آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

اگر مولانا آزاد قائد اعظم کا ساتھ دیتے؟ – رضی الدین سید

مولانا آزاد کا ہندوتوا کا حلیف بن کر لادینیت کے سیکولرازم نظام کا علمبردار بننا دراصل قرآن حکیم کے واضع احکاماتِ الہی سے کھلا انکار ہے

- Advertisement -
مولانا ابو الکلام آزاد کو چاہنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کا وجود ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ اسی لیے مولانا آزاد کے ہندوتوا حلیف موقف کو بنیاد بنا کر وطن ِ عزیز میں بار بار اس بحث کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ آیا پاکستان کی تخلیق درست ہوئی تھی یا غلط! اور یہ کہ مولانا آزاد کی پیش گوئیاں آج کس قدر درست یا نا درست ثابت ہورہی ہیں؟
 
اس بلا وجہ کی شرارت کا مقصد قوم کو، جو پہلے ہی کئی قسم کے ذہنی و دینی انتشار کا شکار ہے، دانستہ طور پرایک نئےانتشار میں مبتلا کرنا تھا۔ حالانکہ یہ وہی مولانا ابوالکلام آزاد ہیں جن کے خیالات وافکار کو ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں نے، جن میں کراچی کی اردو داں آبادی کے آبا و اجداد بھی شامل ہیں، تحریک ِ پاکستان کے دنوں میں یک زبان ہو کر مسترد کر دیا تھا اور اپنی وابستگی محض اور محض قائد اعظم ہی سے رکھی تھی۔ کون نہیں جانتا کہ اس دور کا مقبول ترین نعرہ ہی یہ بن گیا تھا کہ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘۔ (یعنی تو اگر مسلمان ہے تو کہیں اور نہ جا بلکہ صرف مسلم لیگ میں آ
 
کس قدر حیرت کی بات ہے کہ تحریکِ پاکستان کے دوران مسلمانانِ ہند نے قائدِ اعظم کے مقابلے میں مولانا آزاد کو پرِکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دی تھی۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس وقت بھی اس بات کا دھیلے کے برابر برا نہیں منایا تھا جب قائدِ اعظم نے مولانا آزاد کوعلی الاعلان ’’کانگریس کا شوبوائے ‘‘ کہہ کر پکاراتھا۔ مطلب اس طنز کا یہ تھا کہ ہندوئوں کے اندوہ محض دکھاوے کے مسلمان صدر ہیں! لیکن افسوس کہ اپنے درپردہ مقاصد کی خاطر انہی بانیان و کارکنان ِ پاکستان کی بعض اولادیں آج قائد اعظم کو مسترد کرکے مولانا ابوالکلام آزاد کے خیالات کی مالا جپ رہی ہیں۔
 
مولانا ابوالکلام آزاد ویسے تو ایک بہت بڑے عالم دین تھے اور دین کی انقلابی دعوت کا آغازاس دور کے بھارت میں سب سے پہلے انہی نے کیا تھا۔ لیکن محض ایک ڈیڑھ سال کے عرصے کے بعد ہی صدا لگا کر وہ نہ جانے کیوں اچانک ’چانکیہ سیاست ‘کے گلی گوچے میں جا نکلے اور اس طرح جان کلے کہ اسلام کا تمام بوریا بستر بھی لپیٹ کر اپنے ساتھ لے گئے
 
اسی باعث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک دور میںان کے بارے میں بہت خوبصورت اور جامع تبصرہ کیا تھاکہ ’’ مولانا نے نماز کے لیے اذان تو دی ، مگر اس کے بعد جا کرخود گہری نیند سوگئے‘‘۔ (مفہوم)۔ ملک کے عوام سے راقم کا سادہ سا سوال ہے کہ آخر کوئی وجہ تو ایسی ہوگی کہ اس دور کا مسلم سوادِ اعظم، قائدِ اعظم کے سوا دوسرے کسی بھی رہنما کی بات سننے کو تیار نہیں تھا؟ بلکہ سننا تو درکنار، پاکستان مخالف شخصیات کو وہ مسلمانوں کے مستقبل کا دشمن گردانتا تھا، خواہ اس شخصیت کا قد و قامت کتنا ہی بلند کیوں نہ پایا جاتا تھا!
 
حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا نے مسلمانانِ ہند کے لیے سوادِ اعظم سے ہٹ کر’وطن کی بنیاد ‘ کو اسلام سے ہٹ کر ’’ سرزمین‘‘ کو قرار دیا تھا۔ ذیل کی سطور قارئین کے سامنے ہم ان کے انہی خیالات و احساسات کو واضح کرنے کی خاطر رکھ رہے ہیں۔
اسی کے ساتھ ان کی شخصیت کے کچھ دیگر پہلو بھی ہم علامہ اقبال رحمۃ اللہ کی زبانِ مبارک سے پیش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ خیالات علامہ اقبال کی اس حالت کے دوران ( جنوری 1938) کے ہیں جب کہ وہ بستر مرگ پر زندگی و موت کے دوراہے پر لیٹے ہوئے تھے۔ آج تو مولانا آزاد سے کم از کم ساٹھ سال کی دوری پر کھڑے ہیں، لیکن علامہ اقبال تب مولانا ابوالکلام آزاد کے بالکل ہم عصر تھے اور ان کے خیالات و افکار سے ہم سے کہیں زیادہ واقف تھے۔
 
کتاب ہے۔ ’’علامہ اقبال کے حضور‘‘ حصہ اول۔ اور راوی ہیں ان کے تیماردار معروف مصنف پروفیسر سید نذیر نیازی جو خود بھی ایک عظیم اسکالر تھے۔ علامہ کے حضور ان دنوں وہ تقریباً روز ہی موجود رہا کرتے تھے اور تبرک سمجھتے ہوئے ان کی گفتگو کو اسی وقت ڈائری کی شکل میںنوٹ بھی کرلیا کرتے تھے۔
 
پروفیسر نذیر نیازی لکھتے ہیں کہ مولانا آزاد کے نظریات کے بارے میں علامہ اقبال گاہے گاہے یوں تبصرہ کیا کرتے تھے۔
 
 اس (مولانا ابوالکلام آزاد کے نظریے) سے زیادہ مہلک روش اور کیا ہوگی کہ مسلمانوں کی حیثیت (محض) ایک مذہبی برادری کی رہ جائے۔ ایسی آزادی تو غلامی سے بھی بدتر ہوگی۔ انگریزوں اور ہندوئوں کی تو پہلے ہی سے یہ خواہش رہی ہے کہ جہاں تک سیاست کا تعلقہے، مسلمان مذہب کو خیرباد کہہ دیں۔ (صفحہ:262)۔
 
 کیا اسلام کی اس تعبیر کے پیش نظر جو انہوں نے ’’ الدین‘‘ اور ’’الاسلام‘‘ کی شکل میں پیش کی ہے، مسلمان سیاست کو مذہب۔ سے الگ رکھیں؟ اپنے لیے جداگانہ قومیت کا مطالبہ نہ کریں؟ (اور)اس گروہ میں شامل ہوجائیں جس کی بنیاد اشتراکِ وطن پر ہے؟
 
 میں نہیں جانتا کہ مولانا (آزاد) کا مافی الضمیر کیا ہے؟ لیکن اگر وہی کچھ ہے جو میں سمجھا ہوں تو ان کے غورو فکر میں ایک تو وہی دلیل کام کررہی ہے جس کا تعلق لادینی سیاست سے ہے اور جس کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست اور کلیسا میں تفریق کی جائے۔ دوسری (دلیل) مذہبی ہے کہ ’’ادیان سب ایک سے ہیں۔‘‘ اور یہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ دین فی الحقیقت کوئی اصولِ اجتماع نہیں ہے بلکہ(محض) ایک اخلاقی نصب العین (ہے) جس کی آرزو ہے کہ دنیا میں ہر کہیں (بس) خیر و صداقت کی تحریک ہو (اور) شرافت اور نیکو کاری کا دور دورہ رہے۔ ( صفحہ: 327)۔۔
 
 دین میں تفرقے کی ایک صورت یہ بھی ہے ۔ (یعنی مذہب کو سیاست سے الگ کردو۔ سید) (ص:331)۔۔
 
  یہ امر بڑا افسوسناک ہے کہ کسی شخص کا علم و فضل، یا احترامِ ذات ، ہمیں حق گوئی سے باز رکھے۔ اور وہ بھی ان مسائل میں جن کا تعلق اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ہے۔(س۔ 53)۔۔
 
-6- یہ بہت بڑی غلطی ہوگی کہ جب ہم حق و صداقت پر زور دیں، یا اسلام کے حوالے سے اسے سمجھانے کی کوشش کریں، تو اس طرح کہ بجائے اسکے کہ لوگ اسلام کی طرف آئیں، ہمارا اپناایمان و یقین (بھی) اس میں مضمحل ہو جائے۔ حتیٰ کہ بطور ایک ہئیتِ اجتماعیہ اور نظامِ مدنیت کے ،ہم اس کی جامعیت اورکلیت (کی خصوصیات)کو نظر انداز کردیں۔
 
 یہ سمجھ لیں کہ یہ انسانی روابط ہوں یا تہذیب و تمدن کی دنیا، ہم اس میں اسلام کے پہلو بہ پہلو دوسری گروہ بندیاں بھی قائم کرسکتے ہیں اور اس کے باوجود اپنا سامخصوص نصب العین اور جداگانہ تشخص (بھی) برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگاکہ ہم اسلام کو چھوڑ کر کبھی ایک اصول ِ حیات کا رخ کریں (اور) کبھی دوسرے کا! یہ امر تو دین کے منافی ہے۔ دین کا ایک ہی اصل الاصول ہے۔ اور وہ اسلام ہے۔ (ص:33۔332)۔۔
 
 ارضِ بلقان میں جذبۂ وطنیت کو (اسی لیے) ابھارا گیا کہ یہ خطہ اول توچھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ جائے اور پھر یہ ریاستیں دولتِ عثمانیہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں تاکہ یورپ میں اس دولتِ عثمانیہ کا اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے (ص 336)۔۔۔
 
  پروفیسر سید نذیر نیازی کی مرتب کردہ مذکورہ کتاب میں ایک تاریخی واقعہ یہ بھی دیا ہوا ہے کہ اسی دور میں اوقاف اور مساجد کے تحفظ کے لیے جو مسودہ اسمبلی میں مسلمان رہنمائوں کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، اسے برطانوی حکومت کے مسلم وزیر سر سکندر نے مسترد کر دیا تھا جس کی مبارکباد مولانا ابوالکلام آزاد نے خود بھی سر سکندر کو دی تھی۔
 
 کتاب کے مرتب کنندہ اس بات پر حیرت و تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس معاملے میں مہاتما گاندھی تو سر سکندر کو مبارکباد دینے میں حق بجانب تھے ، لیکن مولانا ابو الکلام آزاد نے یہ مبارکباد انہیں کس لیے دی تھی؟ یہ بات آج تک سمجھ میںنہیں آئی۔ ( صفحہ:432)۔۔
 
تحریکِ پاکستان کے ایک اور کارکن اور مؤرخ قاضی عبدالحنان مرحوم (کراچی) نے بھی اپنی کتاب میں مولانا ابوالکلام آزاد کے بار ے میں کچھ تبصرے کیے ہیںاور وہ بھی اس لائق ہیں کہ ان کا مطالعہ کیا جائے، تجزیہ کیا جائے، اور غورو فکر کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں۔
 
قائدِا عظم نے مولانا ابوالکلام آزاد سے کہا ’’میں آپ سے خط و کتابت یا کسی اور ذریعے سے گفتگو کے لیے تیا ر نہیں ہوں کیونکہ آپ نے مسلمانوں کا اعتماد بالکل کھو دیا ہے۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ آپ کو ایک ’’شو بوائے‘‘ صدر بنا کر رکھا گیا ہے؟ آپ نہ ہندوئوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ مسلمانوں کی۔ اگر آپ کے اندر عزتِ نفس کی ایک رمق بھی باقی ہے، تو آپ (کانگریس کی صدارت سے۔ سید ) مستعفی ہو جاتے‘‘۔
کتاب ’’ میرِ کاررواں ‘‘۔ رہبر پبلشرز کراچی۔ قاضی عبدالحنان۔ صفحہ: 239۔۔
 
مرحوم قاضی عبدا لحنان نے تبصرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ (قاضی صاحب کے اپنے الفاظ میں) ’’مولانا آزاد وہ بزرگ ذات ہیں جس نے مسلمانوں کے سواد ِ اعظم سے کٹ کر ’’بت خانے‘‘ (ہندوستان۔سید) کی راہ لی۔ ان کے دلِ شوریدہ کو بیت اللہ سے پیدائشی تعلق ہونے کے باوجود گاندھی کے چرنوں میں سکون ملتا تھا۔ ‘‘ وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ ’’ یاد رہے کہ انہوں (آزاد) نے اپنے ’’رام گرو‘‘ (یعنی گاندھی۔سید) کے تحریری خطبۂ صدارت میں گاندھی جی کے لیے ’’عظیم و جلیل روح ‘‘ کے الفاظ استعمال لیے تھے‘‘۔ (ایضاً ۔ ص:237)۔۔
 
راقم الحروف کا کہنا ہے کہ کون نہیں جانتا کہ عالمِ دین اور مفسر قرآن مولانا ابو الکلام آزاد نے تحریکِ آزادیٔ ہند کی اپنی ساری زندگی منافقت سے پرگاندھی اور نہرو جیسی شخصیات کے ساتھ گزاری تھی اور خود کو مسلمانوں کی عظیم اکثریت سے دانستہ کاٹ لیا تھا۔ پھر یہ غلط فہمی بھی ہمیں یہاں دور کرلینی چاہیے کہ چونکہ تقسیم کے وقت بھارت میںرہ جانے والے مسلمانوں کی اکثریت نے ہندوستان کے حق میں ووٹ دیے تھے، تو وہاں آج اسی لیے مسلمانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔
 
بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان بھارتی مسلمانوں نے بھی پاکستان کی خاطرہی دل وجان سے حمایت کے ووٹ دیے تھے اور اس امر سے خوب واقف ہو کر دیے تھے کہ ان کے صوبے ( یو پی ، سی پی، حیدرآباد اور بہار وغیرہ) کسی بھی حال میں پاکستان میں شامل نہیں ہو سکیںگے کیو نکہ وہاںبھاری اکثریت ہندوئوں ہی کی پائی جاتی ہے۔ دل ان کے پاکستان کے ساتھ تھے مگر جغرافیائی لحاظ سے وہ مجبور تھے!کسی کو اس امر میں شبہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس دور کی تحریکِ پاکستان کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرے۔
 
یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے تب اتفاق رائے کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد جیسی جلیل القدر ہستیوں دونوں ہی کو مکمل طور پر مسترد کردیا تھا اور ان کی عظمت و جلال سے وہ مطلق مرعوب نہیں ہوئے تھے۔
 
تب شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی ’’ان بیچاروں کی ‘‘ لوگوں کو ہم یاد دلانا چاہتے ہیںکہ ستر کے عشرے تک پاکستان میں کوئی ایک بھی فرد مولانا ابوالکلام آزاد کو پسند کرنے والا نہیں تھا کیونکہ وہ انہیں قائد اعظم کا مخالف گردانتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ1951ء میں جب لیاقت علی خان کو راولپنڈی میںگولی مار کر شہید کیا گیا تھا تو عوام کو اس خبر سے خوشی نہیں بلکہ صدمہ ہوا تھااور انہوں نے سر عام یہ نعرہ لگاناشروع کردیا تھا کہ
 
’’ہائے لیاقت علی ۔تم پر گولی چلی
ہندوہنسنے لگے ۔ مسلم رونے لگے‘‘۔۔۔
 
ہمیں یاد ہے کہ بچپن میںبچو ں کی ٹولیوں کے ساتھ ہم بھی سڑکوں پر جو ش و جذبے کے ساتھ یہ کو رَس گاتے پھرتے تھے۔ لوگوں کے دلوں میںپاکستان کی محبت ان دنوں اتنی زیادہ اُبلا کرتی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میںشیخ عبداللہ نے جب وزارت عظمیٰ سنبھا لی تھی تو پاکستان میں لوگوں نے انہیں نا راضی کے عالم میں ’’غدار ‘‘ کا لقب دے دیا تھا۔
 
کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ نہرو کا ساتھ دے کر شیخ عبداللہ نے قائد اعظم اور عوام کے ساتھ غداری کی ہے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ شیخ عبداللہ کو نہرو کانہیں بلکہ پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وہ مسلم رہنما جو اس تحریک کے دوران پاکستان کے بدلے نہرو اور ہندوستان کا ساتھ دیتا تھا، مسلم ملت اسے متفقہ طور پر نظروں سے گرادیتی تھی۔
 
اس موقعہ پراس حقیقت کی بھی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت ہے کہ اتنی بڑی علمی، مذہبی و تحریکی شخصیت کی حیثیت رکھنے کے باوجود مولانا آزاد نے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد شاید ہی کوئی علمی و تحریکی کام کیا ہو۔ جو کچھ بھی انہیں کرنا تھا ، وہ بس تحریک آزادیٔ ہند، و مخالفت ِ پاکستان سے قبل ہی انہوں نے کیا اس کے مقابلے میں دوسرے بڑے عالم مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی نے پاکستان میںنہ صرف یہ کہ سیاست میں بھی بھر پورحصہ لیا، بلکہ اقامتِ دین کی مضبوط تحریک بھی ساتھ ساتھ چلائی اور قیمتی موضوعات پر لاتعداد کتابیں بھی تصنیف کیں۔
 
اب اس بات کی وضاحت کون کرے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قلم نے دینی و تحریکی موضوعات پرمزید قیمتی مواد دنیا کو دینا اچانک کیوں چھوڑ دیا؟ اور راستے میں انہیں تھکان نے کیوں آدبوچا؟ کسی نے اگر ان کی ابتدائی دور کی تحریروں کا مطالعہ کیا ہو تو محسوس ہوگا کہ ان میں حد درجہ زور بیان اور اسلام کی ہمہ گیریت پر انتہائی اعتماد موجود ہے
 
مولانا آزاد کے چاہنے والوں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ تحریک کے دنوں میں ان محترم شخصیات کو مسترد کر دینے والے بزرگ آخر تھے تو ’’تمہارے ہی آبائی؟ وہ تم ہی میں سے کسی کے باپ، چچا، دادا اور نانا اور خالو تھے ۔ انہی لوگوں نے اس وقت ان دونوں شخصیات کے پیچھے چلنے سے انکا ر کیا تھا تو پھر کس بنیاد پر وہ اب ان حضرات کے گن گاتے ہیں؟
 
انہیں تو اس دور کے حالات، واقعات، سیاسیات، مذہبیات اور پس منظر کا ذرہ برابر بھی علم نہیں ہے۔ لہٰذا پاکستان کے بننے کا سوال انھیں اب صرف اپنے مرحوم بزرگوں ہی سے پوچھنا چاہیے کیونکہ وہی اس بڑی تقسیم کے ذمے دار ہیں۔
 
افسوس اس قوم کے ان چند نادان اور ناشکرے لوگوں پر جو پیدا یہاں ہوئے تعلیم، عزت اور پہچان یہاں سے پائی اور اب جو چھیاسٹھ برسو ں کی طویل و آزاد زندگی گزارکراب بابائے قوم اور خود اپنے ہی والدین کے فیصلوں او ر قربانیوں کو کھلے عام غلط قرار دے رہی ہے اوراس شخصیت کو اپنا ہیرواور سر کا تاج قرار دے رہی ہے جس کو اس وقت کی تمام مسلم اکثریت نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا تھا ۔
۔۔
رضی الدین سیّد

میرے موقف کی بنیاد قرآن میں واضع احکاماتَ الہی ہیں

مشرک ہندوتوا کے حلیف گاندھی جی کے دل و جان کے ساتھی ، سیکولرازم کے لادینی نظام کے اٹوٹ انگ مولانا آزاد کی روح کے نام
سورہ نسآء آیت ۱۳۸ پارہ ۵
ترجمہ: منافقوں کو بشارت دے دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری اﷲ کے لئے ہے….

لہذا سب دنیاوی دلیلیں، سب سیاسی سب منطقیں اور سب خود ساختہ فلسفے قرآن حکیم کے واضع اور دو ٹوک احکام ِ الہی کے سامنے کلی باطل اور مطلق کفر ہیں

( فاروق درویش)

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین