخصت ہوئے ۔ہم نے جب جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو وہ شیخ الجامعہ تھے اور 1981 میں ان ہی کے دور میں ہم انجمنِ طلبہ جامعہ کراچی کے معتمدِ عمومی منتخب ہوئے۔ یہی وہ دور تھا جب آصف فرخی سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی وہ ہمارے ہم عمر تھے۔ ڈاؤ میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔
 
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ بھی کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر چلے گئے اور ہم بھی ایک طویل عرصہ باہر رہے۔ سات سمندر پار ایک ہی برِ اعظم اور ایک ہی ملک میں ہوتے ہوئے رابطہ نہ ہوا۔
رابطہ ہوا تھا کوئی بارہ چودہ سال کے وقفے کے بعد ہماری قومی فضائی میزبان کے تعاون سے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر جب صبح آٹھ بجے کراچی کے لیے روانہ ہونے والی پرواز دوپہر ایک بجے روانہ ہوئی۔ تین چار گھنٹے زمانہءطالبعلمی، اساتذہ، اڑوس پڑوس وغیرہ کو یاد کرتے پلک جھپکتے گزرگئے۔ پھر تو کچھ معمول ہی بن گیا کہ کئی بار آصف سے ملاقات ہوائی اڈّے کی انتظار گاہ میں ہوجاتی۔
 
غالباً 2002 کی بات ہے ایک رات مری کی مال روڈ پر ٹہلتے ہوئے ملاقات ہوگئی۔ میں نے دیکھتے ہی کہا “مسافر ایسے ہی ملا کرتے ہیں”. کہنے لگے “ہم تو آپ کو ہی ڈھونڈنے کے سفر میں ہیں”. “مری میں؟” میں نے تعجب کا اظہار کیا۔ مسکرانے لگے۔ اس وقت تک موبائل فون کا زمانہ نہیں تھا اور جامعہ کراچی میں ہماری رہائش گاہ پر نیا نیا فون لگا تھا۔ کہنے لگے بڑا تلاش کیا رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں کوئی سائنسی یا طبی معلوماتی کتابچہ لکھوانا ہے۔ اس زمانے میں وہ یونیسف سے وابستہ تھے۔
 
ایک بار یونیسف کے ایک صاحب جامعہ کراچی میں ہی پروفیسر عابد حسنین کے دفتر میں ملے۔ عوام کو آیوڈین ملا نمک استعمال کرنے کی ترغیب دینے کی کسی تشہیری مہم کی بات ہورہی تھی۔میں نے عرض کیا کہ آپ کا نعرہ ہی غلط ہے۔ “آیوڈین ملا نمک” تو ملاوٹ کا پیغام دے رہا ہے اور لوگوں کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ کہنے لگے پھر کیا ہونا چاہیے؟ ہم نے تجویز کیا ” نمک میں آیوڈین، نشو نما بہترین”
 
چند روز بعد ان صاحب کا فون آیا کہ فلاں دن فلاں وقت پی ایم اے ہاؤس آجائیے آگاہی مہم ہے۔ ہم گئے تو دیکھا سب سفید ٹی شرٹس پہنے مارچ کرنے تیار ہیں اور ٹی شرٹس پر لکھا ہے ” نمک میں آیوڈین، نشو نما بہترین” ۔اچانک آصف فرخی سامنے سے نمودار ہوئے اسی ٹی شرٹ میں ۔ ہم نے بتایا کہ یہ فقرہ ہماری اخترا ع ہے ۔بڑے حیران ہوئے کہنے لگے انہوں نے تو کسی کو نہیں بتایا۔بڑے ناراض ہوئے۔کہنے لگے میں بات کروں گا۔
آصف فرخی، زندگی میں اور بالخصوص تخلیقات کے معاملے میں ایک سچّے اور ایماندار آدمی تھے۔ اپنی تحریروں کے حوالے سے انتہائی پراعتماد۔ سائنس کا طالبعلم ہونے کے باعث ان کی تحریر میں توازن، ترتیب، تنوع اور تقابل ہمیشہ ایک ایسا ڈھانچہ تیار کرتا تھا جس پر کہانی کسی پرشکوہ عمارت کی طرح یا کسی حسین وجمیل سراپے کی طرح سر اٹھا کر کھڑی ہوجاتی تھی۔ علوم و ادب کے مختلف ثمرات سے کشید کی گئی سوچ نے آصف فرخی کی تخلیقی استبداد کو ایسا منفرد رنگ عطا کیا تھا کہ عالمی سطح پر اسے امتیاز حاصل ہوا۔
 
یکم جون کی شام آصف کی خالہ نے فون پر مجھے اطلاع دی کہ ابھی کچھ دیر ہوئی وہ رخصت ہوگیا۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ کہیں کوئی خبر نہیں تھی۔ نہ میرا دل چاہا نہ مجھے ہمت ہوئی کہ میں فیس بک وغیرہ پر سب سے پہلے یہ دل شکن خبر سنانے کا اعزاز حاصل کروں۔ میں خاموشی سے تدفین کے انتظامات میں لگ گیا۔
 
گھنٹا ڈیڑھ گھنٹے بعد آصف کی والدہ محترمہ پروفیسر تاج صاحبہ اور مرحومہ پروفیسر نسیمہ بنتِ سراج، اہلیہ معصوم علی کی بہن پروفیسر قدوسی بیگم کاظمی اوران کے میاں پروفیسر افضل کاظمی صاحب غریب خانے پر تشریف لائے کھڑے کھڑے تدفین کے انتظامات کا پوچھا اور روانہ ہوا۔ جاتے ہوئے پروفیسر قدوسی نے جھک کر کھڑکی سے جھانکتے ہوئے مجھے مخاطب کرکے کہا “وہ بہت پریشان تھا، بہت تنہا تھا نا”.
 
وہ جس نے ایک زمانے کو اپنی کہانیوں سے محظوظ کررکھا تھا خود اپنے دل میں کتنا تنہا تھا۔ ادباء، شعراءاور تخلیق کاروں کا تنہا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ہمارا خالق بھی تو تنہا ہے، یکتا ہے۔ آصف اپنے خالق کے پاس پہنچ گیا۔ اب وہ تنہا نہیں۔ دیکھیے کتنے لوگ اسے یاد کررہے ہیں؟ کتنے لوگ اس کے بغیر تنہا ہیں؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 
ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین